پنجاب میں کرپشن اور محکمہ اینٹی کرپشن

پنجاب میں کرپشن اور محکمہ اینٹی کرپشن
پنجاب میں کرپشن اور محکمہ اینٹی کرپشن

  

ایک زمانے میں بدعنوانی کے موضوع پر کالم لکھتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ صوبوں میں جو انٹی کرپشن کا محکمہ قائم ہے، وہ درحقیقت آنٹی کرپشن ہے، جو بدعنوانی کو تحفظ دیتی ہے۔ جس نے کبھی کبھار گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے لئے پٹواری یا کلرک چند ہزار روپے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کئے اور اُن کی جیبوں سے نشان زدہ نوٹ نکالے، مگر یہ پٹواری اور کلرک اپنے جن افسروں کے ایما پر یہ سب کچھ کرتے ہیں، اُن پر کبھی ہاتھ نہیں ڈالا۔ یہ انہیں تحفظ دینے والا محکمہ ہے، اسی لئے اسے آنٹی کرپشن کہنا مناسب ہوگا۔۔

یہ بات مجھے ایک خبر پڑھ کر یاد آئی جو محکمہ انٹی کرپشن پنجاب کے نئے ڈی جی حسنین اصغر کی اپنے افسران سے پہلی ملاقات کے احوال پر مبنی تھی، جس میں لکھا گیا تھا کہ ڈی جی نے اپنی پہلی میٹنگ میں اپنے ڈائریکٹروں سے پوچھا کہ انہوں نے کرپشن کے کون سے بڑے کیسز پکڑے ہیں تو وہ سب بغلیں جھانکنے لگے، کیونکہ اُن کی زنبیل میں تو صرف نچلے درجے کے ملازمین کی چند ہزار روپوں پر مشتمل کرپشن کے کیسز تھے۔ خبر کے مطابق ڈی جی نے انہیں تین ماہ کا وقت دے کر کرپشن کے بڑے مگرمچھوں کو قانون کے جال میں لانے کی ہدایت کی ہے اور ساتھ ہی یہ وارننگ بھی دی ہے کہ جو ایسا نہیں کرسکتا، وہ واپس اپنے محکمے میں بھیج دیا جائے گا۔سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس محکمے کا اپنا سٹاف نہیں، اس میں پولیس، انتظامیہ، مختلف کارپوریشنوں اور محکمہ پنجاب کے ذیلی اداروں سے افراد ڈپیوٹیشن پر لیے جاتے ہیں، سب سے زیادہ پولیس کے محکمے سے ہیں، اس وقت جو ڈی جی ہیں وہ بھی پولیس سروس سے ہیں اور پوسٹ کو بیسویں سے اکیسویں گریڈ میں لے جانے کے لئے رولز میں ترمیم بھی کی گئی ہے۔

اب کوئی یہ فارمولا سمجھائے کہ پولیس کا سولہویں، سترہویں یا اٹھارویں گریڈ کا افسر محکمے کے کسی بڑے افسر کی کرپشن پر کیسے ہاتھ ڈال سکتا ہے، اس نے ڈیپوٹیشن کے بعد واپس تو اس پولیس کے محکمے میں جانا ہے، وہاں اس کی کیا درگت بنے گی؟ یہ کوئی پوچھنے والی بات نہیں۔ آپ نے پویس کے کسی اے ایس آئی یا محرر کو تو رشوت لینے کے الزام میں انٹی کرپشن والوں کے ہاتھوں گرفتار ہوتے دیکھا ہوگا، تاہم ایس ایچ او، ڈی ایس پی، یا ڈی پی او کے بارے میں کبھی خبر نہیں سنی ہوگی کہ اسے رشوت لیتے ہوئے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اس کا بظاہر نتیجہ تو یہی نکلتا ہے کہ پولیس میں محرر اور اے ایس آئی کے سوا پورا محکمہ فرشتوں پر مشتمل ہے، اس لئے انٹی کرپشن والوں کو موقع ہی نہیں ملتا کہ اُن کی پارسائی پر انگلی اٹھائیں، مگر اصل قصہ یہ ہے کہ محکمہ انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ میں بیٹھے پولیس والے اپنے پیٹی بھائیوں کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔ پولیس والے تو اسے اپنا دوسرا محکمہ سمجھتے ہیں، کوئی اُن کے خلاف انٹی کرپشن ہی درخواست دینے کی جرأت کرے تو کارروائی سے پہلے ہی اُسے عبرت کا نشانہ بنا دیتے ہیں، جہاں تک سی ایس پی افسران کا تعلق ہے، تو وہ محکمہ اینٹی کرپشن کی دسترس سے باہر ہیں۔ کسی مجسٹریٹ کی جرات نہیں ہوتی کہ انٹی کرپشن سٹاف کے ہمراہ جا کر کسی ڈپٹی کمشنر یا اسسٹنٹ کمشنر کو رنگے ہاتھوں پکڑے اور اس کی جیب یا دراز سے نشان زدہ نوٹ بھی نکالے۔ سو یہ محکمہ صرف ڈراوا دے کر خود کرپشن کرنے والے ڈیپوٹیشن سٹاف کی جنت بنا ہوا ہے۔ جو اس محکمے میں چند سال تعینات رہا، اس کی زندگی بدل گئی، وہ کار، کوٹھی اور جائیداد کا مالک بن گیا۔ کسی نے نہیں پوچھا یہ مال اپنی محدود تنخواہ سے تم نے کیسے بنایا؟

