طاہر القادری سے رابطے کے بعد وزیراعظم عمران خان کا وزیراعلٰی پنجاب کو ٹیلی فون ، سانحہ ماڈل ٹاؤن ،ملوث افسروں کو عہدوں سے ہٹانے کا حکم

طاہر القادری سے رابطے کے بعد وزیراعظم عمران خان کا وزیراعلٰی پنجاب کو ٹیلی ...

اسلام آباد ، لاہور (ایجوکیشن رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) وزیرِاعظم عمران خان نے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث افسروں کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کا حکم دیدیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم عمران خان نے وزیرِاعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث افسروں کو عہدوں سے ہٹانے کی ہدایات جاری کیں۔ اس سے قبل گزشتہ وزیرِاعظم عمران خان نے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ وزیرِاعطم نے رہنما عوامی تحریک کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے معاملے پر انصاف کی یقین دہانی کروائی ۔وزیرِاعظم نے ماڈل ٹاؤن میں قتل عام کا نشانہ بننے والوں کو انصاف کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا نہتے شہریوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والوں کو نظام عدل سے فرار کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ قانون کے یکساں نفاذ پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں، دیوانی اور فوجداری مقدمات میں فوری انصاف تحریک انصاف کی حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔عمران خان کا کہنا تھا وزیراعلیٰ پنجاب ماڈل ٹاؤن میں قتل عام کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی یقینی بنائیں، واقعے میں ملوث افراد کو مناصب سے الگ کر کے بلاتفریق کٹہرے میں لایا جائے گا۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا وزیراعظم نے ماڈل ٹاؤن میں قتل عام کا نشانہ بننے والے خاندانوں کو امید کی کرن دی ہے، قانون کی بالادستی کیلئے وزیراعظم کا ویڑن قابل تحسین ہے، انصاف کی امید دلانے پر وزیر اعظم پاکستان کے مشکور ہیں۔

