رستم ،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں گھپلے کا انکشاف

رستم ،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں گھپلے کا انکشاف

  

رستم(نمائندہ پاکستان)رستم میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بارے میں ایک سکنڈل سامنے آیا ہے ، سرکاری اہلکار نے سینکڑوں متاثرین سے اندراج کے نام پر لاکھ روپے ہڑپ کر لئے۔تفصیلات کے مطابق رستم کے نواحی علاقہ جعفر آباد مچی کے رہائشی امجد فراز ولد مہردل نے ساتھیوں سمیت سدھوم پریس کلب رستم میں پریس کانفرنس کے دوران کو بتایا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام مردان کے اسسٹنٹ کمپلینٹ آفیسر تیمور خان نے مجھ سے کہا کہ آپ کے علاقے کے غرباء اورمستحقین کیلئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اندراج کرنا چاہتا ہوں آپ ان سے ضروری ڈیٹا اور فیس جمع کریں ، جس کے بعد پورے علاقے میں سروے کرکے ڈیٹا اور فی کارڈ2000روپے اکٹھا کرکے 45 لاکھ روپے تیمور خان کو دیدئیے ، تیمورخان نے بیوی کے ہمراہ ہمارے گاؤں کا دورہ کرکے خواتین کو پروگرام کے پٹیاں دئیے چند دنوں بعد معلوم ہوا کہ وہ جعلی تھے ، رقم کے واپسی مطالبہ کرنے پرتیمور خان مسلسل سات ماہ سے بہانے کررہاہے جبکہ ایک ماہ سے موبائل فون بھی بند ہے ، تیمور خان کے خلاف کاروائی کرنے اور ان سے رقم وصول کرنے کی خاطر ہم نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے افسران بالا اور ایف آئی اے میں درخواستیں بھی دیدی ہیں جس پر تاحال کوئی کاروائی نہ ہوسکی ، پروگرام کے بعض افسران بھی اس فراڈ میں شریک ہیں جس وجہ سے انہوں نے تیمور خان کا تبادلہ مردان سے بنوں کردیا ہے تاکہ وہ متاثرین کے نظروں سے دور رہے، امجد فراز نے میڈیا کو بتایا کہ میں نے متاثرین کو رقم دینے کیلئے اپنا گھر بھی بھیج دیا لیکن اب بھی بہت سے متاثرین کے پیسے باقی ہے انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈائریکٹر جنرل ، ایف آئی اے، انٹی کرپشن ، ڈی آئی جی اور ڈی پی او مردان سے مطالبہ کیا کہ وہ تیمور خان کے خلاف فوری کاروائی کریں بصورت دیگر اپنے بچوں اور بیوی سمیت خود سوزی کروں گا، جس کی ذمہ داری بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے افسران پر عائد ہوگی۔۔۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -