ناقص غذائیت کا مسئلہ اجاگر کرنے کیلئے میڈیا کا کردار اہم ‘مقررین

ناقص غذائیت کا مسئلہ اجاگر کرنے کیلئے میڈیا کا کردار اہم ‘مقررین

لاہور(پ ر)بلوچستان میں ناقص غذائیت کا مسئلہ اجاگر کرنے اوراسکے خاتمے کے لئے میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے۔ یہ بات اسکیلنگ اپ سول سوسائٹی الائنس پاکستان (ایس یو این سی ایس اے، پاک)، نیوٹریشن انٹرنیشنل اور پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) کے زیر اہتمام منعقدہ اجلاس میں کی گئی۔ اس اجلاس کی صدارت سن سی ایس اے کی ایگزیکٹو کونسل کے چیئر سربراہ پی پی اے ایف نے کی۔ اجلاس کے دوران میڈیا کے نمائندوں کی جانب سے بلوچستان میں پالیسی اور پروگرامز کی سطح پر غذائیت کے ایجنڈے کو ترجیح دینے کے لئے فعال کردار ادا کرنے اور ناقص غذائیت سے صحت پر مرتب ہونے والے گہرے اثرات سے متعلق آگہی بڑھانے کے ساتھ عوامی رویوں میں تبدیلی کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کا وعدہ کیا گیا ۔ اجلاس میں نیوٹریشن سیل ، پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ اور بلوچستان کے محکمہ صحت، اور سول سوسائٹی کے اداروں کے نمائندوں کے ساتھ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

اجلاس میں بلوچستان حکومت کے ہیڈ آف نیوٹریشن سیل کے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر علی ناصر بگٹی نے صوبے میں ناقص غذائیت کے حل کے لئے صوبے کی جانب سے لئے جانے والے ترجیحی اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے حاضرین کو بلوچستان کے مختلف اضلاع میں نیوٹریشن سیل کی جانب سے لئے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا، "افرادی قوت کی کمی اہم مسائل میں شامل ہے جس کی وجہ سے دور دراز علاقوں میں ناقص غذائیت کے شکار لوگوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بلوچستان میں ناقص غذائیت کا مسئلہ انفرادی طور پر حل نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس ضمن میں حکومت، سول سوسائٹی، نجی شعبہ اور میڈیا سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔" انہوں نے بتایا کہ بلوچستان نیوٹریشن پروگرام برائے ماں و بچے میں عطیات دینے والے اداروں کی جانب سے تعاون بڑھایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پانچ سال سے کم عمر نصف سے زائد بچے اسٹنٹ (Stunted) کے مرض کا شکار ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ مسلسل ناقص غذائیت کی بناء پر اپنی عمر سے چھوٹے ہیں اور اسکے نتیجے میں ان کی زندگیوں میں آگے جاکر جسمانی اور ذہنی نشونما پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ڈاکٹر ناصر بگٹی نے پروگرام میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندوں کی بڑی تعداد میں موجودگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اپنے پلیٹ فارم استعمال کرکے پائیدار انداز سے ناقص غذائیت کے مسئلہ کو اجاگر کرنے کے لئے فعال کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے استدعا کی کہ وہ اپنے پلیٹ فارم سے ناقص غذائیت کا مسئلہ اجاگر کریں۔

سن سی ایس اے پاک / نیوٹریشن انٹرنیشل کی پروجیکٹ منیجر عالیہ حبیب نے بلوچستان اور قومی سطح پر ناقص غذائیت سے متعلق صورتحال پر رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ناقص غذائیت لوگوں کو نہ صرف انفرادی طور پر متاثر کرتی ہے بلکہ کسی ایک کمیونٹی کے ساتھ ساتھ پوری قوم پر بھی اسکے گہرے معاشی و ترقیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں خاص طور پر اسٹنٹنگ (Stunting)کی شرح بہت زیادہ ہے، یہاں پانچ سال سے کم عمر کے نصف سے زائد بچے (تقریبا 52 فیصد) اسٹنٹ کے مرض کا شکار ہیں جبکہ صوبے میں وزن کی کمی کے شکار بچوں کی تعداد 16 فیصد ہے جبکہ قومی سطح پر اسکی اوسط شرح 15 فیصد ہے۔ موجودہ ناقص غذائیت سے پاکستان کی معیشت کو سالانہ 7.6 ارب ڈالر ( مجموعی قومی آمدن کا 3 فیصد)

مزید : کامرس