فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 225

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 225
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 225

  

اس روز باری سٹوڈیو میں داخل ہوئے تو سامنے ہی باری ملک تعمیرات کا جائزہ لیتے ہوئے نظر آ گئے۔ ہمیں دیکھ کرانہوں نے دوسری طرح رُخ کر لیا۔ ہمیں معلوم تھا کہ وہ ہم سے خفا ہیں کہ ہم نے اپنی فلم کی شوٹنگ ایورنیو سٹوڈیو میں کیوں شروع کر دی ہے؟

ہم ان کے پاس ہی چلے گئے ’’تسلیمات عرض ہے مہابلی۔ ظلِ الٰہی‘‘

انہوں نے سُرخ چہرہ ہماری طرف موڑا اور کہا ’’آفاقی! مجھ سے مذاق کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم نے میرے ساتھ دوستی نہیں نبھائی ہے‘‘

ہم نے کہا ’’باری صاحب‘ اگر جان کی امان پائیں تو کچھ ہم بھی عرض کریں‘‘

بولے ’’بولو!‘‘

’’اس طرح نہیں‘ آپ کے کمرے میں چل کر‘‘

’’ٹھیک ہے‘ آؤ‘‘ انہوں نے متعلقہ لوگوں کو ضروری ہدایات دیں اور اپنے دفتر کی طرف ہو لئے۔ ’’کہو‘ کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘ وہ بدستور ناراض تھے۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 224  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہم نے کہا ’’اتنے بڑے دربار میں آئے ہیں کچھ خاطر مدارت‘ مشروبات و فواکہات لازم ہیں‘‘

’’کتنی بار کہا ہے کہ میرے ساتھ آسان اردو بولا کرو‘‘

ہم نے کہا ’’مطلب یہ کہ کوکا کولا وغیرہ یا چائے کی پیالی بھی ہو تو ماحول خوشگوار ہو جاتا ہے۔ معاف کرنا۔ ویسے تو آپ آغا صاحب سے ہر بات میں مقابلہ کرتے ہیں مگر خاطرداری اور فیاضی میں ان سے کوئی مقابلہ نہیں ہے‘‘

انہوں نے گھنٹی بجائی اور چپراسی کو کوکا کولا لانے کا حکم دیا۔

ہم نے کہا ’’باری صاحب‘ ہم کئی دن سے آپ کے پاس آنا چاہ رہے ہیں مگر مصروفیات کی وجہ سے نہ آ سکے۔ آپ کی خفگی کا ہمیں علم ہو چکا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ کی خفگی بے جا اور شکایت بے معنی ہے‘‘

’’وہ کس طرح؟‘‘

’’آپ کو ہم سے شکایت کیا ہے؟‘‘ ہم نے پوچھا۔

بولے ’’تم میرے دوست ہو اور اپنی فلم کسی اور سٹوڈیو میں بنا رہے ہو‘‘

ہم نے کہا ’’باری صاحب! آپ تو خود کاروباری آدمی ہیں۔ بزنس کی مصلحتوں کو سمجھتے ہیں۔ یہ بھی جانتے ہیں کہ کاروبار میں دوستی اور دوستی میں کاروبار نہیں چلتا‘‘

’’آغا صاحب نے تمہیں کیا سہولت اور مراعات دی ہیں جو میں نہیں دے سکتا؟‘‘

ہم نے کہا ’’یہ بزنس سیکرٹ ہے لیکن سہولت اور مراعات دی ہیں تب ہی تو ہم وہاں شوٹنگ کرا رہے ہیں‘‘

بولے ’’یہ شرارت تمہارے ڈائریکٹر کی ہے۔ وہ آغا صاحب کا خاص بندہ ہے‘‘

حسن طارق سے ان کے اس وقت تک مراسم نہیں تھے۔ وہ ایورنیو سٹوڈیو میں اپنی فلمیں بناتے تھے اس لئے باری صاحب ان سے بھی ناراض تھے۔

ہم نے کہا ’’ڈائریکٹر بیچارے کا کوئی قصور نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ انسان کا دل اور حوصلہ بڑا ہونا چاہئے۔ دوستی اور خودغرضی میں فرق رکھنا چاہئے‘‘

’’کیا کہہ رہے ہو تم؟ میں خودغرض ہوں؟‘‘

ہم نے بھی صاف گوئی اختیار کر لی ’’ایسا ہی لگ رہا ہے۔ اگر آپ واقعی ہمارے دوست ہیں تو آپ کو ہمارے فلم ساز بننے پر خوشی ہونی چاہئے تھی مگر آپ ہم سے ناراض ہیں کیوں کہ ہم نے آپ کے سٹوڈیو میں فلم نہیں بنائی۔ یہ کیسی دوستی ہے؟‘‘

