جبر اور جمہوریت (قسط نمبر13)

جبر اور جمہوریت (قسط نمبر13)

میاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز غیر سیاسی خاتون ہونے کے باوجود سیاست میں کردار اکرنے پر مجبور ہوگئی تھیں ۔خاتون اوّل کے طور پر اپنے معمولات منصبی ادا کرنے کے باوجود وہ خالصتاًگھریلوخاتون تھیں لیکن12 اکتوبر1999کے فوجی انقلاب میں جنرل پرویز مشرف کے حکم پر جب میاں نواز شریف کووزارت عظمیٰ سے ہٹا کرانہیں انکے بھائی شہباز شریف سمیت طیارہ کیس میں جیل پہنچا دیا گیا تو چند ہی دنوں میں بیگم کلثوم نواز شریف نے گھر سے نکل کر سیاسی جدوجہد شروع کردی ۔انہوں نے کن حالات میں حکومت کے خلاف میدان سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا ،وہ کیا گھڑیاں تھیں۔ان کے اہل خانہ اور جماعت پر کیا گزری ؟بیگم کلثوم نواز شریف نے بعد ازاں ان حالات کو انتہائی باریکی اور دردمندی سے ’’جبر اور جمہوریت‘‘ کے نام سے کتاب میں قلم بند کیا تھا ۔بیگم کلثوم نوازکی یہ سیاسی جدوجہد انکے غیر معمولی کردار،دلیری اور جذبے کی داستان ہے کہ انہوں نے سنگین ترین حالات میں آمریت کو چیلنج کیا اور جمہوریت کی شمع روشن کئے رکھی ۔روزنامہ پاکستان میں اس کتاب کو قسط وار شائع کیا جارہا ہے ۔

پاکستان بچاؤ تحریک

’’آج میں مجلس تحفظ پاکستان کے اس پروگرام میں سب سے پہلے ان بھائیوں، بہنوں اور بیٹوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں اور ان کے جذبوں کو سلام پیش کرتی ہوں جو اس وقت کے یزید اور شمر کے سامنے کلمہ حق کہہ کر امام حسین رضی اللہ عنہ کی سنت کو زندہ کرتے ہوئے اپنے ملک میں جبر اور تشدد کا بری طرح نشانہ بنے۔ انہوں نے وطن سے محبت اور اسلام سے والہانہ لگاؤ کی بنا پر یہ ثابت کردیا کہ کوئی بھی یہود و نصاریٰ کا وظیفہ خوار اسلامی جمہوریہ پاکستان سے نہ تو جمہوریت ختم کرسکتا ہے، نہ اس کے آئین کو ہاتھ لگاسکتا ہے اور نہ ہی آئین کی ا سلامی دفعات پر شبخون مارنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ دو قومی نظریہ کی اساس پر قائم ہونے والے ملک کے 14 کروڑ عوام نے یہ ثابت کردیا کہ وہ کسی کو دو قومی نظریہ کا مذاق نہیں اڑانے دیں گے۔

میں 8 جولائی کو پنجاب سے کاروان تحفظ پاکستان لے کر صوبہ سرحد اس لئے جارہی ہوں کہ تمام پاکستانی بھائی قحط زدہ علاقوں میں بے یار و مددگار پڑے اپنے مسلمان بھائیوں کی امداد کے لئے دل کھول کر چندہ دیں۔ اس سے پہلے اس پر امن کارواں کو ایک دفعہ چولستان اور بلوچستان لے کر گئی۔ مگر مجھے سمجھ نہیں آتی کیوں شاہ سے بڑھ کر شاہ کے وفاداروں نے اس کارواں کو روکا جس کے پیچھے انسانیت کی خدمت کا بہت بڑا جذبہ کار فرما تھا۔ شمر نے کربلا میں اہل بیت کا پانی بند کرکے یزید کی خوشنودی تو حاصل کرلی لیکن ہمیشہ کے لیے اللہ کے ہاں راندہ درگاہ ہوگیا اور ذلت و رسوائی اس کی مقدر بن گئی۔ میرا ٹارگٹ اس دفعہ قحط زدہ بھائیوں کے لئے ایک کروڑ روپیہ اکٹھا کرنا تھا جو وقت کے آمروں نے نہ کرنے دیا۔ مگر میں ان کو بتادینا چاہتی ہوں کہ یہ کارواں اپنے نیک مقصد کے لئے چلے گا اور ضرور چلے گا، خواہ کتنے ہی طالع آزماؤں سے ہمیں نبرد آزما ہونا پڑے۔

لاہور کی انتظامیہ کے چھوٹے ملازمین کو او ایس ڈی بنانے سے آئینی طور پر ریٹائرڈ جنرل نے اپنی جھوٹی انا کو تسکین دینے کی کوشش کی۔ ان بے چاروں کا کیا قصور، وہ تو چوبیس گھنٹوں سے بھوکے پیاسے ماڈل ٹاؤن کا محاصرہ کئے ہوئے تھے اور تمہارے چاپلوس اور نااہل ساتھی ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں وائرلیس سیٹ پر ’’سب اچھا‘‘ کی رپورٹ لے رہے تھے۔ تمہارے سفارشی ہوم سیکرٹری وقتی اقتدار کے نشے میں مدہوش آمریت کو تقویت دینے کے لئے الٹے سیدھے حکم نامے جاری کررہے تھے۔ دوسری طرف مظلوموں کے کیمپ ماڈل ٹاؤن میں سورہ یاسین کا ورد جاری تھا۔ تمہاری آنکھیں اندھی ہورہی تھیں، ایک نہتی عورت اپنا مصمم ارادہ لئے ہوئے تمہاری ناپائیدار صفوں کو چیرتی ہوئی اپنے سفر کا آغاز کررہی تھی۔ جنرل مشرف! ماڈل ٹاؤن کے باہر اگر تم خود بھی بیٹھے ہوتے تو اللہ کے فضل و کرم سے تمہیں بھی اسی طرح کی شکست ہوتی کیونکہ میں اپنے ارادوں میں سچی تھی اور ہوں اور خدا ہمیشہ سچائی کا ساتھ دیتا ہے۔ میں حیران ہوں کہ تم کیسے تو پچی ہو؟ کہ تم نے اپنے دفاع میں تو پخانے کی اہمیت اور حیثیت کو پس پشت ڈال دیا اور تمہاری غافلانہ حکمت عملی نے ثابت کردیا کہ تم Professionaly پیشہ ورانہ اہلیت کے اعتبار سے بالکل زیرو ہو۔

"And now, you should not bhi proud to bhi a gunner"

(اور اب تمہیں اپنے توپچی ہونے پر اترانا چھوڑ دینا چاہیے)

اللہ کا قرآن کہتا ہے کہ اگر تم سچائی پر ہو تو تعداد میں کم ہونے کے باوجود بھی فتح اور نصرت تمہارا مقدر ہے۔

میں حکومت کے ترجمان سے پوچھتی ہوں کہ کیا وہ بھی ملک میں غربت، افلاس اور بے روزگاری کے باعث ہونے والی خود سوزیوں کا خفیہ طور پر ریکارڈ اکٹھا کررہے ہیں جس طرح وہ ماضی میں منتخب حکومت کو توڑنے کے لئے سازش کرتے رہے۔ اب میں پوچھتی ہوں کہ پچھلے آٹھ مہینوں میں حکومت کے عاقبت نا اندیشانہ رویہ کی وجہ سے کتنے پاکستانی شہریوں نے خود سوزی کی ہے۔ جب غریب کو کہیں سے امید کی کرن نظر نہیں آئے گی تو مایوس لوگ یہی کچھ کریں گے۔ حکومت جھوٹ کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔ لوگ تنگ آکر خود سوزیاں کررہے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ آمریت کی محبت کے نتیجہ میں ہے؟ تاجر اذیت ناک دور سے گزررہے ہیں۔ جو ایجنڈا تاجروں کو دیا گیا ہے، حقیقت میں خود ساختہ حکومت کو یہ ڈکٹیشن آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دی ہے۔ یہ ملک کا پیسہ اکٹھا کرکے سود کی شکل میں مالیاتی اداروں کی جھولی میں ڈالنا چاہتے ہیں۔

خود ساختہ حکمرانو! یاد رکھو میرے تاجر بھائی کسی آمر کی ڈکٹیشن پر ٹیکس نہیں دیں گے۔ عوام جمہوری عمل کو پروان چڑھتے ہوئے دیکھ کر اپنا پیسہ ایماندار اور باصلاحیت لوگوں کے ہاتھوں میں ٹیکس کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔ اب تم کہتے ہو کہ ایماندار تاجر نیب کے قانون سے نہ ڈرے۔ تاجر تو ایماندار ہیں کیونکہ ان کا پیشہ تو سنت نبوی ﷺ ہے مگر تمہارا نیب کا قانون فرنگی کے وقت کا بنایا ہوا ہے۔ قومیں ہمیشہ لیڈروں کی آواز پر لبیک کہتی ہیں۔ قومیں اپنے لیڈر کے ایک اشارے پر جان کا نذرانہ پیش کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔ محب وطن لوگوں کے سامنے چند ٹکے ٹیکس کی کیا حیثیت ہے، حقیقت صرف اتنی ہے کہ ٹیکس دینے والے تو نیک نیت ہیں مگر ٹیکس لینے والے حکمران عوام میں اپنا اعتماد کھوچکے ہیں۔

یاد رکھو! عوام پر تشدد کرکے ٹیکس کیا، تم ایک پائی بھی وصول نہیں کرسکتے۔ قومی لیڈر اس وقت پابند سلاسل ہیں۔ قوم ان کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی کے ردعمل کے طور پر تمہاری کوئی ڈکٹیشن نہیں لے رہی۔ یہ قوم تمہاری کیوں ڈکٹیشن لے، کیونکہ ان کے لیڈر نے ان کو یہ سبق سکھایا تھا کہ میں کسی غیر منتخب کی ڈکٹیشن نہیں لوں گا اور قوم آج بھی اس موقف پر ڈٹی ہوئی ہے۔

ریٹائرڈ جنرل! قوم تم سے پوچھتی ہے کہ پچھلے آٹھ مہینوں میں ملک کے کتنے قرضے تم نے اتارے ہیں؟ میں قوم کو بتادینا چاہتی ہوں کہ بیرونی ممالک کے تمام قرضے خود ساختہ حکومت نے ری شیڈول کرائے ہیں۔ ان قرضوں کا بوجھ تمہارے جانے کے بعد قوم پر کئی گنا بڑھ جائے گا اور آنے والا وقت مہنگائی کا ایک طوفان لے کر آئے گا۔ جمہوریت کو ختم کرکے ملک کو دنیا میں غیر جمہوری ملک بنادیا گیا ہے، بنیاد پرستی کے معنیٰ نہ سمجھتے ہوئے خود ہی اپنی عوام کو بنیاد پرست قرار دیا جارہا ہے، جو کام غیر مسلم پچھلے پچاس سال میں نہ کرپائے وہ اپنی اس کٹھ پتلی حکومت کے ذریعہ کروارہے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف جو ایک سازش ایک عرصہ سے گردش کررہی تھی کہ کسی طرح اس ملک کو دہشتگرد قرار دیا جائے، مگر وہ جمہوری حکومتوں کے سامنے ہمیشہ بے بس رہے، آمریت کے اس دور میں غیر مسلموں کے اس ناپاک ارادے کو دن بدن پروان چڑھانے میں برابر کی مددگار ثابت ہورہی ہے۔

