عامی آدمی کی زندگی بدلنے والے منصوبے لارہے ہیں‘ وزیرخزانہ پنجاب

عامی آدمی کی زندگی بدلنے والے منصوبے لارہے ہیں‘ وزیرخزانہ پنجاب

لاہور ( کامرس رپورٹر ) پنجاب کے وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت نے کہا ہے کہ ماضی کی حکومت نے پنجاب کو دیوالیہ کر دیا مگر موجودہ حکومت پنجاب کو خسارے سے نکال کر ایسے منصوبے لا رہی ہے جس سے عام آدمی کی زندگی بدلے گی۔ گزشتہ روز آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے دفتر میں لاہور اکنامک جرنلسٹ ایسوسی ایشن(لیجا) کے عہدیداروں اور ممبران کو بجٹ پر بریفنگ دے رہے تھے۔ اس موقع پر لیجا کے صدر ناصر جمال،سیکرٹری سعید بلوچ،ممبر ایگزیکٹو کمیٹی اسد اقبال، سابق صدر منصور احمد، اشرف مہتاب، جواد رضوی،سدھیر چوھدری اور ممبران کی بڑی تعداد موجود تھی۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ صوبے کا ڈیٹ بڑھ کر693ارب روپے تک پہنچ گیا اس کے باوجود لاہور ، راولپنڈی، ملتان میں میٹرو جیسے منصوبے لائے گئے۔ ان منصوبوں پر اب تک52ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے اب ان منصوبوں کو سبسڈی سے نکال کر اس کا کوئی اور حل ڈھونڈیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں گزشتہ برسوں کی نسبت 2017-18میں پنشن کی مد میں228ارب روپے دیئے جا رہے ہیں اتنی بڑی رقم کے حل کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔

، 2017-18سے قبل پنشن کی مد میں173ارب روپے دیئے جا رہے تھے۔ پنشن کے ساتھ تنخواہوں کی مد میں 314ارب روپے خرچ کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ لیپ ٹاپ سکیم بھی اتنی میسر نہیں تھی۔ یہ زمانہ لیپ ٹاپ کی بجائے موبائل کا ہے لہذا لیپ ٹاپ سکیم بند کر کے اس کے متبادل اس سے اچھی سکیم لائیں گے۔انہوں نے اورنج ٹرین کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ اس منصوبے کو مکمل کیا جائے گا کیونکہ اس منصوبے کا زیادہ تر کام مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا ٹرین چل دیں گے مگر پہلے دن سے خسارے میں چلے گی۔ جنوبی پنجاب یا بہاولپور صوبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مالی لحاظ سے جو بہتر ہو گا وہ صوبہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بنانے کے پہلے مرحلے میں ایسے افسر اور محکمے وہاں بھیجیں گے جو خالصتا وہاں کے لیے کام کر رہے ہیں مگر وہ لاہور میں واقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے بچت کے نام پر کاغذات پر ہی کام کیا اصل میں نہیں کیا مگرموجودہ حکومت نے اصل میں بچت پروگرام شروع کیا ہے جس کے نتائج بہت جلد سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ بہت جلد لوکل گورنمنٹ کا بہت بہتر نظام لا رہے ہیں جس سے اختیارات نیچے کی سطح تک پہنچیں گے ۔ پہلا نظام نچلے درجے کے لوگوں کی زندگیوں کو بدلنے کے لیے سود مند ثابت نہیں ہوا۔بجٹ وسائل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے وسائل میں سے80فیصد وفاق دیتے ہے جب کہ 20فیصد صوبہ خود اکھٹے کرتا ہے مگر موجودہ حکومت ٹیکس وصول کرنے والے اداروں کو مزید متحرک کر کے زیادہ ٹیکس وصول کرے گی اور ٹیکس ان پر لگایا جائے گا جو صاحب حثیت ہیں غریب کو ٹیکس سے بچایا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ صوبہ نئی صنعتی پر ٹیکس نہیں لگائے گا تاکہ صوبے میں سرمایہ کاری بڑھے اور عام آدمی کو روزگار بھی مل سکے۔انہون نے ایک بار پھر ماضی کی پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے بتایا کہ اس حکومت نے کاغذات پر منصوبوں کا بڑا چرچہ کیامگر حقیقت میں ایسے منصوبوں سے نہ تبدیلی آئی نہ ترقی ہوئی۔ ان کی حکومت اور وہ مل کر ایسے منصوبے لا رہے ہیں جن سے عام آدمی اور صوبے کو فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بڑی بڑی سٹرکیں بنا کر ترقی نہیں کی جا سکتی پہلے لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہو گا تو پھر ان کو ان سٹرکوں کا فائد ہ ہوگا۔انہوں نے سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کے کیمپ آفس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتے زیادہ کیمپ آفس اور ان کے اخراجات تھے جن کو دیکھ کر دکھ ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب ایسا نہیں ہے موجودہ وزیر اعلیٰ نے بچت کی حقیقی مثال قائم کی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بجٹ لانے سے پہلے عام آدمی کے سامنے اس کے فوائد رکھیں گے تاکہ ان کو معلوم ہو سکے کہ جو بجٹ ان کے لیے لایا جارہا ہے اس میں ان کے لیے کیا کچھ ہے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ بجٹ کے خدوخال اور ٹیکس وصولیوں کے حوالے سے کیا حکمت عملی تیار کی گئی ہے تو انہوں نے کہا یہ ابھی سیکرٹ ہے لہذا چند روز میں بتائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت نومبر سے ریسور س موبلائزیشن شروع کر دے گی تاکہ پورا سال ریونیو وصولیوں کاہدف پورا کر سکے۔انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومت نے 635ارب روپے کا اے ڈی پی بنایا مگر حقیقت میں یہ414ارب کا تھا باقی کاغذات میں دکھایا گیا۔انہوں نے بتایا کہ قائد اعظم سولر پارک مالی مشکلات کا شکار ہے ۔ یہ منصوبہ اور اسی جیسے منصوبوں کو آوٹ سور کیا جا سکتا ہے تاکہ حکومت پر مالی بوجھ کم کیاجا سکے۔

مزید : کامرس