افسروں کے غیر ملکی اداروں سے تعلقات: درخواست گزار ، آئی بی اہلکار عدالت میں رو پڑے

افسروں کے غیر ملکی اداروں سے تعلقات: درخواست گزار ، آئی بی اہلکار عدالت میں ...
افسروں کے غیر ملکی اداروں سے تعلقات: درخواست گزار ، آئی بی اہلکار عدالت میں رو پڑے

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کےا فسر مختار احمد شہزاد نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں روتے ہوئے انکشاف کیا کہ خفیہ ادارے کے متعدد افسروں کے بھارت،ا فغانستان، شام، ایران اور دیگر ممالک کی ایجنسیوں سے رابطے ہیں,آئی ایس آئی سے ان افسروں کے خلاف تحقیقات کرائی جائیں۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے آئی بی کے متعدد افسروں اور اہلکاروں کے غیر ملکی خفیہ اداروں کے ساتھ روابط سے متعلق کیس سماعت کی، آئی بی کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر ملک مختار احمد شہزاد اپنے وکیل بیرسٹر مسرور شاہ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے اور بیان دیا کہ انٹیلی جنس بیورو پاکستان میں تعینات بعض افسروں و اہلکاروں کے شام، ایران، بھارت، افغانستان اور ازبکستان کے خفیہ اداروں سے تعلقات ہیں، ان الزامات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں اور ڈائریکٹر جنرل آئی بی کو بھی دستاویزی ثبوت پیش کرچکا مگر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ وطن سے محبت کی وجہ سے میں فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف عدالت آیا، اگر میرے الزامات درست ثابت نہ ہو تو عدالت جو سزا تجویز کرے تسلیم کروں گا۔ آئی ایس آئی اگر تفتیش کرے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔آئی بی کے افسر یہ بیان دیتے ہوئے آبدیدہ ہوگیا اور ہا کہ مجھے اس کیس سے ہٹنے اور چپ رہنے کیلئے دھمکی آمیز فون کالز آرہی ہیں۔

شاہ محمود قریشی کی نظر میری نہیں عمران خان کی کرسی پر ہے: خورشید شاہ

انہوں نے افسروں کو ایرانی بینک ال انصر کے ذریعے کی جانے والی لاکھوں روپے کی ادائیگیوں کی تفصیلات بھی عدالت میں جمع کرائیں۔ بعدازاں عدالت نے سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی آئی بی کو ذاتی طور پر طلب کرلیا جبکہ دونوں کو آئندہ سماعت سے پہلے تحریری جواب داخل کرانے کا حکم بھی دیا۔

مزید :

اسلام آباد -