حال ہی میں پرویزی انقلاب نے 14 کروڑ عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے ایران سے ہندوستان تک پائپ لائن بچھانے کے معاہدے کی منظوری دی ہے۔ میں مجلس تحفظ پاکستان کے فورم سے اس معاہدے کو REJECT کرتی ہوں اور حکومت کو یہ باور کرارہی ہوں کہ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر بھارت سے کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا جو کہ نواز شریف حکومت کا دو ٹوک اور واضح موقف تھا۔ اگر مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر دشمن ملک بھارت کے ساتھ معاہدے پر عملدرآمد کیا گیا تو میں 14 کروڑ عوام کی طرف سے پاکستان بچاؤ تحریک کا بہت جلد اعلان کردوں گی۔ صرف ٹول ٹیکس کے عوض ہم اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچنے دیں گے۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کی لوکل انڈسٹری کو ختم کیا جارہا ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مسلمانوں نے ایک ہزار سال تک برصغیر میں حکمرانی کی مگر ہندو ہمیشہ تجارت پر چھایا رہا، انگریز کے برصغیر پر قبضہ کے بعد بھی مسلمانوں کو صنعت و حرفت کے میدان میں پیچھے رکھا گیا۔ اب بھی یہ معاشی دباؤ کی شکار حکومت اسی ایجنڈے پر کام کررہی ہے۔ اگر ہماری لوکل انڈسٹری اس سازش کے تحت ختم کردی ئی تو ہماری تجارت آہستہ آہستہ ہندوستان کے ہاتھ میں چلی جائے گی۔ اس بات کو تاجر اور صنعت کار اچھی طرح سمجھتا ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں وہی ملک اپنی سیل بڑھا سکتا ہے جس کی کاسٹ آف پروڈکشن دوسرے کے مقابلہ میں کم ہو۔ یہ اکنامکس کا ایک سنہرا اصول ہے۔ مگر افسوس چیف ایگزیکٹو اور اکنامکس میں نہ طے ہونے والا فاصلہ پایا جاتا ہے۔

ملک پر نحوست کے سائے چھائے ہوئے ہیں۔ نواز شریف حکومت نے ڈحائی لاکھ ٹن چینی ملک سے باہر بھیج کر زرمبادلہ کمایا۔ اب 10 لاکھ ٹن چینی درآمد کرکے زرمبادلہ کے ذخائر پر کاری ضرب لگائی جارہی ہے اور موجودہ آمر کی حکومت نے چینی خریدنے کے لئے جن لوگوں کو اجازت دی ہے اس میں وفاق اور سندھ کے وزراء بھی ملوث ہیں۔ میری اطلاع کے مطابق اس وقت کراچی بندرگاہ پر چینی کے لدے ہوئے تین جہاز کھڑے ہیں اور مزید آرہے ہیں۔ اس حکومت نے اپنے لوگوں کو نوازنے کے لئے ڈیوٹی کم کرکے انہیں فائدہ پہنچایا۔ میں یہاں پر قوم کو بتانا اپنا فرض سمجھتی ہوں کہ اس حکومت کے پاس اگلے دو مہینوں کے لئے تنخواہ دینے اور روزمرہ اخراجات کے لئے پیسے ختم ہوچکے ہیں۔

اس حکومت نے 11 ارب روپے کی ریکوری کرکے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اس کو 32 ارب روپے ظاہر کیا۔ جبکہ ہماری حکومت نے 1998-99ء میں صرف حبیب بینک کے ذریعہ 10 ارب کی ریکوری کروائی۔ قوم حقائق جاننا چاہتی ہے۔ غیر مسلموں کی پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے این جی اوز کے وظیفہ خوار ملک کو دیوالیہ کرنے کے درپے ہیں۔ ملکی معیشت آکسیجن پر چل رہی ہے۔ ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہے۔ صحافیوں کو ان کے اپنے ہی پریس کلب کے اندر پولیس گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے، خفیہ والے سادہ کپڑوں میں صحافیوں کے ساتھ غنڈہ گردی کررہے ہیں، لاہور پریس کلب کے اندر صحافیوں پر تشدد تاریخ کا بدترین واقعہ ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے پریس کی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

مزید : رائے /اداریہ