قتل اور نعش جلانے کا مقدمہ‘ 2مجرموں کی سزائے موت برقرار

قتل اور نعش جلانے کا مقدمہ‘ 2مجرموں کی سزائے موت برقرار

  

ملتان ( خبر نگار خصوصی) لا ہور ہائیکورٹ ملتان بینچ نے خاتون کو 3 نوجوان بچوں سمیت قتل کرکے لاش کو آگ لگانے کے مقدمہ میں ملوث 2 رشتہ دارملزموں کی سزائے موت برقراررکھنے جبکہ 6 ملزموں کی سزائے موت اورعمرقیدکاحکم منسوخ کرکے بری کرنیکاحکم دیاہے۔فاضل عدالت میں ملزموں نے اپیل دائر کی تھی کہ تھانہ ٹھینگی وہاڑی میں 24 اگست 2010 ء کو نازیہ رؤف نے مقدمہ درج کرایا(بقیہ نمبر46صفحہ7پر )

کہ اس کے والد رؤف کونامعلوم افرادنے قتل کردیاجس پر تایاعبدالرزاق نے اس کے بہن بھائیوں پرملی بھگت سے والدکوقتل کرنے کا الزام عائدکرنے کے بعددیگر کزنزکے ہمراہ مسلح ہوکرگھرپر حملہ کردیااورفائرنگ کرکے اس کے بھائیوں خالد،ساجد،بہن سعدیہ اوروالدہ سلامت بی بی کو قتل کردیابعدازاں والدہ کی لاش پر پٹرول چھڑک کر آگ لگادی۔جس پر ایڈیشنل سیشن جج وہاڑی نے 3 اکتوبر2011 ء کو4ملزموں کوسزائے موت اور2 ملزموں کو عمرقید کاحکم دینے ک ساتھ عدالت پیش نہیں ہونے پر تایاعبدالرزاق کو اشہتاری قراردیا تھانیز ملزموں کے مطابق وہ بالکل بے گناہ ہیں اوررشتہ داری کی بناء پر انھیں مقدمہ میں ملوث کردیاگیاہے اس لئے انھیں بری کرنے کا حکم دیاجائے۔فاضل عدالت نے سماعت کے بعد ملزموں محمداسحاق اورضیاء احمدکی سزائے موت برقراررکھنے نیز ملزموں سردار،نذیراحمد،محمداحمداورنصیراحمدکی سزائے موت ،ملزموں رؤف اورسلامت کی عمرقیدمنسوخ کرکے بری کرنے کاحکم دیاہے۔

سزائے موت

مزید :

ملتان صفحہ آخر -