ہائی کورٹ نے ترک ٹیچر اور اس کے خاندان کو پاکستان بدر کرنے سے روک دیا

ہائی کورٹ نے ترک ٹیچر اور اس کے خاندان کو پاکستان بدر کرنے سے روک دیا
ہائی کورٹ نے ترک ٹیچر اور اس کے خاندان کو پاکستان بدر کرنے سے روک دیا

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے ترک ٹیچر اوران کے خاندان کوپاکستان بدرکرنے سے روکتے ہوئے وفاقی حکومت اور ایس ایچ او ستوکتلہ سے 6اکتوبر تک جواب طلب کر لیا۔جسٹس شمس محمود مرزا نے یہ حکم امتناعی پاک ترک سکول کے ریجنل ڈائریکٹر اورہان اﺅگن کی درخواست پر جاری کیا،

فیس بک کے ذریعے داعش میں لڑکیاں بھرتی کرنے والا ملزم گرفتار

درخواست گزار کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے عدالت کو بتایا کہ ترکی میں اس وقت سیاسی حالات ٹھیک نہیں اور ترکی میں سیاسی مخالفت کی وجہ سے پاکستان سے بھی ترک حکومت کے مخالف اساتذہ کو نکالا جا رہا ہے جبکہ پاکستان میں مقیم ترکیوں کو عالمی معاہدوں کے تحت تحفظ حاصل ہے، درخواست گزار کے مطابق وفاقی حکومت عدالت میں ترک ٹیچرز کو بے دخل نہ کرنے کی یقین دہانی کرا چکی ہے اور یقین دہانی کے باوجود ترک ٹیچر میسوت کاسماز، اس کی بیوی اور دو بیٹیوں کو گھر سے اٹھایا گیا اورترک ٹیچر کی فیملی کو پاکستان بدر کرنے کے لئے احکامات بھی جاری کر دیئے گئے ہیں، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ ڈی پورٹ کرنے کے احکامات ہائیکورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے ،عدالت ترک ٹیچر کی فیملی کو ڈی پورٹ کرنے سے روکے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے، عدالت نے ترک فیملی کی ملک بدری روکتے ہوئے وفاقی حکومت اور ایس ایچ او ستوکتلہ سے 6اکتوبر تک جواب طلب کر لیا، عدالتی کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ عدالتی احکامات کے باجود سکول ٹیچر کی ملک بدری قانون کی خلاف ورزی ہے ، اٹارنی جنرل عدالت میں ترک اساتذہ کو ملک بدر نہ کرنے کی یقین دھانی کروا چکے ہیں اس کے باوجود ملک بدری کے احکامات جاری کئے گئے۔

مزید :

لاہور -