کوہاٹ ، صحت کی سہولیات کی فراہمی بارے محض بلند و بانگ دعوئے

کوہاٹ ، صحت کی سہولیات کی فراہمی بارے محض بلند و بانگ دعوئے

کوہاٹ (بیورورپورٹ) صوبائی حکومت، محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی طرف سے صحت کی سہولیات کی فراہمی کے بلند و بانگ دعوں کے باجود شکردرہ کے مریض در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔صوبائی حکومت کی جانب سے شکردرہ سو ل ہسپتال کو آپگریڈ کرکے کیٹگری ڈی کا درجہ تو دے دیا گیا مگر مریضوں کو سہولیات فراہمی میں مکمل طور پر ناکام ہے۔لاکھوں کی آبادی پر مشتمل علاقے کے مکینوں کو علاج معا لجہ کی سہو لتیں فراہم کر نیوالے سرکا ری ہسپتال میں ادویا ت کی عدم دستیا بی،ٹیسٹوں اور علاج معالجہ کی نا کا فی سہو لتیں تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،اور ہسپتال میں ایکسرے مشین بھی کام نہیں کر رہے ،تاہم ہسپتال میں لو گوں کے بیٹھنے کیلئے بھی کسی قسم کا کو ئی انتظام مو جو د نہیں۔ جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں پینے کے لئے ٹھنڈے پانی کا کوئی اچھا نظام نہیں ہے بیڈز بھی خستہ حالت میں ہیں۔علاج معالجہ کے سلسلے میں آئے ہوئے مریضوں کے استعمال کے لیے باتھ روم تک نہیں۔شکردرہ کے شہریوں کے مطابق مختلف امراض میں متبلا صاحب استطاعت لوگ تو دیگر شہروں کو علاج کیلئے چلے جاتے ہیں تاہم غریب مریض گھروں میں موت کا انتظار کرتے ہیں جبکہ حکومتی نمائندوں اور محکمہ صحت کی جانب سے صحت کی سہولیات کی فراہمی کے بلند و بانگ دعوں کے باجود سول ہسپتال شکردرہ آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں ہسپتال میں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ شہری حلقوں نے وزیر اعلیٰ محمود خان،سیکرٹری ہیلتھ،کمشنر کوہاٹ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو مفت جدید طبی سہولیات کی فراہمی کا وعدہ پورا کرے اور ہسپتال میں ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کا نوٹس لیکر شکردرہ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کیا جائے تاکہ عوام اور مریض سکھ کا سانس لے سکے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر