استاد کے تعزیہ کی بنیاد 1810ء میں رکھی گئی‘ ساگوان کی لکڑی کا استعمال

استاد کے تعزیہ کی بنیاد 1810ء میں رکھی گئی‘ ساگوان کی لکڑی کا استعمال

  

ملتان (سٹی رپورٹر) آستانہ استاد والا سے بر آمد ہونے والا تعزیہ 188سال پرانہ ہے استاد والے تعزیہ کی بنیاد 1810میں رکھی تھی جو 1823میں مکمل ہو ئی تھی اس عرصہ میں دو سال تک(بقیہ نمبر41صفحہ12پر )

اس تعزیہ پر کام نہ ہو سکا تھا یہ تعزیہ ساگوان کی لکڑی سے بنائی گئی ہے جس پر اس دور میں بھی ہزاروں روپے کی اخراجات آئے تھے جس کو بنانے میں اہل محلہ نے خوب تعاون کیا ملتان کے ماہر کاریگر استاد پیر بخش نے اپنے شاگردوں کی مد د سے تیار کیا جن میں ان کے شاگرد خاص مقبو ل الدین ( شاگرد کا تعزیہ والے ) بھی شامل تھے استاد وا لا تعزیہ کی لمبائی 27فٹ جبکہ چوڑائی 8فٹ ہے اس تعزیہ کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں مینار ، گنبد ، روضہ مبارک حضرت امام حسین ، شبیہ بنائی گئی ہیں اس تعزیہ کی تزئین و آرائش یکم محر الحرام سے شروع کر دی جاتی ہیں جس کو 9محرم الحرام تک مکمل کرکے زیارت کے لئے رکھ دی جاتی ہے دس محرم الحرام کو آستانہ استاد والا سے بر آمد ہونے والے جلو س کے ہمراہ تعزیہ لیکر جا یا جاتا ہے جو اندرون پاک گیٹ ، پاک گیٹ ، حرم گیٹ سے ہوتا ہوا کربلا شاہ رسال میں اختتام پذیر ہوتا ہے ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -