صوبائی وزیر تعلیم کا تلہ گنگ سکول میں طالبعلم پر تشدد کے واقعہ پر نوٹس

صوبائی وزیر تعلیم کا تلہ گنگ سکول میں طالبعلم پر تشدد کے واقعہ پر نوٹس

 لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)صوبائی وزیر سکولز ایجوکیشن مراد راس نے ضلع چکوال کی تحصیل تلہ گنگ کے ایک نجی سکول میں چوتھی جماعت کے کمسن طالبعلم محمد عثمان پر جسمانی تشدد کے ذمہ دار کمسن طالبعلم پر بیہمانہ تشدد کے مرتکب سکول پرنسپل شفیق اعوان کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا ہے۔انہوں نے تشدد کی وائرل ہونے والی ویڈیو دیکھتے ہی ڈپٹی کمشنر چکوال کو ملزم کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی ۔ صوبائی وزیر کی ہدایت پر ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور ان کی گرفتاری کیلئے جگہ جگہ چھاپے مارے جا رہے ہیں تا ہم ملزم گرفتاری کی اطلاع ملتے ہی سکول سے فرار ہو گیا۔صوبائی وزیر مراد راس نے طالبعلم کو ضروری علاج معالجہ مہیا کرنے کی ہدایت کی ہے۔ صوبائی وزیر مراد راس نے صوبہ بھر کے چیف ایگزیکٹیو ایجوکیشن آفیسرز کو جسمانی سزا پر پابندی یقینی بنانے کے سخت احکامات جاری کر دیئے ہیں۔صوبائی وزیر نے افسوسناک واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمسن بچوں پر تشدد کرنے والے اساتذہ نہیں بلکہ حیوان ہیں۔انہوں نے محکمہ سکولزایجوکیشن کو اس بات کو یقینی بنائے جانے کی ہدایت کی ہے کہ آئندہ کسی سکول میں طالبعلم کو جسمانی تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جائے۔ صوبائی وزیر مراد راس نے گورنمنٹ ہائی سکول اعوان ٹاؤن لاہور میں طالبعلموں سے دفتری کام لئے جانے کی خبرپرفوری ایکشن لیتے ہوئے چیف ایگزیکٹیو آفیسرڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی لاہور کو مذکورہ سکول کا دورہ کرکے معاملے کی فوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں سے جسمانی مشقت لینا ایک نا قابل برداشت عمل ہے۔ طالبعلم سکول میں حصول تعلیم کیلئے آتے ہیں اوران سے جسمانی مشقت لینا ایک قابل افسوس فعل ہے۔صوبائی وزیر مراد راس نے مظفر گڑھ میں سکول وین میں سلنڈر پھٹنے کی بنا پر آتشزدگی سے بچوں کی ہلاکت پر دُکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والی بچوں کے والدین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے جھلسنے والے بچوں کی جلد صحت یابی کی دعاکی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سکول وینز سے گیس سلنڈرز ختم کروائے جائیں گے تا کہ بچوں کی زندگی محفوظ رہے۔ قبل ازیں صوبائی وزیر سکولز ایجوکیشن مراد راس نے اے ڈی سی جی مظفر گڑھ آصف الرحمن سے آج ٹیلیفونک رابطہ کیا اور ذمہ داران کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کا حکم دیا۔

مزید : صفحہ آخر