جرائم میں300فیصد اضافہ ، وزیر اعلی کو رپورٹ پیش

جرائم میں300فیصد اضافہ ، وزیر اعلی کو رپورٹ پیش

لاہور (لیاقت کھرل)صوبائی دارالحکومت میں سنگین وارداتوں سے معمولی کرائم تک 300 فیصد اضافہ، دیگراضلاع سے لاہورمیں تعینات ہونے والے ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کی لاعلمی اور کم مائیگی نکلی ،ایس پیز کی بھی کمزورگرفت ،ڈولفن فورس کی سپیشلائزیشن بھی سنگین واقعات کی روک تھام میں مددگار ثابت نہیں ہوسکی ،وزیراعلیٰ پنجاب کو رپورٹ پیش،84 ایس ایچ اوز ،16 ڈی ایس پیزکے خلاف محکمانہ کارروائی کیلئے شکنجہ تیار کر لیاگیا۔ روزنامہ پاکستان کو ذرائع نے بتایا کہ رواں سال سنگین واقعات میں خطرناک حدتک اضافہ کے حوالے سے ایک خفیہ ادارے کی تیار کردہ رپورٹ سامنے آئی ہے جس س میں اس بات کا انکشاف ہواہے کہ سنگین واردات سے چھوٹے موٹے واقعات تک 300 فیصد اضافہ پولیس کی ناقص منصوبہ بندی ہے ۔جس میں لاہور میں دیگر اضلاع سے تبدیل ہوکرتھانوں میں نئے تعینات ہونے والے ایس ایچ اوز اور ڈ ی ایس پیز کی اپنے اپنے علاقوں سے لاعلم اور کم مائیگ پائے گئے اور کرائم کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ۔ایس ایچ اوز کی کرائم کی روک تھام کے لئے کریمنلز سمیت ڈاکوؤں کے بارے انفارمیشن نہ ہونے سمیت لوگوں سے تعلقات(میل جول) جیسے رجحان میں فقدان سے کرائم کی شرح میں سنگینی نے جنم لیے رکھا ۔ شہر کے 100 سے زائد علاقوں ، 300چوراہوں اور 47 شاہراؤں اور سڑکوں پر ڈاکوؤں ، راہزنوں اور نقب زنوں سمیت چوروں کا مستقل راج رہا اور اب بھی ڈاکوؤں اور راہزنوں کی لوٹ مار میں کمی واقع نہیں ہورہی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو خفیہ ادارے کی تیارکردہ رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ ایس ڈی پی اور ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اووز کی بے خبری ،لاعلمی، کم مائیگی اور غلفت ولاپرواہی کے ساتھ ساتھ لاہور میں تعینات ہونے والے آپریشن دنگ اور انویسٹی گیشن ونگ کی ڈویژنوں کے ایس پیز نے بھی کمزور گرفت کامظاہرہ دکھایا ۔ انہوں نے سی سی پی او لاہور سے 48 گھنٹوں میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے جس کے بعد لاہور پولیس کے 84 ایس ایچ اوز ،16 ڈی ایس پیزکے خلاف محکمانہ کارروائی کے لئے شکنجہ تیارکئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ سی سی پی او لاہور بی اے ناصر کاکہنا ہے کہ الیکشن کے دنوں میں کرائم کی روک تھام پر واقعی توجہ کم رہی ہے جس سے کرائم بڑھا ہے۔ لیکن 300 فیصد اضافہ کی رپورٹ پر لاہور پولیس نے تفصیلی رپورٹ تیار کرلی ہے اور اس میں ابتدائی رپورٹ بھی وزیر اعلیٰ کو پیش کی گئی ہے جبکہ اس کے علاوہ اس سے پہلے ہی نااہلی کے مرتکب ایس ایچ اوز اور ڈی ایس پیز کو معطل اور برخاست کر کے عہدوں سے الگ کیا گیا ۔

جرائم اضافہ

مزید : صفحہ اول