بابا گورونانک جی یونیورسٹی واپس کردو

بابا گورونانک جی یونیورسٹی واپس کردو
بابا گورونانک جی یونیورسٹی واپس کردو

  

ننکانہ صاحب صوبہ پنجاب کا ایک مشہور تاریخی شہر ہے ، یہ سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک کی جائے پیدائش ہے۔اسی بناپر اسے سکھوں کے انتہائی مقدس مقام کا درجہ حاصل ہے۔

ننکانہ صاحب ضلع کاہیڈ کوارٹر بھی ہے۔ ضلع ننکانہ صا حب میں کل چار تحصیلیں شامل ہیں جو ننکانہ صاحب، صفدرآباد، سانگلہ ہلز اور شاہ کوٹ ہیں۔ننکانہ صاحب کا پرانا نام شہر رائے پور (Raipur) اور رائے بھوئی دی تلونڈی (Rai۔Bhoi۔di۔Talwandi) تھا۔ شہر کی آبادی لگ بھگ دو لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور شہر کا صوبائی دارالحکومت لاہور سے فاصلہ تقریباً 75 کلومیٹر ہے۔ سکھوں کا مذہبی مقام ہونے کی وجہ سے یہ شہر دنیا بھر کے سکھوں کی محبت اور عقیدت کا مرکز ہے۔ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سکھ یاتری یورپ اور ہمسایہ ملک بھارت سے ننکانہ صاحب آتے ہیں۔ننکانہ شہر میں اکثریت مسلمانوں کی ہے لیکن اس کی وجہ شہرت سکھ اور ان کا مقدس گوردوارہ جنم استھان بنا۔

کسی بھی شہر کی تعمیر و ترقی میں تعلیمی ادارے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ننکانہ صاحب میں سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی بھرمار ہے، لیکن زیادہ تر تعلیمی ادارے گریجوایشن تک کی تعلیمی سہولت مہیاکر رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے میری طرح ہزاروں طلبہ و طالبات لاہور، فیصل آباد اور دوسرے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔

ایک طویل عرصے سے اس شہر میں ایک یونیورسٹی کی کمی کو شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ ننکانہ صاحب کے گرد ونواح میں کوئی یونیورسٹی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال بہت سے طالب علم دور دراز کے شہروں کا رخ کرتے نظر آتے ہیں۔

یونیورسٹی کے قیام کی ضرورت کو پہلی مرتبہ 2006 میں محسوس کیا گیا اور مقامی نمائندوں کی کوشش سے 2007میں اس کی منظوری بھی ہو گئی۔اس یونیورسٹی کا نام "بابا گورونانک جی یونیورسٹی" رکھنے کا فیصلہ ہوا۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ آج 11 سال گزر جانے کے بعد بھی اس کا بس نام ہے۔ ابھی تک اس منصوبے پر سنجیدگی سے کام نہیں کیا گیا۔ ہونا تو یوں چاہیے تھا کہ اب تک یونیورسٹی میں کلاسسز ہو رہی ہوتیں۔ مگر یہاں تو ابھی عمارت کا سنگ بنیاد تک نہیں رکھا گیا۔بنیاد نہ رکھے جانے کے پیچھے اغیار کے ساتھ ساتھ اپنوں160کی بھی سازش شامل ہے۔ اس تاریخی شہر کو ، ایک مقدس ہستی کے نام سے منسوب یونی ورسٹی کو ، بزور دوسرے شہر میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

2007 میں منطوری کے بعد پیپلزپارٹی کی وفاق اور پنجاب میں ن لیگ کی حکومت آگئی اور پھر2013 میں ن لیگ ملک کی مختارکل بن گئی۔ 2013 کے الیکشن میں ایم این اے کی سیٹ پر کامیاب امیدوار رائے منصب علی خان اپنی مدت پوری کئے بغیر ہی اس جہاں سے کوچ کر گئے۔ دوبارہ الیکشن ہوئے اور اس دفعہ ان کی بیٹی ڈاکڑ شذرہ منصب کی جیت ہوئی۔ یعنی کرسی گھر میں ہی رہی۔ لیکن یونیورسٹی کی منتقلی کا حکم نامہ وہ بھی واپس نہیں کروا پائیں، دانستہ یا نادانستہ طور پر، شیخوپورہ گروپ کی سیاست میں شامل ہیں، ان کے فیصلوں اور ارادوں میں شامل ہیں، ورنہ یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ سکھوں کی بین الاقوامی کمیونٹی کی ایک کال پر پوری حکومت ہل کر رہ جاتی اور یونی ورسٹی کے دوسرے شہر منتقلی کا نوٹی فکیشن منسوخ ہوجاتا۔

باقی سیاست دانوں کی طرح ڈاکٹر صاحبہ نے بھی ابھی تک بہت باتیں کی ہیں، مگر ان باتوں پر عمل کس حد تک ہوتا ہے یہ دیکھنا باقی ہے۔ یونیورسٹی کے حوالے سے ڈاکڑ شذرہ منصب نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ یونیورسٹی کا ہیڈ آفس اسلام آباد میں بنے گا جبکہ یونیورسٹی ننکانہ صاحب میں ہی بنے گی۔ اس پر مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے والدکی اور میری کوششوں کی بدولت یونیورسٹی کے لئے ایک ارب مختص کر دیئے گئے ہیں جن میں سے دو کڑور آ بھی گئے ہیں۔ ان کا یہ بیان وزن رکھتا ہے اور یقیناََ عوام کو اس پر یقین بھی آگیا ہوگا۔ مگرمزہ تو تب ہے جب اس بیان کو عملی صورت دی جائے۔

حال ہی میں حکومت پاکستان کی جانب سے جو نوٹس جاری ہوا ہے وہ ڈاکٹر صاحبہ کے بیا نات کے الٹ ہے۔ اس نوٹس میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی کو مرید کے روڈ پر بنایا جائے گا جو کہ ضلع شیخوپورہ میں ہی شامل ہے۔ ننکانہ کے عوام کے لئے یہ کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ کیا ننکانہ صاحب کے عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے؟160 ڈاکٹر شذرہ نے قومی اسمبلی میں یونیورسٹی کے حوالے سے جو خطاب کیا ،اس کی تاریخ 5 جولائی 2017 ہے، جبکہ مرید کے روڈ پر یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ 12 جولائی کو جاری کیا گیا۔ان تضادات سے ڈاکٹر صاحبہ کی ذات شک کے دائرے میں آرہی ہے۔

ننکانہ کمیونٹی کی جانب سے اس پر خوب احتجاج کیا جا رہا ہے۔ننکانہ کے عوام کی جانب سے اپنا حق حاصل کرنے کے لئے شہربھر میں اور سوشل میڈیا پر مختلف تحریکیں چلائی جا رہی ہیں اور اس بات پر بھرپور زور دیا جا رہا ہے کہ ننکانہ کے عوام سے ان کا حق نہ چھینا جائے۔ یونیورسٹی کا نام ہی جب بابا گورونانک کے نام پر ہے تو اس کا مرکز کوئی دوسرا شہر کیسے ہو سکتا ہے۔ امید کرتا ہوں کہ عوام کو ان کا حق ملے گا اور ننکانہ میں بابا گورونانک جی یونیورسٹی کا قیام جلد از جلد عمل میں لایا جائیگا۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -