قومی اسمبلی ، فواد چودھری کے غیر پارلیمانی الفاظ پر ہنگامہ ، اپوزیشن کا واک آؤٹ ، معافی مانگنے پر احتجاج ختم

قومی اسمبلی ، فواد چودھری کے غیر پارلیمانی الفاظ پر ہنگامہ ، اپوزیشن کا واک ...

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں)قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی طرف سے غیر پارلیمانی الفاظ پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے تحریک استحقاق پیش کرنے پر فواد چوہدری نے اپنے جواب میں کہا گزشتہ برسوں میں اداروں کو تباہ اور خزانہ لوٹا گیا،سٹیل ملز،ریڈیو پاکستان اورپی آئی اے سمیت ادارے تباہ کیے گئے،خورشید شاہ نے 800افراد کو تین دن میں ریڈیو میں بھرتی کیا،خزانے کو ان لوگوں نے اس طرح برباد کیا جس طرح ڈاکے کے پیسے مجرے پر لٹائے جاتے ہیں، وزیراعظم میری بات مانیں تو ان کو الٹا لٹکا دینا چاہیے، ڈاکوؤں کو ڈاکو نہ کہیں تو اور کیا کہیں، نیویارک میں ٹیکسی چلانے والے کو ڈ ی جی ریڈیو بنا دیا، قانون پر عملدرآمد ہوتا تو یہ سب جیلوں میں ہوتے۔ فواد چوہدری کے غیر پارلیمانی الفاظ پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور لوٹا ،ببلوکے نعرے لگائے جبکہ خورشید شاہ نے کہا ایک ذمہ دار وزیر نے گھٹیا زبان استعمال کی ، میں یہ نہیں کہتا کہنے والا گھٹیا ہے بلکہ ان کے کہے گئے الفاظ گھٹیا ہیں، مجرہ جہاں ہوتا ہے سب کو پتا ہے، سوشل میڈیا پر بھی آتا ہے، کہیں تو ہم سکرین لگا کر دیکھا دیں ، وزیر اطلاعات پورے ایوان سے معافی مانگیں،موقع ملا تو800سو کیا ایک لاکھ لوگوں کو نوکریاں دوں گا پھانسی پر لٹکانا ہے تو لٹکا دو۔اس موقع پراپوزیشن لیڈ ر شہباز شریف نے کہا وزیراطلاعات ایوان سے معذرت کریں ورنہ ہمیں واک آؤٹ کرنا ہو گا۔ فواد چوہدری نے معذرت کر تے ہوئے ا پنے الفاظ واپس لے لئے ۔سپیکر اسد قیصر نے وفاقی وزیر اطلاعات کے غیر پارلیمانی الفاظ ایوان کی کارروائی سے حذف کر دئیے اور بر ہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا اسمبلی اور جلسے کی تقریر میں فرق ہوتا ہے،مقدس ایوان میں غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال ناقابل قبول ہے ۔ جمعر ات کو قومی اسمبلی میں تحریک استحقاق پیش کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے کہا ہم نے گزشتہ دن ایک توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا تھا، جس پر کل جواب نہیں آیا لیکن اچھی بات ہے حکومت نے ایک اچھا یوٹرن لیا او ر اپنا فیصلہ واپس لیا۔ وزیر اطلاعات نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا پیپلز پارٹی نے تمام ادارے تباہ کئے اور انہوں نے سابق اپوزیشن لیڈر پر الزام لگایا کہ انہوں نے تین گھنٹوں میں آٹھ سو لوگوں کو نوکریاں دیں، اس سے میرا استحقاق مجروح ہوا ہے، اس بارے میں وزیرا طلا عات آ کر جواب دیں، اس موقع پر بات کرتے ہو ئے سابق اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا اتنی بڑی بات کہی گئی ہے میں تو اطلاعات کا وزیرکبھی نہیں رہا،کوئی وزیربھی براہ راست کسی کو تعینات نہیں کر سکتا، اس معاملے کو استحقاق کمیٹی کو بھجوایا جائے، یہ بات بارہ کروڑ عوام تک پہنچ گئی ہو گی، یہ غیر ذمہ دارانہ بیان دیا گیا ہے، آ پ کی حکومت نے تو وعدہ کیا ہے ایک کروڑ نوکریاں دیں گے لیکن آپ نے تو لوگوں کو نو کر یو ں سے نکالنا شروع کر دیا ہے، مجھے اگر موقع ملا تو 800 کیا ایک لاکھ لوگوں کو نوکریاں دوں گا چاہے پھانسی دے دو، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے لوگوں کو نوکریاں دی جائیں، ہماری حکومت نے روز گار دیا اور اس کاتحفظ بھی کیا ہے۔ وزیر اطلاعات ایوان سے معافی ما نگیں، جب تک معافی نہیں مانگیں گے ہم ایوان میں نہیں بیٹھیں گے، فواد چوہدری کی طرف سے معافی نہ مانگے جانے پر اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا جس پر فواد چوہدری نے کہا یہ تو محاورہ ہے ، حقائق سن لیتے تو اندازہ ہو جاتا میں یہ کہہ کیوں رہا ہوں؟ ڈ ا کو کو ڈاکو کہہ دو تو یہ لوگ برا مان لیتے ہیں، کرپشن پر ہمدردی نہیں دکھائی جا سکتی ۔ اگلے پانچ سال میں ریڈیو بند ہو جائے گا، قانون پر عملدرآمد ہوتا تو یہ حضرات جو واک آؤٹ کر گئے ہیں جیلوں میں ہوتے۔اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی نے کہا میں اپنی ذمہ داری پوری کرتا ہوں سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے، فوادچوہدری نے کہا اسمبلی چلانا نہیں ملک چلانا مسئلہ ہے،ملک ایسے نہیں چلے گا، آپ محبت کا اظہار ضرور کیجئے ، جس پر سپیکر نے کہا ہماری محبت سب کیساتھ ہے اسمبلی کی تقریر اور ہوتی ہے اور جلسے کی تقریر اور ہوتی ہے۔بعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی نے حکومتی ارکان کو اپوزیشن کو منانے کیلئے بھیجا جس پر اپوزیشن ایوان میں واپس آ گئی،فواد چوہدری نے ایوان میں کھڑے ہو کر اپنے الفاظ میں معذرت کرتے ہوئے کہا میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں۔بعد ازاں قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے ضمنی مالیاتی بل 2018ء پر اظہار خیال کرتے ہوئے گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی واپس کرنے کا مطالبہ کیااورسابقہ ادوار میں ملک پر اندرونی اور بیرونی قرضوں میں اضافے پرتشویش کااظہار کرتے ہوئے اس کی کمی کیلئے اقدامات پر زور دیا ۔ اراکین نے سگریٹ پر مزید ڈیوٹی عائد اور امپورٹڈ دودھ پر ڈیوٹی کم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ۔ ترمیمی بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا موجودہ اور سابقہ حکومت کا یہ کہنا کہ ہمیں مشکل وقت میں حکومت ملی ،میں کہتا ہوں سب سے مشکل حالات پیپلز پارٹی کیلئے دو ہزار آٹھ میں تھے جب ایک فوجی حکمران سے حکومت لی گئی تھی اور ملک پر دہشتگردی ، عسکریت پسندی کے گہرے بادل چھائے ہوئے تھے ، مالاکنڈ اور سوات سے پاکستان کا پرچم اتر چکا تھا ہم نے اس وقت حالات کا مقابلہ کیا اور تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر دہشتگردی کا مقابلہ کیا۔ ضمنی بجٹ سے عوام کے مسائل میں کمی کی بجائے اضافہ ہوگا ۔ ایم کیو ایم کے رکن سید صلاح الدین نے کہا ملک پر باری باری حکومت کرنیوالوں نے عوامی مسائل کے حل کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے ۔رہنما مسلم لیگ (ن) احسن اقبال نے کہا بجٹ کے ذریعے ہر حکومت اپنی ترجیحات کا اعلان کرتی ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے جو تجاویز دی گئی ہیں اس میں ملک کے مسائل کا کوئی حل نہیں ہے، ستر سالوں کے بعد بھی پاکستان جس جگہ کھڑا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک کو استحکام نہیں دیا جارہا اور گزشتہ حکومت کی پانچ سالہ کامیابیوں کو ختم کیاجارہا ہے، وزیر خزانہ نے خسارے کو پورا کرنے کیلئے کسی قسم کی تجاویز نہیں دی ، اقتصادی راہداری کے منصوبوں کیخلاف کسی قسم کے اقدامات برداشت نہیں کئے جائیں گے،یہ پاکستان کی تاریخ کے شفاف ترین منصو بے ہیں ۔ ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی واپس لی جائے ،دیامر بھاشا ڈیم کو چندوں سے بنانے کی بجائے اس کیلئے کنسورشیم بنائی جائے ، ایوان کا اجلا س آج جمعہ کے روز تک ملتوی کردیا گیا۔

قومی اسمبلی

مزید : صفحہ اول