نیب تو کہتا ہے کہ وہ دو کروڑ روپے سے کم کی کرپشن پر ہاتھ نہیں ڈالتا، جبکہ یہاں خلقِ خدا جن بدعنوان سرکاری اہلکاروں سے تنگ ہے وہ پرچون فروشوں کی طرح تھوڑی تھوڑی رشوت لیتے ہیں، تاہم شام تک وہ لاکھوں میں جمع ہو جاتی ہے۔ اس رشوت سے چھٹکارہ مل جائے تو عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوں۔ اس کے سدباب کے لئے محکمہ انٹی کرپشن بنایا گیا ہے ،لیکن یہ تو خود اس دھندے میں گوڈے گوڈے دھنسا نظر آتا ہے۔ مہینے بعد کسی بدعنوان کلرک کے پکڑے جانے کی خبر آ جاتی ہے۔ باقیوں کے ساتھ مک مکا چل رہا ہوتا ہے۔ملتان کی رجسٹری برانچ کے بارے میں آئے روز خبریں چھپتی ہیں کہ لاکھوں روپے کی رشوت لی جاتی ہے، اس کے بغیر کسی کی رجسٹری نہیں ہوتی۔ اب یہ محکمہ انٹی کرپشن کے لئے کون سا مشکل کام ہے کہ وہاں سر عام ہونے والی سودے بازی پر گرفت نہ کر سکے۔ ڈپٹی کمشنر ملتان ہر محکمے میں جاتے ہیں اس محکمے کا رخ نہیں کرتے، کیونکہ اس سے گلشن کا کاروبار چلتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ رجسٹری برانچ جیسے شعبے میں محکمہ انٹی کرپشن نے کتنی بار کارروائی کی ہے؟ اگر نہیں کی اور رجسٹرار کو کھل کھیلنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے تو اس کے پیچھے راز کیا ہے؟ کل ہی میری نظر سے انٹی کرپشن ملتان ریجن کے ڈائریکٹر شعیب امجد کا یہ بیان گزرا کہ کرپشن صرف پیسے کے لین دین کا نام ہی نہیں، بلکہ اختیارات کا ناجائز استعمال ، کرپشن کی نیت سے بروقت کام نہ کرنا، جو کام سونپا گیا اسے معیار کے مطابق نہ کرنا بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔ بڑی اچھی بات ہے کہ کرپشن کو اس نظر سے بھی دیکھا جا رہا ہے ،لیکن جو کچھ کہا گیا ہے وہ تو ہر جگہ ہو رہا ہے۔ ہر جگہ خلقِ خدا دھکے کھا رہی ہے، پریشان ہو رہی ہے جو افسر ہے وہ من مانی کر رہا ہے، جو اہلکار ہے اس نے اپنی سلطنت بنا رکھی ہے۔ کوئی بے چارہ زبان کھول بیٹھے تو اس کا حشر نشر کرنے کے لئے غنڈے بھی پال رکھے ہوتے ہیں۔ پھر پولیس کی ملی بھگت سے کار سرکار میں مداخلت کا پرچہ بھی درج ہو جاتا ہے۔ اگر انٹی کرپشن کا محکمہ صرف کسی کی شکایت پر ہی حرکت میں آتا ہے، وگرنہ سویا رہتا ہے تو یہ اس کی بہت بڑی خرابی ہے۔ پھر اس کے قوانین میں ترمیم ہونی چاہیے، تاکہ یہ اپنے طور پر ایک فعال کردار ادا کر سکے۔

