ہسپتالوں کوعلاج سستا کرنے کی ڈیڈ لائن ! دو دن باقی

ہسپتالوں کوعلاج سستا کرنے کی ڈیڈ لائن ! دو دن باقی
ہسپتالوں کوعلاج سستا کرنے کی ڈیڈ لائن ! دو دن باقی

  

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی طرف سے عوامی مفاد میں گزشتہ کچھ عرصے سے جاری چھاپوں کو ایک لابی متنازعہ بنانے اور سیاسی جمہوری عمل میں مداخلت قرار دے رہی ہے اسی حلقے کا کہنا ہے چیف جسٹس آف پاکستان جو کام کر رہے ہیں وہ ان کے کرنے کے کام نہیں ہیں۔ چیف جسٹس کو عدلیہ کی طرف توجہ دینی چاہیے اس پراپیگنڈے کو تقویت دینے کے لئے عدلیہ میں زیر التوا ہزاروں کیسوں کو بنیاد بنایا جا رہا ہے۔

بڑا دلچسپ عمل ہے تقریباً ایک سال سے چیف جسٹس کے عوامی مفاد کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کی مخالفت کرنے والوں کی تعداد ہر آنے والے دن میں کم ہو رہی ہے اس کی وجہ چیف جسٹس کے اقدامات سے عوام کو ملنے والا ریلیف ہے۔ ریلیف ملنے کی رفتار سست ہے ریلیف کم مل رہا ہے رفتار تیز کرنے کی ضرورت ہے اس پر آراء مختلف ہو سکتی ہیں تعلیمی شعبہ بالخصوص میڈیکل کالجز کی لوٹ مار، نجی تعلیمی اداروں کی طرف سے فیسوں میں اضافے کے خلاف اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہاہے۔بات یہی ختم نہیں ہو رہی بلکہ عوامی توقعات سیاستدانوں سے ہٹ کر عدلیہ سے جڑ رہی ہیں ہر دوسرا فرد پوچھتا نظر آتا ہے۔

چیف جسٹس کب ریٹائر ہو رہے ہیں۔ اب تو یہاں تک کہا جانے لگا ہے فروری میں ان کو ریٹائرنہیں ہونا چاہیے ان کو توسیع ملنا چاہیے جب سے چیف جسٹس نے آبی ذخائر کی حقیقی صورت حال سے قوم کو آگاہ کرتے ہوئے آنے والے خطرات سے آگاہ کیا ہے اور ڈیم بناؤ مہم شروع کی ہے اس کے بعد عوامی پذیرائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حالانکہ مخصوص لابی جو عرصہ سے چیف جسٹس کے خلاف مہم جوئی میں مصروف ہے اس نے ڈیم کی تعمیرکے لئے چندہ مہم کو بھی متنازعہ بنانے کی کوششیں کیں، اللہ کا شکر ہے چیف جسٹس کے بروقت نوٹس پر چندہ مہم کو کشکول سے جوڑنے والوں کو منہ کی کھانا پڑی ہے۔ اس بات میں بھی دو رائے نہیں ہے چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے لئے گئے بعض سوموٹو چیلنج بن رہے ہیں اور بعض میں اللہ نے انہیں سرخرو کیا ہے۔

16ستمبر 2018ء کو رجسٹری برانچ لاہور میں نجی ہسپتالوں کے ذمہ داران کو بلا کر علاج سستا کرنے کے لئے 15دن کی ڈیڈ لائن دی گئی لاہور کے نجی ہسپتالوں کے مالکان کی بڑی تعداد جو سپریم کورٹ رجسٹری برانچ لاہور میں موجود تھی انہوں نے یقین دلایا کہ ہم علاج سستا کریں گے اس موقع پر غیر قانونی طور پر تعمیر کئے گئے ہسپتالوں کو گرانے کی بات بھی ہوئی اور ہسپتال مالکان اور چیف جسٹس کے درمیان مکالمے بھی ہوئے۔ 16ستمبر کو 15دن کی دی گئی ڈیڈ لائن میں دو دن باقی ہیں اتوار کو 15دن مکمل ہو رہے ہیں 30ستمبر کو لاہور رجسٹری برانچ میں پھر سماعت ہونے جا رہی ہے۔

30ستمبر کو نجی ہسپتالوں کے مالکان پیش ہوتے ہیں یا نہیں مزید مہلت مانگتے ہیں یا سرنڈر کرتے ہوئے واقعی ہسپتالوں کی رجسٹریشن میں لیبارٹری فیس، ڈاکٹرز وزٹ، کمروں کا کرایہ ، آپریشن چارجز اور دیگر فیسوں میں کمی کرتے ہیں عوامی دلچسپی کے اس کیس میں واقعی سنجیدہ طبقہ بڑی امیدیں لگائے ہوئے ہے۔ ایک حلقہ ہے جس کا موقف ہے چیف جسٹس کے لئے تعلیم کے نجی شعبہ کے بعد ہسپتالوں میں جاری لوٹ مار ٹیسٹ کیس بننے جا رہا ہے۔ پرائیویٹ تعلیم کی طرح پرائیویٹ صحت کے اداروں کی اجارہ داری ملتی جلتی ہے ابھی تک پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی لوٹ مار ختم کرانے کے اقدامات کے حوصلہ افزا نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔

6لاکھ روپے میڈیکل کالج کی سالانہ فیس مقرر ہو جانا کافی نہیں ہے سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلے کے لئے انٹری ٹیسٹ کے نام پر ہونے والے ڈرامہ کے کردار بھی بڑے بھیانک ہیں۔ ایجوکیشن مافیا کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے لئے طاقت ور ریگولیٹری اتھارٹی بنانے اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے لئے سخت ترین قواعد کی تشکیل کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی ضرورت ہے۔

ایجوکیشن مافیا کو کنٹرول کرنے کے لئے مسلسل ان کی مانیٹرنگ اورجزا اور سزا کا نظام قائم کرنے کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ حکومت کو عدلیہ کی اس حوالے سے مدد کرنا ہوگی سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہوکر تعلیمی نظام کی درستگی اور عوام کے لئے سستی تعلیم کے نظام کو عام کرنا ہوگا۔

ایجوکیشن کے بعد دوسرا بڑا مسئلہ صحت کا ہے چھاپوں کی تاریخ پر اگر نظر دوڑائیں تومیاں شہبازشریف نے ہسپتالوں میں سب سے زیادہ چھاپے مارے ان کی حالت زار بہتر بنانے کے لئے سرگرم رہے مگر افسوس ان کی نیک نیتی کے آگے بھی پرائیویٹ ہسپتالوں کے مالکان کا مافیا سینہ سپر رہا۔ 10سال تک میاں شہبازشریف سرکاری ہسپتالوں اور پرائیویٹ ہسپتالوں کے گٹھ جوڑ کی اندرونی کہانی نہ سمجھ سکے نئی حکومت گزشتہ حکومت کی طرح تجربات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔

یا واقعی عملی اقدامات کئے جاتے ہیں ہسپتالوں کی کمی ایک بیڈ پر تین تین مریض توآج تک کوئی حکومت کم نہ کرسکی نئی حکومت کے لئے بڑا چیلنج ہے آج کے کالم کو چیف جسٹس کی پرائیویٹ ہسپتالوں کو علاج سستا کرنے کے لئے دی گئی 15دن کی ڈیڈ لائن تک رکھنا چاہتا ہوں 30ستمبر کی سماعت کے لئے کچھ تجاویز پیش کروں گا چیف جسٹس آف پاکستان کے ریمارکس میں کہا گیا ہے پرائیویٹ ہسپتال پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے قواعد کی پابندی کریں اور (PMDC) کو ہدایت کی آپ علاج معالجے کے لئے ان کی فیس کم کریں دلچسپ بات سامنے آئی ہے (PMDC) کے پاس ایسا کوئی اختیار ہی نہیں ہے وہ فیسوں کا فیصلہ کرسکے آپریشن فیس کیا ہوگی ڈاکٹر کی وزٹ فیس کیا ہوگی۔ ہسپتال کے کمرے کا کرایہ کیا ہوگا۔ اس کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے چیف جسٹس اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں اس وقت سکول بنانا اور ہسپتال بنانا سب سے اچھا اور منافع بخش کاروبار قراردیا جارہا ہے تعلیمی اداروں کے لئے میاں شہباز شریف جیسے دلیر وزیر اعلیٰ کوایجوکیشن مافیا نے ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی نہیں بنانے دی ایسے ہی حالات پرائیویٹ ہسپتالوں کے ہیں ان کوچیک کرنے کے لئے بھی بڑی مضبوط اتھارٹی کی ضرورت ہے اس کے لئے فوری طور پر سپریم کورٹ کو اس بات کا اندازہ لگانا ہوگا سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے چھوٹے بڑے ڈاکٹرز مرد اور خواتین کتنے ہیں جن کے پرائیویٹ ہسپتال ہیں اس کے ساتھ پرائیویٹ ہسپتال اور لیبارٹری کے مالکان کی تعلیمی قابلیت اور ان کی اسناد کی تصدیق فوری ضرورت ہے سرکاری ہسپتالوں کا سارا نظام پرائیویٹ ہسپتالوں سے جڑا ہوا ہے۔

سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹرز کا ڈیوٹی ٹائم اگر 9بجے صبح سے 5بجے تک شام ہوگا ڈاکٹر کی سرکاری ہسپتالوں میں 5بجے تک حاضری یقینی بنائی جائے گی تو کیسے ممکن ہے پرائیویٹ ہسپتالوں میں ڈاکٹر 2بجے آپریشن کر رہا ہو اس کی حاضری سرکاری ہسپتال میں بھی ہو سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج اور سرکاری ہسپتالوں میں لوٹ مار کا آپس میں گہرا تعلق ہے سرکاری ہسپتالوں میں 12بجے کے بعد ڈاکٹرز آؤٹ ڈور میں بھی مریض چیک کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے سٹاف پرچی بنانے کے لئے تیار نہیں ہوتا سرکاری ہسپتال کا کلرک گیٹ کیپر 2بجے ڈاکٹرز کا پرائیویٹ ہسپتال بھی کھولتا ہے یہی حالات لیبارٹری کے ہیں اس اجارہ اداری اور لوٹ مار کے لئے چیف جسٹس کو طویل اننگ کھیلنی پڑے گی سینئر صحافی نے نشاندہی کی ہے پرائیویٹ ہسپتالوں کے پارکنگ کا ٹھیکہ دو دو کروڑ میں ہوتا ہے قارئین کی دلچسپی کے لئے پرائیویٹ ہسپتالوں کی فارمیسی کا ٹھیکہ 40کروڑ میں بھی ہو رہا ہے آخر میں چیف جسٹس صاحب سے درخواست کرنی ہے پرائیویٹ ہسپتال صرف لاہور میں نہیں ہیں یہ کاروباری عوام کو لوٹنے کے لئے ملک کے طول عرض میں پھیل چکا ہے جو بھی اقدامات کریں پورے ملک کے لئے کریں ڈیم بنانے کے ساتھ ساتھ صحت اور تعلیم کا قبلہ آپ نے درست کردیا تو تا قیامت قوم آپ کو یاد رکھے گی۔

مزید : رائے /کالم