صدر ٹرمپ فلسطین اسرائیلی دوریاستی فارمولے کی حمایت کردی

صدر ٹرمپ فلسطین اسرائیلی دوریاستی فارمولے کی حمایت کردی

نیویارک(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینیوں کے دیرینہ دو ریاستی فارمولے کے مطالبے کی حمایت کر تے ہوئے بتایا وہ رواں سال دسمبر تک فلسطین اور اسرائیل کے تنازعے کے حل کیلئے اپنے منصوبے کا اعلان کر دیں گے۔ اقوام متحدہ میں جنر ل اسمبلی کے اجلاس کی سائیڈ لائن پر انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد یہ بیان جاری کیا۔ قبل ازیں صدر ٹرمپ متعدد بار کہہ چکے ہیں اگر دونوں فریق رضامند ہوئے تو وہ دو ریاستی فارمولے کی حمایت کرنے کو تیار ہیں۔ تاہم اپنے تازہ بیان میں انہوں نے کوئی شرط لگائے بغیر واضح طور پر اس دیرینہ تنازعے کو حل کرنے کیلئے دو ریاستوں کے اصول کو بغیر کسی شرط کے قبول کیا اور اس سلسلے میں اپنے منصوبے کا دو تین ماہ تک اعلان کرنے کا وعدہ کیاہے۔صدر ٹرمپ کے اعلان پر اسرائیلی و فلسطینی لیڈروں نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے فلسطینی ریاست میں فوج نہیں ہونی چاہئے اور وہ اسرائیل کو یہودی عوام کی ریاست کے طور پر قبول کرے۔ اس شرط کے بارے میں فلسطینی موقف یہ ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے اسرائیل قیام امن کے معاملے میں مخلص نہیں ۔ امریکہ کے تمام عرب اتحادی خطے میں دو ریاستی فارمولے کے حامی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے ’’مجھے یقین ہے کچھ بہتری ہونیوالی ہے، اگرچہ سب کہتے ہیں یہ سخت مشکل معاہدہ ہو گا۔ مبصرین کا کہنا ہے صدر ٹرمپ اپنے حتمی فیصلے کی بات کر رہے ہیں جو اس لحاظ سے مشکوک ہے کہ امریکہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر کے وہاں اپنا سفارتخانہ قائم کرنے کا اعلان کرچکا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے صدر ٹرمپ کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے تاہم ان کی حکومت کے سابقہ رویئے پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔

ٹرمپ حمایت

مزید : علاقائی