قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 76

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 76
قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 76

  

اساتذہ کے ساتھ میری ایک ساتھ سب سے زیادہ ملاقاتیں 1958 ء میں دہلی کے چیمسفورڈ کلب کے مشاعرے میں ہوئیں۔ اس میں جوش‘ جگر ‘ روش صدیقی ‘ پنڈت ہری چند اختر‘ یاس یگانہ چنگیزی‘ فراق گورکھپوری اور دیگربڑے شعراء شامل تھے۔ وہاں جگر صاحب کے نیاز بھی حاصل ہوئے۔ ان کا پاکستان میں بہت آنا جانا رہا۔ میں محسوس کرنے لگا کہ بعض لوگوں میں شکل صورت اور عادتوں میں افرادیت پیدا کرنے کیلئے طریقے خود ساختہ ہوتے ہیں۔

اس سے پہلے میں مولانا طاہر القادری کو جانتا تھا ۔ وہ بھی پہلے بالوں میں کنگھی کر کے ہاتھ سے بال اس طرح خراب کر دیتے تھے جیسے وارفنگی میں ازخود ہو جاتا ہے ۔ میں نے جگر صاحب کو محسوس کیا کہ ان کا ازاد بند لٹکا رہتا ہے اور جب میں نے نوٹ کیا تو پتلا چلا کہ یہ ان کی دانستہ عادت ہے ۔ بلکہ انہوں نے یہ ایک قسم کی اپنی پہچان بنا رکھی تھی۔ اس زمانے میں مجھ میں شوخی زیادہ تھی۔ مگر اس کے باوجود میں ہر بزرگ کا احترام بھی کرتا تھا۔ اور وہ اب بھی کرتا ہوں۔ مگر پھر بھی ذرا لطف لینے کیلئے میں بعض اوقات شرارتیں بھی کر دیتا تھا۔ چنانچہ لائل پور کے مشاعرے میں جس میں پنڈت ہری چند اختر‘ قاسمی صاحب اور مجید لاہوری وغیرہ شامل تھے میں نے کہا کہ آئیے ذرا جگر صاحب سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ میں نے مجید صاحب سے کہا ’’آپ انہیں کسی طرح کہہ دیں کہ آپ کا ازاد بند لٹک رہا ہے اور دیکھئے پھر کیا ہوتا ہے ‘‘

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 75 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’ اس کے بعد کیا ہونا ہے۔ آپ ان کا ازاد بند ٹھیک کروا دیں گے تو میں شرطیہ کہتا ہوں کہ پندرہ منٹ کے بعد پھر ان کا ازاد بند لٹک رہا ہو گا‘‘

خیر مجید صاحب گئے۔ یہ کہنے لگے’’ اسلام علیکم جگر صاحب کیا حال ہے ؟ خیریت ہے ؟ ‘‘اور پھر کہنے لگے ’’ جگر صاحب آپ کا نالہ پابند نہیں ہے ‘‘

جگر صاحب کہنے لگے ’’معاف کیجئے گا‘‘ اور اپنا ازار بند اوپر اڑس لیا۔ پندرہ منٹ کے بعد دیکھا تو پھر ازاد بند لٹک رہا تھاجس پر میں ان کے پاس گیا اور کہا’’ جگر صاحب آپ کا ازاد بند لٹک رہا ہے‘‘

کہنے لگے ’’معاف کیجئے گا ‘‘اور پھر ازار بند اڑس لیا۔ کوئی پندرہ بیس منٹ کے بعد دیکھا تو وہی صورت تھی۔ میں نے ہر ی چند اختر صاحب سے کہا کہ اب آپ ذرا کچھ کریں ۔ وہ ان کے پاس گئے اور آداب بجا کر کہنے لگے ’’ میں حیران ہوں کہ یہ ازاد بند سوت کا ہے ‘ ریشم کا ہے ‘ یا پلاسٹک کا ہے ‘‘

کہنے لگے ’’کیوں‘‘

کہنے لگے ’’ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ اسے اوپر کرتے ہیں اور یہ پھر باہر نکل آتا ہے ۔ اگر آپ فرمائیں تو لائل پور میں سوتی ازار بند بہت اچھے ملتے ہیں۔ میں یہاں سے آپ کو وہ لادوں‘‘

کہنے لگے ’’جی ہاں جی ہاں‘‘ تھوڑی دیر بعد دیکھا تو پھر بھی ازار بند لٹک رہا تھا۔

میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ انہوں نے ازار بند کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا رکھا تھا۔ حالانکہ بڑے بے نیاز‘ بڑے شفیق اور بڑی محبت کرنیوالے آدمی تھے لیکن کبھی کبھی ان میں یہ عادت بھی ہوتی تھی کہ اپنی کوئی نئی چیز جب لکھ لیتے تو وہ سنانا چاہتے تھے ۔ غالباً روش صدیقی نے یہ بات بتائی تھی کہ جگر صاحب کی یہ عادت ہے اور اب انہوں نے ایک فارسی کی نعت کہی اور یہ سنانے کیلئے بے چین ہیں ۔ یہی ہوا ہم نے دیکھا کہ وہ اپنے معیار کے مطابق کسی آدمی کو تلاش کر رہے ہیں جسے یہ نعت سنائیں ۔ روش صاحب نے کہا ’’ اگر آپ تماشا دیکھنا چاہتے ہوں توجسے جگر صاحب سننے کو کہیں وہ ذرا ٹل جائے‘‘

