تفہیمِ اقبال: جوابِ شکوہ (9)

تفہیمِ اقبال: جوابِ شکوہ (9)
تفہیمِ اقبال: جوابِ شکوہ (9)

  

بند نمبر(3)

ہے جو ہنگامہ بپا یورشِ بلغاری کا

غافلوں کے لئے پیغام ہے بیداری کا

تو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کا

امتحاں ہے ترے ایثار کا، خود داری کا

کیوں ہراساں ہے صہیلِ فرسِ اعدا سے

نورِ حق بجھ نہ سکے گا، نفسِ اعدا سے

اس بند کے مشکل الفاظ اور ان کے معانی:

یورشِ بلغاری (جنگ بلغاریہ 1912-13ء)۔۔۔ دل آزاری(دل دکھانا)۔۔۔ ایثار (قربانی)، خودداری (خود احترامی)۔۔۔ ہراساں (خوف زدہ، سہما ہوا) صہیل (گھوڑے کی ہنہناہٹ)۔۔۔ فرس (گھوڑا)۔۔۔ فرسِ اعدا( دشمنوں کے گھوڑے)۔۔۔ نورِ حق(سچائی کی شمع)۔۔۔ نفس (پھونک)۔۔۔ نفسِ اعدا (دشمنوں کی پھونک)

اب اس بند کی تشریح:

جن ایام میں یہ نظم (جوابِ شکوہ) کہی اور پڑھی گئی، وہ مسلم امہ پہ بڑے بھاری ایام تھے۔ خلافتِ عثمانیہ زوال آمادہ تھی اور اس کے یورپی مقبوضات پر اس کی گرفت کمزور پڑ رہی تھی۔ بحیرہ بلقان (Baltic Sea) کے اردگرد جو ممالک واقع ہیں ان کو بلقانی ریاستیں کہا جاتا ہے جن میں یونان، رومانیہ ،بلغاریہ، مونٹی نیگرو اور سربیا وغیرہ شامل ہیں۔ آج تو یہ سارے ممالک آزاد اور خود مختار ہیں لیکن 19ویں صدی کے اوائل (1912-13ء) میں یہ تمام ریاستیں ماسوائے یونان کے، ترکی کے قبضے میں تھیں۔ جس ملک کو آج ہم ترکی کہتے ہیں، اس کا نام خلافتِ عثمانیہ تھا اور اس کے ماتحت مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک مثلاً عراق، شام، لبنان، فلسطین، سعودی عرب اور اسرائیل تک شامل تھے۔ دوسری طرف یورپ میں بلقانی ریاستوں میں، جیسا کہ پہلے لکھا گیا، ماسوائے یونان کے باقی سب کے سب یا تو ترکی کے مکمل قبضے میں تھے یا ان پر ترکی کا اثر و رسوخ غالب تھا۔جب ’جواب شکوہ‘ لکھی گئی تو اس وقت بلغاریہ اتنا طاقتور بن چکا تھا کہ وہ خلافتِ عثمانیہ کے مقبوضاتِ یورپ پر حملہ کرنے کے لئے پرتول رہا تھا۔۔۔

یہ جنگ اکتوبر 1912ء میں شروع ہوئی اور مئی 1917ء تک جاری رہی۔ ایک طرف بلقانی ریاستیں تھیں تو دوسری طرف عثمانی فوج تھی۔ بلقانی ریاستوں کی مشترکہ افواج کی تعداد 8لاکھ تھی جبکہ عثمانی فوج کی تعداد ساڑھے تین لاکھ تھی۔ اس دور میں فضائیہ اور ٹینک وغیرہ ابھی تک میدانِ جنگ میں نہیں اترے تھے۔ صرف انفنٹری، ہارس کیولری اور توپخانے کا طوطی بولتا تھا۔ اس 8ماہ کی جنگ میں طرفین کا خاصا جانی نقصان ہوا۔ بلقانی افواج (بلغاریہ، یونان، سربیا اور مونٹی نیگرو) کے 10لاکھ سپاہی اور سویلین مارے گئے جبکہ ترکوں کے ساڑھے تین لاکھ آفیسرز اور جوان کام آئے۔ اس جنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ ترکی اپنے سارے یورپی مقبوضات گنوا بیٹھا اور ایک اور نئی بلقانی ریاست ’البانیہ‘ کے نام سے وجود میں آئی۔

اس وقت برصغیر انگریزوں کا غلام تھا۔ مسلمانانِ ہند کے لئے خلافتِ عثمانیہ ایک مینارۂ نور اور امید کی آخری کرن تھی۔ یہی وجہ تھی کہ خلافتِ عثمانیہ کی اس شکست نے مسلمانانِ ہند کو بڑا پریشان اور آزردہ خاطر کر دیا۔ اقبال کا یہ شعر بھی اسی دور کی یادگار ایک نظم کا ہے:

اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے

کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

قارئین سے معذرت کہ اقبال کے اس ایک بند کے پس منظر کی تفصیل اس قدر پھیل گئی۔ لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ جب تک یہ ’تفصیل‘ نہ دی جائے ایسے سوالوں کا جواب نہیں دیا جا سکتا کہ بلغاریہ کہاں ہے؟ اس کا حملہ کہاں ہوا، کب ہوا اور اس کا نتیجہ کیا نکلا وغیرہ۔ میں گزارش کروں گا کہ قارئین کو جنگ عظیم اول (1914-18ء) سے صرف ایک سال پہلے خلافت عثمانیہ پر بلغاریہ کی اس جنگ کا بھی تفصیلی مطالعہ کرنا چاہیے جس کا ذکر اقبال نے اور بھی جگہوں پر کیا ہے۔۔۔

اب آتے ہیں اس بند کی مختصر وضاحت کی طرف۔۔۔ اقبال فرماتے ہیں۔۔۔ (یہ خیال رکھیں کہ یہ جواب خدا کی طرف سے امتِ مسلمہ کو دیا جا رہا ہے۔ یعنی اقبال کی آواز میں خدا بول رہا ہے اور کہہ رہا ہے):

یہ جو ترکی پر بلغاریہ کے حملے کا اتنا شور (ہنگامہ) برپا ہے، یہ مسلم امہ کے لئے پیغام ہے کہ وہ خوابِ غفلت سے بیدار ہو جائے۔۔۔ کیا مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ ترکوں کو جو شکست ہو رہی ہے اور ان کے ہاتھوں سے یکے بعد دیگرے کئی یورپی مقبوضات نکلتے چلے جا رہے ہیں تو یہ مسلمان کی دل آزاری اور افسردگی کا سبب ہے؟۔۔۔ ایسانہیں ۔۔۔بلکہ یہ اس کے جذبہ ء قربانی اور خودداری کا ایک امتحان ہے؟۔۔۔ اے مسلمان! تو ان دشمنوں کے گھوڑوں کی ہنہناہٹ سے خوف زدہ کیوں ہو رہا ہے؟ یہ جان لے کہ حق و صداقت کی شمع دشمنوں کی پھونکوں سے نہیں بجھ سکے گی!

نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بندہ نمبر30)

چشمِ اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیری

ہے ابھی محفلِ ہستی کو ضرورت تیری

زندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیری

کوکبِ قسمتِ امکاں ہے خلافت تیری

وقتِ فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے

نورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے

اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

چشمِ اقوام(قوموں کی نظر/آنکھ)۔۔۔مخفی (پوشیدہ)۔۔۔ محفلِ ہستی(فانی دنیا)۔۔۔ کوکب (ستارہ)۔۔۔ قسمتِ امکاں (امکانات (Possibilities)کی تقدیر)۔۔۔ کوکبِ قسمتِ امکاں (امکانات کے مقدر کا ستارہ) ۔۔۔اِتمام (خاتمہ)

اب اس بند کی تشریح:

اے مسلمان! دنیا والوں کی نگاہوں سے تیری حقیقت پوشیدہ ہے۔ غیر مسلم قوموں کو خبر ہی نہیں کہ ہماری طرف سے اسلام کیوں نازل کیا گیا تھا اور مسلمانوں کی اصلیت کیا ہے۔ ابھی اس دنیا کو تیری ضرورت ہے۔۔۔تو وہ ہستی ہے کہ سارے زمانے کو جینے کی حرارت تم ہی سے عطا ہوتی ہے۔ اگر تم دنیا میں نہ ہو تو یہ عالمِ شش جہات گویا موت کے منہ میں چلا جائے۔ تیری خلافت (خلافتِ عثمانیہ) مقدر کا وہ ستارہ ہے جس کی امکانی قوتوں سے باقی اقوام و ملل نا آشنا ہیں۔۔۔۔ یہ مت سوچ کہ تیرا کام ختم ہوگیا۔۔۔۔ نہیں ایسا نہیں ہے۔۔۔۔ ابھی تو میری توحید کا آخری باب لکھا جانا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بند نمبر32)

مثلِ بُو قید ہے غنچے میں پریشاں ہوجا

رخت بردوش ہوائے چمنستاں ہو جا

ہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہوجا

نغمۂ موج سے ہنگامۂ طوفاں ہوجا

قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے

دہر میں اسمِ محمدؐ سے اجالا کردے

اس بند کے مشکل الفاظ کے معانی:

مثلِ بو( خوشبو کی طرح)۔۔۔ پریشاں(بکھر جانا، اڑ جانا)۔۔۔ رخت بردوش (کاندھے پر اپنا لباس اٹھائے)۔۔۔ ہوائے چمنستان( چمن کی ہوا)۔۔۔ تنک مایہ(غریب، بے کس، بے بس، نادار)۔۔۔ بیاباں( ان گنت ریت کے ذروں کا مجموعہ)۔

