سّید وارث شاہؒ

سّید وارث شاہؒ
سّید وارث شاہؒ

  

سید وارث شاہ نے اپنے قصہ ہیر کے آخر میں ’’ہیر‘‘ کو روح اور قلبوت (بدن) کا جھگڑا قرار دیا ہے۔ روح سے مراد ’’ہیر‘‘ ہے اور قلبوت ’رانجھا‘ ہے۔ کیدو اصل میں شیطان ہے جو روح اور بدن کے درمیان رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔ بالناتھ مُرشد ہے جو خود شناسی اور خدا شناسی کا راستہ دکھاتا ہے۔ وارث شناسوں کے نزدیک وارث شاہ نے اگر اپنے قصے کی روحانی تاویل پیش کی یا اس کو اپنے حینِ حیات منظرِ عام پر نہ آنے دیا تو غالباً اس کی وجہ اس وقت کی وہ اندھی اور بہری قوتیں تھیں جنہوں نے جنوبی ایشیا میں بدامنی، انتشار اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ وارث شاہ نے جگہ جگہ ان قوتوں کے جبر و تشدد کی کھلے لفظوں میں مذمت کی ہے۔

سید صاحب کی زندگی کے کوائف اس سے زیادہ نہیں ملتے کہ وہ 1152ھ/1710ء میں جنڈلہ شیر خان (ضلع شیخوپورہ) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سید گلشیر شاہ تھا۔ 1180ھ میں ’ہیر‘ لکھی اور 1206ھ/ 1792ء میں وارث شاہ داعیء اجل کو لبیک کہہ گئے۔ ابتدائی تعلیم گھر سے حاصل کرنے کے بعد قصور پہنچے اور حافظ مخدوم غلام مرتضیٰ قصوری کے مدرسے میں رہ کے دینی علوم کی تکمیل کی۔ خود کہتے ہیں:

’’وارث شاہ و سنیک جنڈیا لڑے دا، شاگرد مخدوم قصور دائے‘‘ ایک جگہ قصور کی تباہی پر اظہار افسوس کرتے ہیں، جب غالباً قصور کے افغان حاکم اور لاہور کے مغل گورنر نواب عبدالصمد کے درمیان جنگ آزمائی ہوئی تھی۔

سارے ملک خراب وچّوں

سانوں وڈا افسوس قصور دائے

ان کے علاوہ وارث شاہ کے بارے میں جو معلومات ملتی ہیں وہ عوام میں نسل در نسل زبانی چلی آتی ہیں۔ ان کے مطابق شاہ صاحب باطنی تربیت کے لئے حضرت بابا فرید گنج شکر کے کسی گدی نشین کے ہاتھ پر بیعت ہوئے تھے۔ ٹھٹھ جاہد کی کسی بھاگ بھری نامی خاتون سے سلسلہ محبت استوار ہوا تھا جو غالباً پایہء تکمیل کو نہ پہنچا۔ وارث شناسوں کا خیال کا ہے کہ عشقِ مجازی کی اسی واردات نے ان سے قصہ ہیر لکھوایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب شاہ صاحب نے اپنے استاد مخدوم قصوریؒ کو قصے کے چند اشعار سنائے تو انہوں نے فرمایا: بلھے شاہ کو پڑھایا تو اس نے سارنگی پکڑ لی، تمہیں پڑھایا تو تم مُونجھ کی رسی میں موتی پرو لائے ہو۔ یعنی احوالِ معرفت کو تم نے مجازی قصے کا رُوپ دے دیا ہے۔ سید صاحب اپنے آبائی قصبے ہی میں آسودہ خاک ہوئے جہاں ان کے مزار پر ہر سال ساون کی 9تاریخ کو عرس منعقد ہوتا ہے اور ہیر پڑھنے کے مقابلے ہوتے ہیں۔

وارث شاہ نے شاہ عالم اول سے لے کر شاہ عالم ثانی تک نو مغل بادشاہوں کو سریر آرائے تخت ہوتے اور بالآخر انہیں عبرت کی تصویریں بنتے دیکھا۔ مغل حکمرانوں کی نالائقیوں اور عیش پرستیوں کی وجہ سے مرکز گریز قوتیں سر اٹھانے لگیں۔ جنوبی ہند کو مرہٹوں اور شمالی ہند کو سکھوں نے بُری طرح پامال کیا۔ رہی سہی کسر بیرونی حملہ آوروں۔۔۔ نادرشاہ ایرانی اور احمد شاہ ابدالی نے نکال دی۔ سارا انتظامی ڈھانچہ بکھر گیا۔ خاص طور پر عوام کا سکون جیسے غارت ہوا، اس کی جھلکیاں وارث شاہ کے معاصر شعراء نجابت، ہاشم شاہ، علی حیدر ملتانی ، سچل سرمست اور بلھے شاہ کے کلام میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ آئے روز کے حملوں کی وجہ سے کھیتی باڑی کو اتنا نقصان پہنچا کہ اہل پنجاب کو طویل دور تک فاقوں کا سامنا کرنا پڑا۔