یہ مشاعرے اور کھانے کے دوران کے وقفے کی بات ہے ۔ جگر صاحب قاسمی صاحب سے کہنے لگے ’’ قاسمی صاحب ایک نعت ہو گئی تھی ۔ فارسی کی اور میں وہ خاص طور پر آپ ہی کو سنانا چاہتا ہوں‘‘

قاسمی صاحب کہنے لگے ’’جی ہاں جی ہاں ‘‘ اسی دوران میں نے قاسمی صاحب کو آواز دی تو وہ مجھے مخاطب کر کے باتیں کرنے لگے۔ تھوڑی دیر بعد میں نے آنکھ ماری تو وہ اٹھ کر میرے ساتھ چلے آئے۔ جب باہر سے گھوم کر قاسمی صاحب واپس آکر بیٹھے تو جگر صاحب نے سوچا کہ اب وہ اپنی نشست پر واپس آگئے ہیں تو کہنے لگے کہ قاسمی صاحب میں نے عرض کیا تھا ’’فارسی کی ایک نعت ہوئی تھی جو میں خصوصی طور پر آپ کو سنانا چاہتا تھا‘‘

ادھر سے مجید لاہوری آگئے اور کہنے لگے ’’ قاسمی صاحب ذرا بات سنئے‘‘۔قاسمی صاحب اٹھ کر ان کے ساتھ اندر چلے گئے۔ دوبارہ یہ ہوا تو جگر صاحب سنانے کے لئے تلملا رہے تھے۔ اس کے بعد جب وہ سٹیج پر پہنچے تو پھر قاسمی صاحب سے کہنے لگے ’’ میں نے عرض کیا تھا کہ ایک نعت کہی ہے لیکن آپ کو موقع نہیں مل رہا۔ تو اگر آپ سٹیج پر ہی سن لیجئے تو بھی ٹھیک ہے‘‘

قاسمی صاحب کہنے لگے’’ جگر صاحب سٹیج پر سننے کا مزا نہیں آئے گا کیونکہ میں یکسوئی سے سن نہیں سکوں گا۔ بعد میں سن لوں گا ویسے تو آپ سے نعت سننا میرے لئے باعث سعادت ہے ‘‘ جگر صاحب چپ ہو گئے اور کہنے لگے’’ اچھا ٹھیک ہے پھر مشاعرے کے بعد سن لیجئے گا‘‘

جب مشاعرہ ختم ہوا تو سب شعراء اپنے کمروں میں جانے سے پہلے ایک بڑے کمرے میں چائے کیلئے آگئے۔ میں قاسمی صاحب کے ساتھ ہی بیٹھا تھا۔ جگر صاحب چلتے چلتے قاسمی صاحب کے پاس آگئے تو میں نے احتراماً اپنی نشست خالی کر دی۔ کہنے لگے ’’ قاسمی صاحب اگر موقع ہو تو میں اب وہ نعت عرض کر دوں‘‘ اتنے میں پروگرام کے مطابق کسی اور نے قاسمی صاحب کو آواز دی تو وہ جگر صاحب سے یہ کہہ کر اٹھ گئے کہ ذرا معاف فرمائیے۔ میں ابھی حاضر ہوتا ہوں۔ اس طرح رات تک ان سے نعت نہیں سنی گئی۔

صبح جب ہم اٹھے تو ہمارے ایک شاعر دوست آئے اور کہنے لگے کہ دیکھئے گا اب تھوڑی دیر کے بعد جگر صاحب آئیں گے۔ وہ رات سو نہیں سکے ہوں گے ۔ اس لئے اب ان سے یہ نعت سن لیجئے گا۔ وہی ہوا کہ ان صاحب کے بات کرتے ہوئے ہی جگر صاحب کمرے میں داخل ہوئے۔ ہم سب اٹھے اور قاسمی صاحب کہنے لگے ’’ قبلہ انتہائی افسوس ہے۔ میں رات بھر اس خیال سے سو نہیں سکا کہ آپ نے اتنی اچھی نعت کہی ہو گی جو مجھے سننے کا موقع ہی نہیں ملا۔ اس وقت اگر آپ کے پاس وہ نعت ہو تو ارشاد فرمائیے تاکہ ہم اس نعت ہی سے صبح کا آغاز کریں‘‘ یہ سن کر جگر صاحب کا چہرہ کھل اٹھا۔ فوراً شیروانی کی جیب سے انہوں نے وہ نعت نکالی اور سنانی شروع کی۔ ہم سب نے جی بھر کے انہیں داد دی اور ان کی ساری کوفت دور ہوئی۔ جہاں تک میں اس نعت کو سمجھ سکا بہت خوبصورت تھی۔ سوہم نے ان کی اس عادت کا خوب لطف اٹھایا۔(جاری ہے )

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 77  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

گھنگروٹوٹ گئے -