نیب کی طرف سے مبینہ جعلی ادائیگیوں کا ہائی کورٹ نے نوٹس لے لیا،ڈائریکٹر نیب سے جواب طلب

نیب کی طرف سے مبینہ جعلی ادائیگیوں کا ہائی کورٹ نے نوٹس لے لیا،ڈائریکٹر نیب ...
نیب کی طرف سے مبینہ جعلی ادائیگیوں کا ہائی کورٹ نے نوٹس لے لیا،ڈائریکٹر نیب سے جواب طلب

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے فاریکس سکینڈل کے متاثرین کے نام پر مبینہ جعلی ادائیگیوں کے خلاف درخواست پر ڈائریکٹر نیب پنجاب سے 9اکتوبر کو تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ فاضل جج نے یہ کارروائی فاریکس سکینڈل کے متاثرہ اسد نیاز کی درخواست پر کی ہے ۔

علاقائی، بین الاقوامی سطح کے اہم امور پر پاکستان اور سعودی عرب کے خیالات یکساں ہیں: وزیر اعظم

درخواست گزار کی طرف سے شیخ عثمان کریم الدین ایڈووکیٹ نے نیب کی جعلی متاثرین کو ادائیگی کے مصدقہ ثبوت عدالت میں پیش کر دیئے، انہوں نے

مئوقف اختیار کیا کہ فاریکس سکینڈل کا 2007ءمیں ریفرنس دائر کیا گیا جس میں چار افراد اعجاز احمد، افتخار حسین، مشتاق احمد اور محبوب عالم کے کلیم کی رقم تحقیقات کے بعد صفر ثابت ہوئی جس کے بعد ان چاروں افراد کو کوئی رقم ادا نہیں کی جانی تھی لیکن نیب افسروں نے ملی بھگت سے8سال بعد چاروں افراد کی رقم بڑھا دی، اور انکا جعلی کلیم کروڑوں روپے کر دیا۔ ان جعلی متاثرین کو ادائیگیوں کی وجہ سے سکینڈل کے اصل متاثرین کو حق نہیں دیا جارہا ہے، جعلی ادائیگیوںکی وجہ سے اصل متاثرین کے کلیم کی شرح کم ہو جاتی ہے، انہوں نے تحریری ثبوتوں کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ نیب افسران کی ملی بھگت سے جعلی متاثرین کو جعلی ادائگیاں کی جا رہی ہیں لیکن اصل پیسہ نیب کے تفتیشی افسروں کی جیبوں میں جا رہا ہے ،عدالت اس کا نوٹس لے۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ لگتا ہے کہ نیب کے پاس بہت زیادہ پیسہ آ رہا ہے،عدالت نے نیب حکام کو کہا کہ وضاحت کریں کہ چاروں افراد کے کلیم صفر سے کروڑوں کے کیسے ہو گئے؟عدالت نے مزید سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

مزید :

لاہور -