وزیراعظم عمران خان کا کرپشن کے حوالے سے سخت موقف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، اسی لئے انہوں نے بارہا کہا ہے کہ وہ نیب کو مضبوط اور خود مختار دیکھنا چاہتے ہیں۔ غالباً وہ اس امر سے بھی آگاہ ہیں کہ قومی خزانے کے میگا کرپشن سکینڈلز نیب دیکھتا ہے اور اُن کا تعلق براہ راست عوام سے نہیں ہوتا، جو کرپشن سرکاری دفاتر، محکموں، ٹھیکوں اور پولیس میں ہے، اس کے لئے انٹی کرپشن کے محکمے کو فعال بنائے بغیر کوئی چارہ نہیں، کیونکہ اس کرپشن کا تعلق براہ راست عوام کی زندگی سے ہے اور گڈگورننس اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتی، جب تک اس کرپشن پر قابو نہیں پایا جاتا۔ پنجاب میں ڈی جی انٹی کرپشن ہمیشہ سیاسی بنیادوں پر تعینات کئے جاتے رہے ہیں۔

شہباز شریف دور میں ڈی جی انٹی کرپشن نے پنجاب میں میگا کرپشن کیسوں کا ریکارڈ نیب کو دینے سے انکار کر دیا تھا، حالانکہ یہ ان کی بنیادی ذمہ داری تھی۔ اب وفاق اور پنجاب میں نئی حکومتیں آگئی ہیں، عمران خان کی یہ خواہش اور کوشش ہے کہ ملک میں کرپشن کو کم کیا جائے۔ پنجاب ہر لحاظ سے اُن کا بنیادی ہدف ہے، وہ پنجاب کے ہر شعبے میں تبدیلی کے خواہاں ہیں، حسین اصغر پولیس گروپ میں سینئر افسر ہیں، ماضی میں بھی انہیں بڑے کیسوں کی تفتیش سونپی گئی، خاص طور پر جب وہ ایف آئی اے میں تھے تو انہوں نے اہم ذمہ داریاں نبھائیں، انہیں رولز میں ترمیم کرکے ڈی جی انٹی کرپشن بنایا گیا ہے تو کوئی ٹاسک بھی دیا گیا ہوگا۔ پنجاب جو کرپشن کے حوالے سے آج کل بہت زیادہ خبروں میں ہے۔ ایک فعال اور مضبوط انٹی کرپشن نظام کا متقاضی ہے، قواعد و ضوابط تو موجود ہیں، لیکن انہیں استعمال کرنے والے کمزور ہیں، اگرحسین اصغر اس مردہ محکمے میں جان ڈالتے ہیں، تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔

اُن کے لئے ایک آئیڈیل صورت حال ہے۔ وزیر اعظم عمران خان یہ اعلان کرچکے ہیں کہ سیاسی مداخلت اب کسی محکمے میں نہیں ہوگی، پھر دوسرا وہ کرپشن کے بارے میں بالکل واضح اشارہ دے چکے ہیں کہ اسے کسی سطح پر بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ گویا پنجاب میں نئے ڈی جی انٹی کرپشن کے لئے کچھ کرنے کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے پہلی میٹنگ میں افسروں کو تین ماہ کا ٹاسک تو دے دیا ہے، تاہم اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمے میں سالہاسال سے ڈیپوٹیشن پر بیٹھے ہوئے افسران و اہلکاروں کو تبدیل کیا جائے۔ ان میں سے کئی تو کرپٹ افسران کے مخبر بن جاتے ہیں اور کسی بھی کارروائی سے پہلے انہیں باخبر کردیتے ہیں، جب تک بڑے کرپٹ افسران پر ہاتھ ڈالنے کی پالیسی اختیار نہیں کی جاتی، کرپشن کی گنگا بہتی رہے گی اور عوام اسی طرح لٹتے بھی رہیں گے اور دفتروں میں خوار بھی ہوں گے۔

مزید : رائے /کالم