جواب شکوہ کے اس بند کی ایک خاص خصوصیت اور بھی ہے جس کی طرف قارئین کی توجہ دلانی چاہوں گا۔ اب چونکہ جوابِ شکوہ کا اختتام قریب ہے اس لئے خدا کی طرف سے بتایا جارہا ہے کہ اسلام کا مفہوم کیا ہے۔یہ مفہوم آنحضورﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ جوابِ شکوہ کے آخری چار بند جو آپ اگلی اور آخری قسط میں ملاحظہ فرمائیں گے وہ حضرت محمدؐ کی اسی عظمت اور ان کی اسی تعریف و تحسین کا احاطہ کرتے ہیں جو خدا کی زبان سے ادا کی جارہی ہے۔ اقبال کے کلام کا لب لباب یہ ہے کہ جب تک مسلمان آنحضورؐ کا دامن پکڑے رہیں گے۔ کوئی قوم ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔۔۔ اقبال ایک اور جگہ فرماتے ہیں:

عشق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام

میرا قیام بھی حجاب، میرا سجود بھی حجاب

خدا کی طرف سے مسلمان کے شکوے کا جواب جاری ہے۔۔۔۔ خدا فرمارہا ہے:اے مسلمان تو ایک ایسی خوشبو ہے جو ایک غنچے میں بند ہے۔ اس کلی کا پھول بن جانا ایک جبلّی اور فطری ڈویلپ منٹ ہے۔ تو اس غنچے کو پھاڑ کر اس خوشبو کو باہر نکال جو تیری صورت میں کلی کے اندر موجود ہے۔ اس کلی سے باہرنکل اور خوشبو کی طرح چار دانگ عالم میں پھیل جا۔۔۔ باغ کی ایسی ہوا بن جا جس کے کاندھے پر اپنا لباس رکھا ہوا ہو (یہ لباس وہی خوشبو ہے جس کا ذکر مصرعہء اول میں کیا گیا)۔۔۔ اگر تو اپنے آپ کو ایک ناچیز ذرہ سمجھتا ہے تو ذرے سے پھیل کر بیابان بن جا۔

(ریگستان کیا ہے؟ ۔۔۔ ریت کے ذرات کا مجموعہ ہی تو ہوتا ہے۔ کسی ذرے کو انگلی پر رکھ کر دیکھیں اور اپنے سامنے بیابان/ریگستان کا تصور لائیں تو تب آپ کو معلوم ہوگا کہ ذرے اور بیابان میں کیا فرق ہے۔ یہ وہی فرق ہے جو قطرے اور سمندر میں ہے۔ خداوند کریم فرماتا ہے کہ تو اگر صرف ایک موج ہے تو طوفان بن جا جو موجوں کا مجموعہ ہے۔ موج اگر ایک اکیلی ہو تو خاموش ہوتی ہے لیکن اگر اکٹھی ہو جائیں تو سمندری طوفان بن جاتی ہیں۔۔۔)

اے مسلمان! جب تو عشقِ محمدؐ میں ڈوب جائے گا، جب سرکار دوہ عالمؐ کی زندگی سے سبق آموز ہوگا تُو ہر پستی کو بلندی عطا کردے گا۔ یہ زمانہ (دہر) تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔ اٹھ اور پیغامِ رسالتؐ کو عام کر اور ساری کائنات کو جگمگا دے!

مولانا الطاف حسین حالی نے اپنی مسدس میں جزیرہ نمائے عرب کا جونقشہ سرور کائناتؐ کی ولادت سے پہلے کا کھینچا ہے اس کو پڑھ لیں تو آپ پر عیاں ہو جائے گا کہ سرکارِ دو جہاںؐ کی ذاتِ مبارکہ نے پستی کو اٹھا کر کتنا بلند کردیا اور ذرے کو کس طرح بیابان بنا دیا!۔۔۔ مسدس ایک طویل نظم ہے لیکن اس کا وہ بند کہ جب حضرتِ محمد نے کوہ صفا پر چڑھ کر خدا کا پیغام سنایا تو کفارِ مکہ نے کیسی کیسی مخالفت نہ کی۔ لیکن آپؐ نے آخر میں تمام مخالفین کو زیر کرکے ریاستِ مدینہ کی بنیاد رکھی ۔ خدا اب بھی مسلمانوں کو یہ بتا رہا ہے کہ اپنے نبی ؐ کو دیکھیں کہ جنہوں نے عربوں کی تمام خامیوں کو کس طرح خوبیوں میں تبدیل فرما دیا تھا:

مسِ خام کو جس نے کندن بنایا

کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا

عرب، جس پہ قرنوں سے تھاجہل چھایا

پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا

رہا ڈر نہ بیڑے کو موجِ بلا کا

اِدھر سے اُدھر پھر گیا، رخ ہوا کا

مزید : رائے /کالم