سیاست اور معیشت کے دائروں میں جب عدم استحکام پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات عوام و خواص کے اخلاق پر جیسے مرتب ہوتے ہیں، اس کا حال ہم قصہ ہیر میں بدرجہ اتم دیکھ سکتے ہیں۔ ہر طبقہء زندگی کے لوگ اجتماعی مفاد بھول کر صرف اپنی اغراض کے پجاری بن جاتے ہیں۔ حسد،بغض، بے حیائی، تنگدسی، بُخل، منافقت اور بے انصافی ایسی منفی اقدار غلبہ حاصل کر لیتی ہیں۔ رانجھے کا باپ اس پر زیادہ شفقتیں لٹاتا ہے تو اس کے بھائی اس سے حسد کرتے ہیں۔ جوں ہی باپ کے دم مسافر ہوتے ہیں بھائی جائیداد کو اس طرح تقسیم کرواتے ہیں کہ رانجھے کے حصے میں بنجر زمین آتی ہے۔ بھابیاں طعنے مہنوں سے رانجھے کا دل زخمی کر دیتی ہیں۔ جب وہ گھر سے نکل جاتا ہے تو بھائی اور بھابیاں محض دنیا والوں کو دکھانے کی خاطر اسے نیم دلی سے لوٹ آنے کے لئے منتیں کرتی ہیں۔ رانجھا رات گزارنے کے لئے مسجد میں آتا ہے تو مولوی اسے ٹھہرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ دریا پر رانجھے کی ہیر سے ملاقات ہوتی ہے تو وہ اپنے باپ چوچک سے سفارش کرتی ہے کہ وہ اسے نوکر رکھ لے۔ چوچک کچھ بھی سوچے بغیر اسے گھر میں رکھ لیتا ہے۔ کیدو ہیر اور رانجھے کو جنگل بیلے میں ملاقاتیں کرتے دیکھتا ہے تو وہ اس کے والدین کو آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ سارے گاؤں میں بدنامی کی راکھ اڑاتا ہے۔ چوچک بیٹی کو بدنام ہوتے دیکھ کر پہلے رانجھے کو نوکری سے جواب دے دیتا ہے لیکن جب دیکھتا ہے کہ رانجھے کے بغیر بھینسیں بیلے میں جانے اور دودھ دینے سے انکاری ہیں تو پھر اسے دوبارہ بلالیتا ہے۔ چوچک کی بیوی ملکی تو رانجھے کا دل موم کرنے کے لئے یہ تک کہہ دیتی ہے:

تو ہیں چوئے کے دُوھ جماونائی

توں ہیں ہیر دا پلنگ وچھاونائی

چوچک گھرانا صاحب جائیداد گھرانا تھا، اس کے لئے بیٹی کو کسی کامے کے ساتھ بیاہنا باعث ننگ و عار تھا اس لئے وہ رنگپور کے کھیڑوں میں بیاہ دیتا ہے۔ کھیڑے سیالوں کے ہم پلہ تھے، وہ بڑی شان و شوکت سے ہیر کو بیاہ کر لے جاتے ہیں۔

وارث شاہ نے مولوی اور قاضی کو جامد ذہنیت کے کرداروں کے طور پر متعارف کروایا ہے۔ نکاح کے وقت ہیر نکاح کے بول پڑھنے سے صاف انکار کر دیتی ہے لیکن قاضی ہیر پر گرج برس کر نکاح ہو جانے کا اعلان کر دیتا ہے۔رانجھا ہیر تک پہنچنے کے لئے بالناتھ سے جوگ لینے جاتا ہے۔ وہ دہائی دیتا جاتا ہے کہ فقیری درویشی کا راستہ بہت سہل ہے۔ جو محنت مشقت کئے بغیر روٹی کے طالب ہوں، وہ میرے ساتھ آجائیں۔ پھر وہ اپنی محبوبانہ اداؤں سے گورو بالناتھ سے مختصر مدت میں جوگ لے لیتا ہے تو رنگپور پہنچتا ہے۔ وارث شاہ نے بتایا ہے کہ جب معاشرے زوال آمادہ ہو جاتے ہیں تو فقیری تک خالص نہیں رہ جاتی، اس پر بھی مادی مفادات غالب آجاتے ہیں۔وارث شاہ نے قصے کا انجام المیہ دکھایا ہے۔

رانجھا کوٹ قبولے کی عدالت سے اپنے حق میں فیصلہ لے کر واپس جھنگ آتا ہے تو ہیر کے والدین بیٹی کی شادی اس سے کرنے پر رضا مند ہو جاتے ہیں لیکن کیدو ہیر کو زہر دلوا دیتا ہے۔ شادی کی تیاریوں میں مصروف رانجھا یہ دلدوز خبر سن کر زندگی کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اگر ہم آج کے اپنے سماج پر نظر دوڑائیں تو یوں لگے گا جیسے ہم آج بھی وارث شاہ ہی کے دور میں سانس لے رہیں جہاں عوام آج بھی مقتدر طبقات کی سینہ زوریوں کے سامنے سراسر بے بس اور بے کس ہیں!جیسے رخصتی کے وقت ہیر رانجھے سے کہتی ہے:

لے وے رانجھیا واہ میں لاتھکی

میرے وس تھیں گل بے وس ہوئی!

مزید : رائے /کالم