وزیر اعظم ہدایت

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر))پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمدطاہرالقادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جن کیخلاف کیس ہے وہ طلب نہیں ہوئے،بنچ کے سربراہ کا اختلافی نوٹ قابل توجہ ہے ،سازش کرنے اور کرانے والے دونوں کی سزا موت ہے۔50 تھانوں کے 1ہزار شوٹرز کس کے حکم پر ماڈل ٹاؤن جمع ہوئے؟منصوبہ بندی اور سازش کرنے والے ہمیشہ پردے کے پیچھے ہوتے ہیں،اگرپولیس کی بھاری نفری کو آئی جی نے بھیجا تو آئی جی کو راتوں رات کوئٹہ سے لاہور کس نے بھیجا؟سانحہ کے منصوبہ ساز اورماسٹر مائنڈز طلب نہیں ہونگے تو ان سوالات کا جواب کون دے گا؟پھانسی دلوانے کے لیے نہیں صرف ملزمان کی طلبی کے لیے عدالت عالیہ میں گئے تھے ،سزا دینا یا چھوڑنا جرح کے بعد کا مرحلہ ہے۔فیصلہ سناتے وقت انصاف کی روح کو پیش نظر نہیں رکھا گیا،فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں،اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرینگے، اس موقع پر خرم نواز گنڈاپور، فیاض وڑائچ، نوراللہ صدیقی، جواد حامد،چودھری شریف، سہیل رضا، سردار غضنفر حسین ایڈووکیٹ، میاں ریحان مقبول،قاضی فیض الاسلام موجود تھے ۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے بنچ کے سربراہ کے اختلافی نوٹ کے بعض اہم نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بنچ کے سربراہ کے 13سوال توجہ طلب ہیں اور شریف برادران کے سازشی کردار سے متعلق ہمارا بھی یہی موقف ہے(1)ٹرائل کورٹ نے کیس کو ڈیفنس کے اینگل سے دیکھا اور قانون شہادت کے ثقہ بند اصولوں کو نظر انداز کیا(2)ڈاکٹر طاہرالقادری کا اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف احتجاج کا پروگرام بنانا اس واقعہ کا شاخسانہ بعیداز قیاس نہ ہے(3)ٹرائل کورٹ نے جے آئی ٹی رپورٹ کو پرکھنے کی زحمت بھی نہیں کی اور نہ ہی 16 جون کی میٹنگ کے منٹس کی معلومات لی(4)ٹرائل کورٹ نے یہ معلومات بھی نہیں لی کہ لاہور شہر میں کتنی اور جگہ پر اس طرح بیریئر لگے ہوئے تھے اور کیا وہ بیریئر بھی اسی انداز سے ہٹائے گئے ؟(5)اس وقت کے وزیراعلیٰ نے اپنے سیکرٹری توقیر شاہ کو Disengage کی بابت پوچھا اس نے کہا کہ یہ پیغام رانا ثناء اللہ کو دے دیا ہے(6)وزیر قانون نے یہ ہدایت سی سی پی او کو دی کہ یہ ٹاسک مکمل کرو(7)رات کے اندھیرے میں پولیس کی مسلح بھاری نفری کو بیریئر ہٹانے کی معقول وجہ نہ بتائی گئی ،گورنمنٹ ایجنسیز ایسا دن کی روشنی میں کرتی ہیں(8)حقائق سے معلوم ہوا کہ یہ تمام واقعات ایک ہی مائنڈ سیٹ کا تسلسل ہیں(9)شہباز شریف، توقیر شاہ اور رانا ثناء اللہ کے بیانات جو جے آئی ٹی میں دئیے گئے کو ملا کر پڑھا جائے تو مستغیث کے موقف کو تائید ملتی ہے(10)ڈاکٹر طاہرالقادری کے طیارے کو راولپنڈی سے لاہور موڑا گیا اس کی کوئی معقول وجہ نہیں بتائی گئی(11)طیارے کا رخ موڑنے کے حوالے سے ٹرائل کورٹ نے مندرجہ ذیل باتوں کو نظر انداز کیاگیا کہ اس سے پہلے نامساعد حالات میں کتنی پروازوں کا رخ موڑا گیا؟کیا اس دن موسم خراب تھا ؟اور کیا محکمہ موسمیات کی رپورٹ منگوائی گئی؟جب پرواز کا رخ تبدیل کیا گیا اس وقت کنٹرول سول ایوی ایشن کے پاس تھا یا کسی اور کے پاس؟یہ سارے ثبوت جو مستغیث کی دسترس سے دور تھے ان کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا چاہئیں تھیں۔(12)پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ایم ایل سی ظاہر کرتی ہیں کہ مضروب کرنے کا سلسلہ 9:20 منٹ کے بعد شروع ہوا جبکہ یہ واقعہ 9 بجے وزیراعلیٰ کے علم میں آچکا تھا(13)پولیس نے نہتے لوگوں کے ساتھ بربریت کا مظاہرہ کیا جن کی پولیس سے کوئی دشمنی نہیں تھی، صرف بیریئر ہٹانے کے مقصد سے اتنا ظلم اس بات کو اخذ کرنے کے لیے کافی ہے کہ کچھ انتہائی غلط یا گڑ بڑہے۔ڈاکٹر طاہرالقادری نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ بنچ کے سربراہ نے 71صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ لکھا جبکہ طلبی کے خلاف فیصلہ دینے والی جسٹس نے 33صفحات پر اپنی رائے دی اور بنچ کے ایک معزز رکن نے براہ راست کوئی کمنٹ نہیں کیا ،33صفحات کے حق میں اپنی رائے دی۔ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ اس امر میں ہمیں رتی برابر بھی شبہ نہیں ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ماسٹر مائنڈ شریف برادران اور ان کے حواری ہیں، انصاف ذبح ہوا، اس ملک میں طاقتور سب کچھ ہیں اور کمزور کچھ بھی نہیں ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم کسی جج پر نہیں ججمنٹ پر رائے دے رہے ہیں، عدلیہ اور معزز ججز کے بارے میں آج تک نہ کبھی کوئی بات کی اور نہ کوئی اس حوالے سے کوئی توقع رکھے جو ہمارے حق میں کہا گیا اس کا ذکر کرنا ہمارا حق ہے حصول انصاف کی جنگ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے لڑیں گے۔ حصول انصاف کے لیے جو بس میں ہوا کرتے رہیں گے، ہماری سب سے بڑی جیت ہی یہی ہے کہ ہم نے اس کیس کو داخل دفتر نہیں ہونا دیا، سانحہ کے بعد بھی قربانیاں دے کر اس کیس کو زندہ رکھا اور اس کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان صبح ٹیلیفون آیا۔ انہوں نے شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کو انصاف دلوانے کے عزم کابار دگر اعادہ کیااور کہا کہ قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں آنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے چودھری پرویز الٰہی، عبدالعلیم خان سے بھی ملاقات ہوئی یہ سب لوگ اول روز سے شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کو انصاف دلوانے کی جدوجہد میں ساتھ ہیں۔

طاہر القادری

مزید : صفحہ اول