ان کا منہ سُرخ ہو گیا۔ ’’آفاقی! دوستی کا تقاضا تھا کہ تم میرے سٹوڈیو میں فلم بناتے‘ میری شکایت بجا ہے‘‘

’’جی نہیں۔۔۔ آپ کی شکایت بے جا ہے۔ یہ دوستی نہیں‘ خودغرضی ہے۔ آپ ہماری ایک بات کا جواب دیجئے۔ آپ فلم سٹوڈیو اونر ہیں۔ فلم ڈسٹری بیوٹر ہیں اور ہم ایک رائٹر۔ آپ نے اتنی فلمیں بنائیں مگر کبھی ہم سے کہانی نہیں لکھوائی۔ ظاہر ہے کوئی کاروباری مصلحت ہو گی مگر ہم نے تو آپ سے کبھی شکایت نہیں کی۔ نہ آپ سے ناراض ہوئے بلکہ آپ کی فلموں کی کامیابی پر خوش ہوتے ہیں۔ آپ کو کھلے دل سے مبارکباد دیتے ہیں۔ ہر طرح آپ کے کام آتے ہیں۔ اگر دوستی کا یہی تقاضا ہے تو آپ نے ہم سے کہانیاں کیوں نہیں لکھوائیں۔ ہمیں فلم ساز بننے کا موقع کیوں نہیں دیا؟ ہمیں سہولتوں کی پیشکش کیوں نہیں کی؟ اب ہم نے کسی طرح فلم شروع کر دی ہے تو آپ کو شکایت پیدا ہو گئی ہے کہ ہم آپ کے سٹوڈیو میں فلم کیوں نہیں بنا رہے ہیں۔ باری صاحب‘ بڑے افسوس کی بات ہے۔ یہ تو کوئی انصاف نہیں ہے!‘‘

باری صاحب خاموش ہو گئے۔ صاف لگ رہا تھا کہ وہ لاجواب ہو گئے ہیں۔ کچھ دیر بعد بولے ’’مجھ سے تم نے کہا تو ہوتا‘‘

ہم نے کہا ’’یہ تو کوئی بات نہ ہوئی اور پھر ہم دوستوں سے کاروباری یا مالی فائدہ اٹھانے کے حق میں نہیں ہیں۔ ہمارے خیال میں دوستی اور کاروبار کو ہمیشہ الگ ہی رکھنا چاہئے ورنہ نہ تو دوستی رہتی ہے اور نہ کاروبار‘‘

باری صاحب سوچ میں پڑ گئے۔

ہم نے کہا ’’ہم نے آج تک آپس میں کوئی بزنس نہیں کیا ہے۔ بہتر ہے کہ ہم آئندہ بھی دوست ہی رہیں‘‘ یہ کہہ کر ہم کھڑے ہو گئے۔

’’بیٹھو یار‘ چائے پی کر جانا‘‘

’’ہمیں طالش صاحب سے ضروری بات کرنی ہے۔ وہ چلے نہ جائیں‘‘ شکر ہے کہ اس کے بعد باری صاحب کی ناراضگی بھی دور ہو گئی اور شکایت بھی۔ آج تک ہمارے ویسے ہی بے لوث اور مخلصانہ تعلقات قائم ہیں۔

ہم آغا طالش کی تلاش میں ان کی فلم کے سیٹ پر پہنچ گئے۔ وہ کوٹ پتلون پہنے کھڑے تھے۔ ہمیں دیکھا تو مسکرائے ’’دیکھا‘ ان لوگوں نے مجھے کتنے اچھے کپڑے پہنائے ہیں۔ ایک تم ہو کہ ایک جوڑا کرتہ پاجامہ بنوا کر مطمئن ہو گئے ہو۔ سر پہ وگ لگوا دی۔ چہرے پہ گھنی داڑھی چپکا دی‘ میرا تو منہ ہی اکڑ جاتا ہے‘‘

ہم نے کہا ’’اتنا بڑا نواب بنا دیا ہے۔ حویلی‘ رعب داب‘ نوکر چاکر‘‘

’’خوب سمجھتا ہوں۔ ہر ایک کریکٹر سے مجھے بُرا بھلا کہلواتے ہو‘ جو اٹھتا ہے نواب صاحب کی بے عزتی کر دیتا ہے‘‘

