آزاد کشمیر میں جعلی ڈگریاں تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے عذاب بن گئیں

آزاد کشمیر میں جعلی ڈگریاں تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے عذاب بن گئیں

  

مظفرآباد(میر بشارت حسین سے)آزادکشمیر میں جعلی ڈگریاں تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے عذاب بن گئیں ۔مختلف یونیورسٹیز کے ڈگری بازار نے نوجوانوں کا مستقبل ختم کر دیا ۔سرکاری محکموں میں تعلیمی کوائف کی چھان بین بھی کرشمہ سازی کی نذر۔آزادکشمیر کے سرکاری محکموں میں ہزاروں کی تعداد میں ملازمین اور آفیسران جعلی تعلیمی اسناد کے حامل ہیں ۔الخیر یونیورسٹی کی ڈگریوں کو ہائیر ایجوکیشن تصد یق کرنے سے انکار۔2009کے بعد کی الخیر کی جاری کردہ تمام ڈگریاں منسوخ ہونے کے باوجود سرکاری ملازمین وآفیسران تنخواہیں اور مراعات بدستور لے رہے ہیں ۔سابق صدر راجہ ذوالقرنین خان ،سابق صدر سردار یعقوب خان اور موجودہ صدر سردار مسعود خان نے الخیر یونیورسٹی کی ڈگریوں پر دستخط سے صاف انکار کیا ہے ۔اس کی بڑی وجہ الخیر یونیورسٹی کی جاری کی گئی 78ہزار ڈگریوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہ ہونا ہے ۔نیو پورٹ یونیورسٹی کراچی نے بھی مقامی ہوٹل میں ڈگری بازار سجائے رکھا ۔بی ایس ،بی اے ،ایم اے ،بی ایڈ،ایم ایڈ ،ایل ایل بی اور پروفیشنل ڈپلومے فروخت کیے گئے ۔اس سلسلہ میں بھی کوئی تحقیقات نہ ہو سکی ۔آزادکشمیر میں میرپور تعلیمی بورڈ ،لاہور تعلیمی بورڈ،راولپنڈی تعلیمی بورڈ،فیڈرل بورڈ اور کراچی بورڈ کی تعلیمی اسناد کو بذریعہ کمپیوٹر ردوبدل کر کے مفادات حاصل کیے جا رہے ہیں ۔ایسے بھی ملازمین ہیں جو مسلسل دفاتر میں حاضر رہے اور بیک وقت یونیورسٹی میں بھی حاضر رہے ۔محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی بڑی تعداد کے پاس ایف اے ،ایف ایس سی ،پی ٹی سی ،سی ٹی ،بی ایڈ،ایم ایڈ کی جعلی یا پھر الخیر کی خرید کردہ ڈگریاں موجود ہیں ۔تعلیمی اسناد اور ڈگریوں کی چھان بین کیلئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کمیشن قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔آزادکشمیر میں ملازمین کو ذاتی طور پر اسناد تصدیق کرنے کیلئے کہا گیا ۔ملازمین کی بڑی تعداد نے راولپنڈی سے مہریں بنوا کر خود ہی اسناد تصدیق کر کے پیش کر دیں ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -