3روزہ انٹرنیشنل پولٹری ایکسپو کا افتتاح صوبائی وزراء نے کیا

3روزہ انٹرنیشنل پولٹری ایکسپو کا افتتاح صوبائی وزراء نے کیا

لاہور ( کامرس رپورٹر ) صوبائی دارلحکومت میں گزشتہ روز تین روزہ انٹرنیشنل پولٹری ایکسپو 2018 ء آغاز ہو گیا جس کا افتتاح صوبائی وزیر لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ سردار حسنین بہادر دریشک نے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ،چیف آرگنائز آئی پیکس 2018ء رضا محمود خورسند ، سینٹرل چیئرمین پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن ڈاکٹر محمد اسلم ، چیئرمین پی پی اے (ناردرن زون )ڈاکٹر ارشد حنیف چوہدری ، سابق چیئرمین پی پی اے ڈاکٹر مصطفی کمال ، خلیل ستار ، خلیق ارشد ، عبدالباسط ، پی پی اے کے رہنما چوہدری محمد عظمت ، وائس چانسلر یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنز ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا اور سیکرٹری پی پی اے (ناردرن زون )میجر (ر) سید جاوید حسین بخاری سمیت مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد موجود تھے۔ اس موقع پر پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پولٹری سیکٹر سے متعلق خام مال کی درآمد پر عائد تمام قسم کی ڈیوٹیز اور ٹیکسز کا خاتمہ کیاجائے تا کہ پولٹری درآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکے ، دنیا بھر میں کہیں بھی پولٹری مصنوعات یا ان کے خام مال پر ڈیوٹی اور ٹیکسز عائد نہیں۔ ملک میں پولٹری سیکٹر کے پاس پولٹری کی پیداوار دگنی کرنے کی استعداد موجود ہے۔ اس امر کا اظہار گزشتہ روز لاہور ایکسپو سنٹر میں انٹرنیشنل پولٹری ایکسپو 2018ء کی افتتاحی تقریب کے موقع پر چیف آرگنائزر رضا محمود خورسند ، پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن پنجاب (ناردرن زون )کے چیئرمین ڈاکٹر ارشد حنیف چوہدری اور سابق چیئرمین عبدالباسط نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب کی میزبانی کے فرائض ڈاکٹر مصطفی کمال نے ادا کیے۔ انہوں نے کہا کہ پولٹری سیکٹر ملک میں عوام کو برائلر مرغی کا گوشت اور انڈے نہایت کم نرخوں پر فراہم کررہا ہے تاکہ ان کو صحت بخش حیوانی پروٹین میسر آسکے حتاکہ برائلر مرغی کا گوشت دالوں اور سبزیوں سے بھی سستا ہے۔ اس وقت ملک کے عوام کو عالمی معیار کے مطابق برائلر مرغی کا گوشت اور انڈے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سے تین سال کے دوران پاکستان میں فی کس انڈوں کا استعمال 65انڈوں سے بڑھ کر 70انڈے اور برائلر مرغی کے گوشت کا استعمال 7.5کلو گرام سے بڑھ کر 9کلو گرام تک پہنچ گیا ہے۔ لیکن ابھی بھی ہم دنیا میں انڈے اور مرغی کے گوشت کے فی کس استعمال سے بہت پیچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں چکن کا استعمال بڑھ رہا ہے ، ترقی یافتہ ممالک میں چکن کا استعمال پہلے نمبر پر چلا گیا ہے کیونکہ یہ دیگر حیوانی پروٹین کے مقابلے میں انتہائی صحت مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ٹیکسٹائل سیکٹر کے بعد پولٹری دوسرا بڑا سیکٹر ہے جس میں 700ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی گئی ہے اور لاکھوں افراد کو روزگار کے مواقع مہیا کررہا ہے اگر حکومت پولٹری سیکٹر کو ٹیکسٹائل سیکٹر کی طرح برآمدی مراعات دے تو پاکستان پولٹری کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پولٹری انڈسٹری سالانہ 18ہزار ملین انڈے اور 2 ہزار 250 ملین کلو گرام مرغی کا گوشت پیدا کررہی ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان میں فی کس کھپت بین الاقوامی معیار سے کافی کم ہے۔ مگر ملک میں بڑھتی ہوئی غذائی قلت پر قابو پانے کے لئے پی پی اے اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ سردار حسنین بہادر دریشک نے کہا کہ ملک میں پولٹری سیکٹر نے بہت ترقی کی ہے تاہم اگر کسی شعبے میں کمی ہے تو اسے بھی دور کیا جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پولٹری سیکٹر کو درپیش مسائل کے حل کے لئے وفاقی حکومت سے بات کریں گے۔تین روزہ پولٹری ایکسپو میں 300غیر ملکیوں سمیت مرغبانی صنعت کے تمام شعبہ جات سے منسلک تقریباً 10ہزار کاروباری افراد روزانہ شرکت کریں گے جبکہ دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے 10سے 15ہزار افراد بھی روزانہ نمائش دیکھنے آئیں گے۔

مزید : کامرس