تاریخ کے شاہسوار

تاریخ کے شاہسوار

بزمِ جہاں کی پیدائش ،مینا کاری ،رنگ و نور سے سجائے پھولوں پھلوں کے خو ش رنگ ذائقوں خوشبوؤں سے مہکانے کے بعد خالقِ کائنات نے گلشنِ جہاں میں حضرت آدم ؑ کو اتارا آپ ؑ کے قدم دھرتی ماں سے چھونے کے بعد نسلِ انسانی کی افزائش کا نہ ختم ہو نے والا سلسلہ عظیم شروع ہو گیا، آج ہر گزرتے لمحے کے ساتھ دُنیا کے چپے چپے پر افزائش نسل کا عمل جاری و ساری ہے ، آج اربوں انسان اِس سنگ و خشت کے جہاں میں آباد ہیں اِن انسانوں میں اکثریت ایسے انسان ہیں،جن کے دُنیا میںآنے اور جانے کا ساتھ والے گھر کو بھی پتا نہیں چلتا انسان گاجر مولی کی طرح پردہ جہاں پر اُبھرتے ہیں،لیکن کوئی بھی تاثر دیئے بغیر پیوند خاک ہو جاتے ہیں، تاریخ انسانی کے مختلف ادوار میں بے شمار لوگ اور تہذیبیں پوری چکا چوند سے چمکیں، لیکن گردش ایام نے اُنہیں اِس طرح نگلا کہ آج انہیں کوئی جاننے والا بھی نہیں ہے قافلہ شب روز نے نا جانے کتنی تہذیبوں کو ریگستانوں میں بدل ڈالا، کتنی سلطنتیں بے نام ہو گئیں، کتنے خانوادے مٹی کے ذرات بن کر بکھر گئے ،کیسے کیسے نامور گمنامی کے تاریک غار میں اُتر گئے، صدیوں کی شان و شوکت لمحوں میں نشانِ عبرت بن گئی، ہمالیہ جیسے لو گ مٹی کی چادر اوڑھ گئے، وقت اور شب و روز کی کروٹوں نے کے ٹو جیسے لوگ ذرات بنا کر ہوا میں اڑا دیئے، آبِ بقا پینے والے کوچہ گمنامی کے اندھیروں میں گم ہو گئے،اپنے نام کے خطبے پڑھانے والوں کو کو ئی دفنانے والا نہ ملا نہ کو ئی فاتحہ خواں،شہرت کے آسمان پر آفتاب کی طرح کرنیں بکھیرنے والوں کو مرنے کے بعد قبر پر مٹی کا ایک دیا بھی نصیب نہ ہوا، جن کے محلوں کے سبزہ زاروں میں رنگین آنچل لہراتے تھے پھلوں پھولوں کے باغات آباد تھے،جن کے ناموں پر شہر آباد ہوئے آج اُن کی قبروں پر ویرانی کے سائے رقص کرتے ہیں،جن کے چلنے سے زمانے چلتے تھے، جن کی دھڑکن کے ساتھ کروڑوں لوگوں کے دِل مچلتے تھے آج اُن کی مرقدوں پر ویرانی کے ڈیرے ہیں، جن کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے ہزاروں لوگ گھنٹوں انتظار کرتے تھے آج وہ کسی فقیر کی آہٹ کو ترستے ہیں،جن کے ماتھوں پر ایک شکن لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیتی تھی،آج اُن کی ہڈیوں کا چورہ بن گیا کسی نے مڑ کر نہ دیکھا، جن کے دم سے نبض کائنات تھم جاتی تھی، آج اُن کی قبریں چمگادڑوں کی آماج گاہیں ہیں،جن کی ایک جھلک کے بعد دیکھنے والے سمجھتے تھے کہ انہوں نے زمین و آسمان کے سارے خزانے سمیٹ لئے ہیں آج لوگوں کو اُن کے نام تک یاد نہیں ہیں،جن کو پانے کے لئے لاکھوں لوگ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ لیتے تھے مسندِ اقتدار اُن کے قدموں میں پلک جھپکنے میں ڈھیر کر دیتے تھے آج ان کی قبروں پر کو ئی فاتحہ خوان نہیں ہے،جو سمجھتے تھے کہ زمانہ اُن کے دم قدم سے ہے اگر وہ ہیں تو نبضِ کائنات چل رہی ہے اور اگر وہ نہ رہے تو گردشِ افلاک رک جائے گی، لیکن گردشِ ایام اُسی طرح جا ری و ساری ہے، نبضِ کائنات پو ری آب و تاب سے چمک دمک رہی ہے غرض دُنیا کے ہر خطے میں ایک سے بڑھ کر ایک انسان اپنے وقت میں پوری آن بان شان سے آیا اور چلا گیا ۔

دُنیا کی بات چھوڑیں آپ صرف برصغیر پاک و ہند پر ہی نظر ڈالیں مسلمانوں نے یہاں ایک ہزار سال تک حکومت کی، غوریوں سے لے کر مغلوں تک، غزنوی، لودھی خاندان غلاماں اور خاندان سوری ایک سے بڑھ کر ایک سلطان اپنے وقت پر مسندِ اقتدار پر آیا، زمانے کو گرفت میں لے کر خود کو منوانے کی پوری کوشش کی، لیکن گردشِ ایام کے ساتھ ساتھ ماضی کے سیا ہ غار میں اترتا چلا گیا، یہ سارے بادشاہان وقت بڑے سلطان تھے، لیکن کیا آج وہ عوام کے دِلوں میں تاریخ کے اوراق میں زندہ ہیں نہیں بالکل نہیں، لوحِ تاریخ بہت بے رحم سنگ دل بے مروت ہے یہ ہمیشہ انہی لوگوں کی احسان مند ہوتی ہے، جنہوں نے خدا اور سرورِ کونینؐ سے حقیقی محبت کے بعد خدا کی مخلوق سے حقیقی بے لوث پیار کیا، تاریخ کے تذکروں میں وہی لوگ جگہ پاتے ہیں، جنہوں نے انسانوں کی بہتری کے لئے کوششیں کیں،بادشاہانِ وقت کے نام لوگ بھول گئے،لیکن خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ ،خوا جہ نظام الدینؒ ، خوا جہ قطب الدین بختیار کاکی، ؒ امیر خسرو ، مجدد الف ثانی ؒ ، شاہ ولی اللہ ؒ ، سید علی ہجویری ؒ ، بابا فرید ؒ جیسے نا بغہ روزگار عظیم نفوس قدسیہ ایسے لو گ ہیں،جو آج بھی لوگوں کی دھڑکنوں میں آباد ہیں، جن کے مزارات آج بھی تاریکی میں مینارۂ نور کا کام کر رہے ہیں جو آج بھی جہالت کے اندھیروں کو روشنی میں بدل رہے ہیں آخر یہ کون لوگ تھے کہ نہ تو اِن کے پاس قارون کے خزانے تھے نہ ہی ارسطو،سقراط، افلاطون کی دنیاوی ذہانت تھی نہ ہی فوجیوں کے طاقتور لشکر تھے نہ ہی یہ اقتدار کی راہداریوں کے مسافر تھے تو آخر ان لوگوں کو شہرت دوام کس طرح حاصل ہوئی، ہر گزرتے دن کے ساتھ اِن کی شہرت اور عوا م میں مقبولیت کا تاثر بڑھتا جا رہا ہے تو حقیقت یہی سامنے آتی ہے کہ اِن عظیم انسانوں کی زندگیاں احکامات الٰہی اور عشقِ رسول ؐ سے منور تھیں ، اِن کی آنکھوں کا سرمہ مدینہ، کوفہ و نجف کی خاک تھی آج بھی اگر کوئی شہرت کے آسمان پر قیامت تک کے لئے امر ہو نا چاہتا ہے تو اُسے اِن عظیم ہستیوں کے کارناموں، جہاد زندگی اور اسلوب حیات کو مشعل راہ بنانا ہو گا ۔ ہر انسان کی زندگی میں کوئی نہ کوئی ایک لمحہ حادثہ یا واقعہ ضرور ایسا آتا ہے، جب وہ ہمیشہ کے لئے امر بھی ہو سکتا ہے یا پھر تاریخ کے کو ڑے دان کا کوڑا جہاں چاروں طرف گمنامی کے سیاہ اندھیرے ہیں اب جو لوگ اُس لمحے یا مہلت کو غنیمت جان کر حق کا ساتھ دیتے ہیں اپنی ذات کے خول سے نکل کر دوسروں کی بھلائی کا سوچتے ہیں، دوسروں کی زندگیاں آرام دہ بنانے، دوسروں کے غم کم کرنے، دوسروں کو کامیابیاں عطا کرنے کی کو شش کر تے ہیں ایسے لوگوں کی ہر دور میں تاریخ کو تلاش ہوتی ہے،ایسے ہی لوگ تاریخ کی مراد ہوتے ہیں،ایسے ہی لوگوں کی تاریخ احسان مند ہوتی ہے، حق گو ئی کا ایک فقرہ انسان کو صدیوں کی شہرت عطا کر تا ہے ،جبکہ بے کار طویل عمر صرف گمنامی کی چادر عطا کر تی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1