ہم نے کہا ’’نواب صاحب بھی دوسروں کی بہت بے عزتی کر چکے ہیں‘ اب ان کی باری ہے۔ آغا جی۔ زمانہ بدل رہا ہے‘‘

وہ ہنسنے لگے ’’میاں تم سے باتوں میں کون جیت سکتا ہے۔ ڈائیلاگ رائٹر ہو۔کہو کیسے آئے ہو‘ ظاہر ہے کوئی کام ہو گا‘‘

ہم نے انہیں بتایا کہ ایک سیٹ پر چند گھنٹوں کیلئے انکی ضرورت پڑ گئی ہے۔

’’میاں اپنی اوقات میں رہو۔ میرا مطلب ہے کہ اپنی ڈیٹس میں رہو۔ میں نے کسی اور کیلئے تمہاری شوٹنگ خراب کی ہے جو تم دوسروں کا کام خراب کرنے آ گئے ہو؟‘‘

ہم نے عرض کیا ’’آغا صاحب! دوسروں کا کام تو بہتر ہو جائیگا‘‘

پوچھا ’’اچھا! وہ کیسے؟‘‘

ہم نے کہا ’’وہ ایسے کہ آپ کا کام فلم میں جتنا کم ہو گا فلم کی بہتری میں اتنا ہی اضافہ ہو گا‘‘

وہ ہنسنے لگے ’’باز آ جاؤ آفاقی‘ ورنہ وہی شعر سب کو سنا دوں گا‘‘

انہوں نے ہمارے لئے ایک شعر موزوں کیا تھا جو وہ اچھے موڈ میں سنایا کرتے تھے۔ وزن تک درست نہ تھا اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے شعر ’’ناموزوں‘‘ کیا تھا۔

آغا طالش اداکار تو بہت اعلیٰ پائے کے تھے ہی‘ انسان بھی بہت اچھے تھے۔ صاف گو‘ اصول پسند اور کام سے کام رکھنے والے۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی بڑے آرٹسٹ کو شوٹنگ کیلئے بلایا جائے اور دوسرے آرٹسٹوں کا کام ختم کرنے کی غرض سے ان کی شوٹنگ نہ کی جائے تو وہ بہت بگڑتے ہیں۔ بار بار ڈائریکٹر سے پوچھتے ہیں کہ ہمارا کام کب ہو گا۔ کام نہیں تھا تو ہمیں بلایا کیوں تھا؟ پروڈیوسر سے جھگڑتے رہتے ہیں کہ خواہ مخواہ بلا کر بٹھا لیا ہے‘ ہمارا وقت ضائع ہو رہا ہے۔ بہت کم آرٹسٹ ایسے دیکھے جن میں یہ عادت نہیں ہے۔ آغا طالش بھی ان ہی میں سے ایک تھے۔ وہ صبح ٹھیک وقت پر سٹوڈیو پہنچ کر میک اپ کرکے اور لباس پہن کر تیار ہو جاتے ۔ اب شام تک آپ ان کی طرف سے بے فکر ہو جائیں‘ وہ آپ کو مطلع کر دیں گے کہ وہ کہاں ہوں گے اور بس۔ اگر شام کو انہیں بتایا جائے کہ آج آپ کا کام ہی نہ ہو سکا کل صبح آئیے گا تو وہ خندہ پیشانی سے مسکراتے ہوئے گھر چلے جاتے ہیں۔ شکایت کا ایک لفظ بھی زبان پر نہیں لاتے۔

آغا طالش کا کہنا تھا کہ ہم نے پروڈیوسر کو جو ڈیٹ دی ہے اسے اختیار ہے کہ اسے استعمال کرے یا نہ کرے۔ ظاہر ہے کہ وہ بلاوجہ تو آرٹسٹوں کو بلا کر نہیں بٹھاتا۔ یقیناً کوئی مجبوری یا مصلحت ہوتی ہو گی۔ ایسی صحت مندانہ سوچ بہت کم آرٹسٹوں کی ہوتی ہے۔ وحیدمراد میں بھی یہی خوبی تھی جن دنوں وہ انتہائی عروج پر تھے اور بیحد مصروف تھے اس وقت بھی ٹھیک وقت پر شوٹنگ کیلئے پہنچتے تھے اور ہدایتکار سے کبھی تقاضا نہیں کرتے تھے کہ میرا کام کب ہو گا؟(جاری ہے )

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 226 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

فلمی الف لیلیٰ -