خیبر پختو نخوا میں سیاحت کے شعبے کو منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم سے منسلک کر رہے ہیں، عاطف خان

خیبر پختو نخوا میں سیاحت کے شعبے کو منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم سے منسلک کر رہے ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)پہلے مرحلے میں لاہور، کراچی، بلوچستان کے سیاحوں کوخیبر پختونخوا لانا ہے اور دوسرے مرحلے میں اوورسیز پاکستانیوں کو جبکہ تیسرے مرحلے میں غیر ملکی سیاحوں کو راغب کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں جا ئیں گے، سینئرصوبائی وزیر سیاحت و ثقافت، کھیل، آثارقدیمہ، میوزیم و امور نوجوانان عاطف خان نے سیاحت کے عالمی دن کے موقع پر کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سیاحت کے شعبے کو مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم سے منسلک کیا جائے گا کیونکہ خیبرپختونخوا میں سیاحت کا فروغ اور اسے ایک برینڈ کے طور پر متعارف کرانا خیبرپختونخوا حکومت کا ویژن ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یوم سیاحت کے دن کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر صوبائی وزیر جنگلات اشتیاق ارمڑ،وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کامران بنگش، سابق صوبائی وزیر کھیل سید عاقل شاہ، سابق صوبائی وزیر سید ظاہر علی شاہ، سیکرٹری محکمہ سیاحت و ثقافت شاہد زمان، ایڈیشنل سیکرٹری بابر خا ن اور دیگر حکام بھی موجود تھے،، سینئر صوبائی وزیر نے کہاکہ موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہے اس لئے صوبہ کے سیاحتی مقامات، فن و ثقافت، موسمی صورتحال اور سفری سہولیات سمیت دیگر معلومات تک باآسانی رسائی کیلئے مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم لانچ کیا جائے گا جس کی بدولت ہوٹلز، ریسٹورنٹس، رینٹ اے کار سروسز اور سیاحت سے منسلک دیگر کاروباری مراکز، ٹورسٹ سروسز ڈائریکٹریٹ کے ساتھ رجسٹرڈ ہونگے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ پہلے مرحلے میں لاہور، کراچی، بلوچستان کے سیاحوں کو خیبر پختونخوا لانا ہے اور دوسرے مرحلے میں اوورسیز پاکستانیوں کو جبکہ تیسرے مرحلے میں غیر ملکی سیاحوں کو راغب کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں جا ئیں گے۔سینئر وزیر نے کہاکہ سیاحت کی ترقی کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائینگے کیونکہ سیاحت کے فروغ سے نہ صرف صوبہ کی معیشت مستحکم ہو گی بلکہ صوبہ کا ایک مثبت پہلو بھی دنیا کو پیش ہو گا، صوبہ میں سیاحت مستحکم ہونے سے مقامی افراد کے روزگار میں بھی اضافہ ہوگا۔سینئر وزیر نے کہا کہ سیاحت کے شعبے کو ایک چیلنج سمجھ کر قبول کیاہے،اس لئے کوشش ہے کہ سیاحوں کوتمام تر سہولیات مہیا کریں، بہرین سے کالام تک روڈ جلد مکمل کر رہے ہیں،سوات ایکسپریس وے دسمبر تک مکمل ہو جائے گا جس سے تین گھنٹوں کا سفر صرف 45 منٹ میں طے ہوگا، ٹورسٹ یہاں آنا چاہتا ہے ہمیں ڈسکاؤنٹ دینے کی ضرورت نہیں، جو نوجوان نسل ہے وہ یہاں آنا چاہتے ہیں، تاہم ان کو ہمیں روڈ نیٹ ورک، لائن آرڈر اور دیگر سہولیات دینا ہونگی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ،ٹورازم اتھارٹی بنا رہے ہیں جس میں سی اینڈ ڈبلیو ،بلدیا ت سمیت تمام متعلقہ محکمے ہوں گے اتھارٹی بنانے کا مقصدسیاحتی مقامات پر انفراسٹرکچر اور صفائی یقینی بنانی ہے۔ سینئر وزیر نے کہا کہ صوبے میں کم ازکم چار نئے سیاحتی مقامات دریافت کریں گے۔جہاں سیاحوں کو ہر قسم کی سہولیات دی جا ئیگی۔سینئر وزیر نے کہا کہ،ہنڈ کے مقام پر 400 کنال اراضی لے لی ہے، اس پر واٹر سپورٹس کی جگہ بنائینگے، چترال کے روڈ خراب ہیں وہاں 32 وادیاں ہیں 12 مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں ان کے مختلف تہوار ہیں، حکومت وہاں کا انفراسٹرکچر بہترکریگی، نوجوانوں کیلئے یوتھ ایمپکٹ چیلنج کا دوسرا مرحلہ بھی جلد شروع کیا جائیگا اس کے علاوہ نوجوانوں کو بلاسود آسان شرائط پر قرضے فراہم کرنے کا پروگرام بھی ہے،، سینئر وزیر نے کہاکہ سیاحت کی ترقی کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائینگے کیونکہ سیاحت کے فروغ سے نہ صرف صوبہ کی معیشت مستحکم ہو گی بلکہ صوبہ کا ایک مثبت پہلو بھی دنیا کو پیش ہو گا، صوبہ میں سیاحت مستحکم ہونے سے مقامی افراد کے روزگار میں بھی اضافہ ہوگا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر