مظفرآباد،محکمہ برقیات سفیدہاتھی بن گیا،صارفین لٹنے پرمجبور

مظفرآباد،محکمہ برقیات سفیدہاتھی بن گیا،صارفین لٹنے پرمجبور

مظفرآباد(بیورورپورٹ) محکمہ برقیات سفید ہاتھی کا یرغمال بن گیا ،قوم دونوں ہاتھوں سے لٹنے پر مجبور،ہر ماہ لاکھوں روپے کا چونا لگایا جانے لگا۔عوام نے بجلی چوری کے لیے اور بل نہ جمع کروانے کے لیے سر جوڑ لیے۔محکمہ برقیات کی جانب سے آنے والے بجلی کے بلوں میں ٹیکسز کی بھرمار نے لوگوں کو ذہنی امراض میں مبتلا کر دیا۔استعمال ہونے والی بجلی کی یونٹس پر محصول بجلی51روپے،جنرل سیلز ٹیکس25روپے،نیلم جہلم سرچارج32روپے ،ایف سی سرچارج138روپے،ٹی آر سرچارج28روپے،ٹیلی ویژن فیس35روپے،کوئل ٹیکس900روپے اس طرح ماہانہ ہر شخص سے 900روپے فی گھرانہ محکمہ برقیات فالتو وصول کر کے واپڈا کو دے رہا ہ ے۔مگر آج تک کسی حکومتی نمائندے کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اس طرف توجہ دلوا سکے آئے روز اسمبلی اجلاس منعقد کر کے اپنا ٹی اے ڈی اے کھرا کرنے والے صرف گفتاً شنیداً برخاستاً کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے عوام کے خون پسینے کی کمائی سے حاصل ہونے والے ریونیو پر گلچھرے اڑئے ہیں مگر دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے واپڈا اور محکمہ برقیات کی جانب سے کوئی توجہ نہیں جس شہریان مظفرآباد سمیت ملحقہ علاقوں کے زعماء سیاسی،سماجی،مذہبی اور تجارتی عمائدین نے سر جوڑ کر مشاروت کا آغاز کر دیا ہے۔کہ آئندہ مشترکہ طور پر بجلی بل جمع نہ کروائے جائیں اس طرح عوام سول نافرمانی کی جانب گامزن ہو رہی ہے۔جس کی تمام تر ذمہ داری محکمہ برقیات اور حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر