’’مجھے اشارہ کرکے باتھ روم میں بلایا تو دیکھا مولانا صاحب کموڈ پر بیٹھے ایک ایسا کام کررہے تھے کہ۔۔۔‘‘سینئر صحافی ضیا شاہد کا ایسا انکشاف کہ آپ پیپلز پارٹی کے جیالوں سے خوف کھانے والوں کی بے بسی کااندازہ کرسکیں گے

’’مجھے اشارہ کرکے باتھ روم میں بلایا تو دیکھا مولانا صاحب کموڈ پر بیٹھے ایک ...
’’مجھے اشارہ کرکے باتھ روم میں بلایا تو دیکھا مولانا صاحب کموڈ پر بیٹھے ایک ایسا کام کررہے تھے کہ۔۔۔‘‘سینئر صحافی ضیا شاہد کا ایسا انکشاف کہ آپ پیپلز پارٹی کے جیالوں سے خوف کھانے والوں کی بے بسی کااندازہ کرسکیں گے

  

لاہور(نظام الدولہ)سینئر صحافی ضیا شاہد پاکستان کی ممتاز ترین شخصیات کے قریب بھی رہے اور نا کے رازداں کابھی درجہ رکھتے ہیں ۔پیپلز پارٹی کے دور میں وہ وزیر مذہبی امور مولانا کوثر نیازی سے ایک کام کے سلسلہ میں ملنے گئے تو انہیں مولانا صاحب کے کام کرنے کا انوکھا انداز دیکھنے کو ملا ۔ضیا شاہد اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں’’ پیپلزپارٹی کا عوامی کلچر تھا کہ جیالے ہر جگہ گھس جاتے تھے۔ ایک بار کوثرنیازی نے فون کرکے مجھے بلایا۔ راجہ انور جو برادرم پرویز رشید کے ساتھ پیپلزپارٹی میں بہت سرگرم ہوتے تھے اور اب دونوں نوازشریف صاحب کی جماعت میں اہم عہدوں پر فائز ہیں ان دنوں میرے ہفت روزہ میں راجہ انور ’’ہٹ کے آ‘‘ کے نام سے سیاسی مزاحیہ کالم لکھتے تھے۔ انہوں نے اوپر نیچے کوثرنیازی کیخلاف کئی کالم لکھے۔ ان کو غصہ تھا کہ ہمارے مشترکہ دوست طارق عزیز کو جو عمر بھر سے ’’نیلام گھر‘‘ کے حوالے سے مشہور رہیں گے مولانا کوثر نیازی نے بھٹو صاحب کی زندگی پر فلم بنانے کے لئے سرمایہ فراہم نہیں کیا۔ مولانا اپنی پوزیشن کو واضح کرنا چاہتے تھے کہ ان کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے اور وزارت اطلاعات کے پاس کوئی فنڈ نہیں ہے کہ پانچ کروڑ کی خطیر رقم انہیں دی جائے۔ میں چنبہ ہاؤس پہنچا تو مین بلڈنگ سے پہلے انیکسی کی طرز کے کمروں میں جیالوں کا ایک ہجوم پایا۔ میں نے کئی لوگوں سے پوچھا کہ مولانا کہاں ہیں ہر جگہ سے جواب ملا کہ آپ انتظار کریں یہیں اس بلڈنگ میں کسی کے ساتھ الگ مشاورت کررہے ہیں۔ موبائل کا دور نہ تھا ،ورنہ فون کرکے پوچھ لیتا بار بار لوگوں میں گھرے ہوئے ان کے پی اے سے سوال کرتا دوسری تیسری بار پوچھنے پر میرا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا اور میں نے کہا’’ بھائی انہوں نے مجھے خود فون کرکے یہاں بلایا ہے آپ صرف انہیں اطلاع کردیں۔ اگر وہ مصروف ہوں گے تو میں خود اجازت حاصل کرکے چلا جاؤں گا‘‘ پی اے مجھے جانتا تھا اور کئی بار ان کے ساتھ میرے دفتر آچکا تھا۔ ان کا کمرہ پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ وہ بمشکل اپنی کرسی سے اٹھے اور میرا ہاتھ پکڑ کر لاؤنج نما برآمدے میں لے آئے اور پھر میرا ہاتھ چھوڑ کر بولے ’’ملنے والے بہت ہیں اور ان جیالوں کو کوئی نہیں روک سکتا بس آپ میرے پیچھے پیچھے اس طرح آئیں کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو‘‘

انہوں نے دو چار چکر لگائے اور جب کوئی ہمارا پیچھا نہیں کررہا تو اچانک ایک دروازہ کھول کر اندر چلے گئے ۔میں نے تعاقب کیا ۔یہ وی آئی پی لوگوں کے بیٹھنے کا کمرہ تھا لیکن مولانا یہاں بھی نہیں تھے۔ میں نے پی اے کو ہاتھ کے اشارے سے پوچھا’’کدھر ہیں‘‘۔ وہ بیڈ روم کے ساتھ جو چھوٹا سا ڈریسنگ روم ہوتا ہے اس میں گھس گئے اور ڈریسنگ روم میں سے باتھ روم میں چلے گئے۔

میں وہیں کھڑا حیران ہورہا تھا کہ اب کیا کروں‘ اتنے میں وہ تھوڑا سا دروازہ کھول کر باہر جھانکے اور تیزی سے مجھے اندر آنے کا اشارہ کیا۔ میں باتھ روم کا دروازہ کھول کر اندر گیا تو کموڈ بند کرکے مولانا اس کے اوپر بیٹھے ہوئے تھے اور ایک فائل میں لگی ہوئی درخواستوں پر دھڑا دھڑ دستخط کررہے تھے۔ مجھے ہنسی آگئی۔ مولانا نے کہا’’ ضیاصاحب! ہماری پارٹی عوامی پارٹی ہے جہاں آپ ورکر کو اندر آنے سے نہیں روک سکتے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ ہر جگہ ہجوم اتنا ہوتا ہے کہ چھپ کر آنا اور چھپ کر فرار ہونا پڑتا ہے‘‘ پھر بولے’’ باہر لوگ بہت ہیں میں معافی چاہتا ہوں یہیں میری بات سن لو‘‘ بیٹھنے کی اور کوئی جگہ ہی نہ تھی میں اور ان کا پی اے الماری سے پشت لگا کر کھڑے ہوگئے اور مولانا نے جلدی جلدی کہا ’’بھائی طارق عزیز صاحب اکیلے نہیں پانچ پارٹیاں ہیں جن میں سے تین کراچی کی ہیں‘ بھٹو صاحب کا ہر شیدائی ان پر فلم بنانا چاہتا ہے لیکن اپنے پیسوں سے نہیں بلکہ سرکاری پیسوں سے۔ بھٹو صاحب کسے خوش کریں اور کسے ناراض۔ انہوں نے میری بات سن کر کہا ہے کہ سب کو ٹال دو۔ اب ہر ایک سمجھتا ہے کہ میں جان بوجھ کر اسے پیسے نہیں دیتا۔ فلم تو دو اڑھائی کروڑ میں بھی بن سکتی ہے لیکن یہاں ایسے بھی ہیں جنہوں نے دس دس کروڑ روپے مانگے ہیں۔ راجہ انور ہماری پارٹی ہی کا ایک جیالا ہے بلکہ وہ کراچی کے معراج محمد خان اور فیصل آباد کے مختار رانا کی طرح انتہاپسند ہے۔ خدا کے لئے مجھے گالیاں دینا چھوڑو اور طارق عزیز سے کہو کہ خود بھٹو صاحب سے جا کر بات کریں۔سرکاری فنڈ نہ سہی تو پرائیویٹ طور پر بھی کچھ صنعت کاروں سے یہ رقم دلوا سکتے ہیں ‘‘ابھی وہ بات کر ہی رہے تھے کہ بیرونی کمرے میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو شک ہوگیا کہ مولانا اندر ہیں اور انہوں نے دروازہ زور زور سے پیٹنا شروع کردیا۔ پی اے نے تھوڑا سا دروازہ کھولا تھا کہ اسے دھکا دے کر مولانا کے چاہنے والے اندر گھس آئے اور میں نے بمشکل ایک سائیڈ سے زور لگا کر ڈریسنگ روم تک راستہ بنایا اور پھر جلدی سے بیڈ روم میں آیا اور وہاں سے باہر بھاگا‘‘

مزید :

ڈیلی بائیٹس -