’اب ہمیں اس کام کی بھی اجازت دو‘ ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کے بعد اب سعودی خواتین نے ایسا مطالبہ کردیا کہ جان کر بادشاہ بھی پریشان ہوجائیں گے

’اب ہمیں اس کام کی بھی اجازت دو‘ ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کے بعد اب سعودی ...
’اب ہمیں اس کام کی بھی اجازت دو‘ ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کے بعد اب سعودی خواتین نے ایسا مطالبہ کردیا کہ جان کر بادشاہ بھی پریشان ہوجائیں گے

  

جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈرائیونگ کی اجازت ملنے کے بعد اب سعودی خواتین نے ایک اور ایسا مطالبہ کر دیا ہے کہ جان کر سعودی حکومت کو پریشانی لاحق ہو جائے گی۔ ٹیلیگراف کی رپورٹ کے مطابق ہیومن رائٹس گروپوں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کی طویل جدوجہد کے بعد سعودی حکومت نے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی ہے اور جس کے فوری بعد ان کی طرف سے ’گارڈین شپ‘ کے خاتمے کا مطالبہ بھی آ گیا ہے۔30سالہ مریم العتیبی نے کہا ہے کہ ”اب جلد گارڈین شپ کے قانون کا بھی خاتمہ ہو گا اور 2018ءکے اختتام سے پہلے پہلے مزید کئی تبدیلیاں بھی ہمیں دیکھنے کو ملیں گی۔“

سعودی عرب ،چوری کی 45 وارداتوں میں ملوث پاکستانی گروہ گرفتار

رپورٹ کے مطابق مریم العتیبی وہ خاتون ہے جسے اس کے باپ نے نافرمانی کرنے پر گرفتار کروا دیا تھا اور وہ 104دن جیل میں رہی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ ”میرے خلاف مقدمہ گارڈین شپ کے قانون کی بدترین مثال ہے۔ ہمیں سعودی عرب میں خواتین سے متعلق تمام امتیازی رجحانات کو تبدیل کرنا ہو گا۔“ دوسری طرف ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے بھی بیان جاری کیا گیا ہے جس میں تنظیم کا کہنا ہے کہ ”سعودی عرب میں خواتین کے متعلق جتنے بھی صنفی امتیاز پر مبنی قوانین ہیں ان سب کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جن میں گارڈین شپ کا قانون بھی شامل ہے۔“ واضح رہے کہ گارڈین شپ کے قانون کے تحت کسی بھی سعودی خاتون کو کسی بھی طرح کی سرکاری دستاویزات بنوانے، علاج کروانے، بچوں کو سکول داخل کروانے یا دیگر امور کے لیے کسی مرد سرپرست کے اجازت نامے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ خواہ اس کا باپ ہو، بھائی، شوہر یا بیٹا ہو۔

مزید :

عرب دنیا -