پیپلز پارٹی کا مطالبہ منظور ، انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی میں سینیٹ کو نمائندگی دینے کا فیصلہ

پیپلز پارٹی کا مطالبہ منظور ، انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)حکومت اور اپوزیشن نے عام انتخابات2018میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی میں سینیٹ کو بھی نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا ہے ، جسکے بعدکمیٹی کے ممبران کی تعداد18کی بجائے24ہو گی جس میں 2تہائی اراکین قومی اسمبلی اور ایک تہائی سینٹ سے ہونگے، سینیٹ میں موجودپارٹی پوزیشن کے تناسب سے ارکان کے نام دئیے جائیں گے ، قومی اسمبلی میں بھی اسی طر یقہ کا ر پر عمل کیا جائیگا۔بدھ کو سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی برائے عام ا نتخابات2018ء کی تشکیل سے متعلق اجلا س ہو ا جس میں چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی ، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری ، قائد ایوان سینٹ سینیٹر شبلی فراز،رہنما مسلم لیگ ن وسا بق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ،رہنماپیپلز پارٹی و سابق اپوزیشن لیڈر سید خورشید احمد شاہ اورتحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی فرخ حبیب نے شرکت کی۔اجلاس میں2018کے عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیااوردھاندلی کی تحقیقات کیلئے مجوزہ کمیٹی میں قومی اسمبلی کے علاوہ سینیٹ کے ارکان کو بھی شامل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔واضح ر ہے اس سے قبل حکومت نے اعلان کیا تھا کہ کیونکہ انتخابات قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ہوئے ہیں اسلئے اس میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقا ت کیلئے کمیٹی میں صرف قومی اسمبلی کے ارکان شامل کئے جائیں گے،سینیٹ کی نمائندگی اس کمیٹی میں نہیں ہو گی،جس پر پیپلز پارٹی نے احتجا ج کیا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی میں سینیٹ کو بھی نمائندگی دی جائے۔

مزید : صفحہ اول