وہ معروف مغل شہزادہ جس کی بہن ایک ولی کامل کے پاس بھائی کے بادشاہ بننے کی دعا لینے گئی تو اس نے دل میں ایسی بات ٹھان لی کہ جب انکے سامنے پہنچی تو ....

وہ معروف مغل شہزادہ جس کی بہن ایک ولی کامل کے پاس بھائی کے بادشاہ بننے کی دعا ...
وہ معروف مغل شہزادہ جس کی بہن ایک ولی کامل کے پاس بھائی کے بادشاہ بننے کی دعا لینے گئی تو اس نے دل میں ایسی بات ٹھان لی کہ جب انکے سامنے پہنچی تو ....

  

لاہور(ایس چودھری)ہندوستان کے بادشاہوں کی حکومتیں ،اولادیں اور تاجوری میں بزرگان دین کی دعائے کاملہ اور نگاہ فیض کا بڑا حصہ رہا ہے ۔مغل شہنشاہوں کی تاریخ میں ایسے بہت سے بزرگان دین کا ذکر ملتا ہے ۔مغل شہزادہ دارا شکوہ کو حضرت میاں میرؒ نے بادشاہت کی دعا دی تھی تو آپؒ کے ہی ہمعصر دوسرے بزرگ حضرت شاہ بلاول لاہوریؒ نے داراشکوہ کے بارے میں کچھ اور کہا تھا کہ وہ بادشاہ نہیں بن سکے گا لیکن اس کا چرچا زیادہ کتب میں نہیں ملتا ماسوا ئے محبوب والواصلین کے نام سے شائع ہونے والی آپؒ کی سیرہ پر مبنی کتاب کے ۔ حضرت شاہ بلاول ؒ کے والد کا نام سیّد عثمان بن عیسیٰ ؒتھا۔ آپؒ کے آباواجداد ہمایوں بادشاہ کے ہمراہ ہرات سے ہندوستان میں آئے اور موضع شیخوپورہ میں آباد ہوگئے۔ لاہور میں علومِ ظاہر و باطن کی تعلیم لی۔ سلسلہ قادریہ میں شاہ شمس الدین قادری لاہوری ؒ کے مرید و خلیفہ تھے۔بعد از وصال آپ کا مزار گھوڑے شاہ میں تعمیر کیا گیا۔

صاحب محبوب الواصلین نے لکھا ہے کہ ایک بار مغل فرمانرواشاہ جہان اپنے بیٹوں کے ہمراہ حضرت شاہ بلاولؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؒ سے عرض کیا ” حضور! آپ دعا فرمائیں کہ بیٹا داراشکوہ ولی عہد ہو“ بادشاہ کی بات سن کر حضرت بلاول ؒنے مراقبہ فرمایا اور پھر ارشاد فرمایا کہ ”داراشکوہ آپ کے زیر سایہ ہی بوڑھا ہوگا“آپؒ کی اس بات سے شاہ جہان بادشاہ بہت خوش ہوا لیکن داراشکوہ آپ کی بات سن کر سمجھ گیا کہ وہ بادشاہ نہیں ہوگا۔ چنانچہ اس نے اپنی بہن شاہ بیگم سے اس بارے میں شکایت کی کہ حضرت شاہ بلاولؒ سے مجھے ہر گز یہ امید نہ تھی کہ اشارة اس بات کا تذکرہ کریں گے کہ داراشکوہ بادشاہ نہیں ہوگا۔

یہ بات سن کر بادشاہ بیگم نے اپنی ڈولی منگوائی اور اس میں بیٹھ کر کچھ نذرانہ داراشکوہ کی طرف سے لے کر حضرت شاہ بلاولؒ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ ابھی راستے میں ہی تھی کہ دل میں خیال کیا اگر حضرت مجھے آج چولائی کا ساگ اور روٹی کھلائیں تو پھر میں مانوں گی کہ حضرت واقعی ولی کامل ہیں۔ حالانکہ وہ موسم چولائی کے ساگ کا نہیں تھا۔ شہزادی جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے باورچی خانہ کے خادم سے فرمایا کہ بادشاہ بیگم کے لئے چولائی کا ساگ اور روٹی تیار کر کے لاﺅ۔

خادم نے عرض کی” حضور ! اس موسم میں تو چولائی کا ساگ نہیں ہوتا“ آپ نے فرمایا” تم جاﺅ اور ہمارے باغیچہ میں دیکھو تمہیں مل جائے گا“ چنانچہ خادم نے جا کر دیکھا تو اسے وہاں پر ایک کیاری چولائی کے ساگ کی دکھائی دی، دیکھ کر بڑا حیران ہوا کیونکہ اس سے قبل وہ اس جگہ کو دیکھ چکاتھا کہ وہاں پر ایک پتہ تک چولائی کے ساگ کا نہیں لگا ہوا تھا ۔ سمجھ گیا کہ یہ سب حضرت صاحب کی کرامت کی وجہ سے ہے کہ بے موسم بھی چولائی کا ساگ مل گیا۔ چنانچہ اس نے وہاں سے ساگ توڑا اور تیار کر کے روٹی کے ساتھ شہزادی کے سامنے پیش کردیا۔ شہزادی نے کھایا اور اسے بھی یقین ہوگیا کہ آپ واقعی ولی کامل ہیں۔

اس کے بعد شہزادی نے آپ سے کہا ”حضور! حضرت میاں میر صاحب داراشکوہ کے بارے میں یہ فرما چکے ہیں کہ وہ بادشاہ ہوگا۔ آپ بھی داراشکوہ کے حق میں دعافرمائیں کہ وہ آپ کی دعا کا امید وار ہے اور یہ اس کی طرف سے بھیجی ہوئی نذر قبول فرمائیں“

حضرت شاہ ولی بلاولؒ نے فرمایا ”حضرت میاں میر صاحب عارف کامل ہیں اور جو کچھ آپ نے فرمایا ہے بالکل ٹھیک ہے لیکن یہ بات تو امتحان کی ہے جو کوئی زندہ رہے گا خود دیکھ کر تحریر کرے گا“ اس کے بعد آپ نے شہزادی کو نذر بھی واپس کردی۔ پھر جب شہزادی داراشکوہ کے پس واپس گئی تو اسے تمام واقعہ سنایا جسے سن کر داراشکوہ خاموش ہو گیا۔

مزید : روشن کرنیں