ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے 150گرلز کمیونٹی سکولوں میں ٹیلی تعلیم پراجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ

ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے 150گرلز کمیونٹی سکولوں میں ٹیلی ...

  

پشاور( سٹاف رپورٹر) خیبر پختونخواکے وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد عاطف خان نے کہا ہے کہ صوبے میں ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈ یشن کے تحت چلنے والے 14اضلاع کے 150گرلز کمیونٹی سکولوں میں ٹیلی تعلیم پراجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیاہے جس کے تحت چوتھی اور پانچویں جماعتوں کی طالبات کو انگلش، میتھس اور سائنس کے مضامین خصوصی طور پر پڑھائے جائیں اور بتدریج اس کا دائرہ کارفاؤنڈیشن کے تما م سکولوں تک بڑھادیا جائے گا۔ انہوں نے یہ فیصلہ پشاور میں ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔اجلاس میں سیکرٹری تعلیم ڈاکٹر شہزاد بنگش ، سپیشل سیکرٹری قیصر عالم ، فاؤنڈیشن کے نئے ایم ڈی ذوالفقار احمد،بورڈ کے ارکان اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام جاری مختلف پراجیکٹس اور پروگرامز خصوصاً گرلز کمیونٹی سکولز، اقراء فروغ تعلیم ووچرز سکیم اور تعمیر سکول پروگرام پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور انہیں کامیاب بنانے کے لئے کئی اہم فیصلے کئے گئے۔وزیر تعلیم نے کہا کہ مذکورہ فاؤنڈیشن سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے شانہ بشانہ معیاری تعلیم عام کرنے میں اہم کردار ادا کررہاہے ہماری پوری کوشش ہے کہ اس کو مزید مضبوط ومستحکم کیا جائے ،اس کی کارکردگی بڑھانے کے لئے اس کا سٹرکچر مزید بہتر کریں اور اس کے لرننگ پروگراموں کو موثر بنائیں۔عاطف خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ نئے آئیڈیاز کے ساتھ آگے آئیں اور مضبوط مالی نظم و ضبط وضع کریں۔انہوں نے کمیونٹی سکولوں کی تعداد بڑھانے اور اقراء فروغ تعلیم ووچرز سکیم کو وسعت دینے کی ہدایت کرتے ہوئے حکام سے کہاکہ وہ سکولوں سے باہر لاکھوں بچوں پراپنی توجہ مرکوز کریں اور اس کے لئے خصوصی لائحہ عمل بنائیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کی تعلیمی پالیسی اوراصلاحات کا واحدمقصدصوبے کے ہر بچے کو معیاری تعلیم سے آراستہ کرنا ہے لہذاس ا ہم مقصد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ہر حال میں تعلیمی اہداف کا حصول یقینی بنائیں گے۔ان کا مزیدکہنا تھاکہ ترقیافتہ خیبر پختونخوا کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے تعلیم کو عام کرنا ہوگا اور سرکاری سکولوں میں حقیقی تبدیلی لانی ہو گی کیونکہ ان سکولوں میں 40لاکھ سے زیادہ غریب اور متوسط طبقے کے بچے پڑھتے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -