فنڈز کی عدم دستیابی ، شوکت خانم فلائی اوور منصوبہ التواء کا شکار

فنڈز کی عدم دستیابی ، شوکت خانم فلائی اوور منصوبہ التواء کا شکار

 لاہور(عامر بٹ سے) فنڈز کی عدم دستیابی سے شوکت خانم فلائی اوورکا6ماہ میں مکمل ہونے والا منصوبہ التواء کا شکارہو گیا،شہریوں کا فلائی اوورکی تکمیل کیلئے چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا ، چیف انجینئر ایل ڈی اے نے شوکت خانم فلائی اوور3ہفتوں میں مکمل کئے جانے کی نوید سنا دی۔تفصیلات کے مطابق روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کی جانب سے کئے جانے والے سروے کے دوران شہریوں نے کہا کہ شوکت خانم فلائی اوور منصوبہ عوام کیلئے درد سر بن گیا۔ جنوری 2018ء کو منصوبے کا آغاز کیا گیا جو 6ماہ میں مکمل کئے جانے کے دعوے کے برعکس فنڈز کی عدم دستیابی اور ناقص حکمت عملی کے سبب بروقت مکمل نہیں کیا جا سکا ۔شہری محمد نوید، ظہیر الحق، کاشف عباس اور تنویر جٹ نے بتایاکہ سارا دن مٹی دھول اڑنے کی وجہ سے لوگ بیمار ہو رہے ہیں بلکہ ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم ہو کر رہ گیا۔ الطاف کاشف، عمر خان، عثمان نوید اور رضا ملک سمیت دیگر شہریوں نے کہا کہ شوکت خانم فلائی اوور محکمانہ بد نیتی کی بھینٹ چڑھ گیا ہے 40کروڑ روپے کی لاگت سے شروع ہونے والا منصوبہ جلد مکمل نہیں ہوسکے گا۔ شہریوں نے چیف جسٹس پاکستان سے اس منصوبے کی تاخیر اور اس کی تکمیل پر نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ دوسری جانب ایل ڈی اے کے چیف انجینئر مظہر خان نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شوکت خانم فلائی اوور منصوبہ فنڈز کی عدم دستیابی کے سبب زیر التواء تھا ۔فندز چندروز میں مل جائے گا اورمنصوبہ تین ہفتوں میں مکمل کر لیں گے ۔

شوکت خانم فلائی اوور

مزید : صفحہ اول