بند کمروں میں بجٹ تیاری اور وسائل کی من پسند تقسیم انصاف کے منافی ہے، سردار حسین بابک

بند کمروں میں بجٹ تیاری اور وسائل کی من پسند تقسیم انصاف کے منافی ہے، سردار ...

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بند کمروں میں بجٹ کی تیاری سے گریز کرے اور صوبائی اسمبلی کو صوبے کی مالی بد حالی کی وجوہات سے آگاہ کیا جائے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبے کے اپنے محاصل غیر متوقع کمی ، بیرونی امداد میں کمی اور مرکز کی جانب سے صوبے کے حصے کی رقم کی عدم ادائیگی کی تفصیلات سے عوام کو آگاہ کرنا حکومتی ذمہ داری ہے ، انہوں نے کہا کہ جو بجٹ اسمبلی نے پاس کرنا ہے اسی بجٹ کی تیاری میں اسمبلی کو نظر انداز کرنا اور بند کمروں میں مخصوص حلقوں اور علاقوں میں صوبے کے وسائل کی تقسیم انصاف کے منافی ہے،سردار بابک نے کہا کہ پی ٹی آئی کی پہلی صوبائی حکومت نے بھی صوبے کے وسائل کو ضرورت اور پسماندگی کی بجائے سیاسی بنیادوں پر تقسیم کیا تھا ، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا ایک پسماندہ صوبہ ہے اور اس کے محدود وسائل مشاورت اور سوچ سمجھ کر تقسیم کرنا ہی عوام کے مفاد میں ہے،انہوں نے وفاقی بجٹ میں صوبے کو یکسر نظر انداز کرنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وفاق کی جانب سے پسماندہ صوبے کے عوام کے ساتھ زیادتی کی گئی ،سی پیک، چشمہ رائٹ بنک کنال ، پشاور کراچی موٹر وے، قبائلی اضلاع کے تباہ انفراسٹرکچر ، صوبے میں چھوٹے ڈیم بنانے کے منصوبے جیسے اہم منصوبوں کو نظر انداز کرنا اور اس کیلئے بجٹ میں کوئی رقم نہ رکھنا خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ کھلا مذاق ہے ، انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں گیس ،پٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھانے اور اضافی ٹیکسوں کے نفاذ کا مسئلہ نہ اٹھانا صوبائی حکومت کی کمزاوری ہے انہوں نے پھر واضح کیا کہ گیس ،بجلی اور تیل ہمارے صوبے کی پیداوار ہیں اور ان پر سب سے پہلا حق اس صوبے کے عوام کا ہے ، انہوں نے کہا کہ عوام متحد ہو جائیں تو اپنے آئینی حقوق لے کر رہیں گے ، سردار حسین بابک نے مہنگائی اور ٹیکسوں کے سونامی نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ہے ، حکومتوں کو زبانی جمع خرچ سے نکل کر عوام کی مشکلات میں کمی اور مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ ہونا ہو گا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر