سندھ آج بھی پرانے دور سے گذر رہاہے ،امیر بخش بھٹو

سندھ آج بھی پرانے دور سے گذر رہاہے ،امیر بخش بھٹو

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر امیر بخش بھٹونے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد سارے پاکستان بھر میں تبدیلی آچکی ہے لیکن سندھ آج بھی پرانے دور سے کزررہا ہے اس لئے کہ یہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے سندھ کے حکمرانوں کا شاہانہ انداز زندگی ہے،پولیس امن وامان قائم کرنے کے بجائے وی آئی پی پروٹوکول میں مصروف ہے اور شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہوچکی ہے،کراچی اور حیدرآباد میں گندگی اور کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں،کرپشن عروج پر ہے،فی الحال شناختی کارڈ کسی غیر ملکی کو نہیں بناکر دیا جارہا ہے اس کے حوالے سے پارلیمنٹ میں پہلے قانون پاس ہوگا اور تما م جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا، کالاباغ ڈیم مردہ گھوڑا ہے اسے تین صوبوں کی اسمبلیاں مسترد کرچکی ہیں اس کے بنائے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بھاشا ڈیم پر تمام جماعتوں نے اتفاق کیاتھا خود پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم گیلانی نے اس کا سنگ بنیاد رکھا تھا،ان خیالات کا اظہا ر انھوں نے جمعرات کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ انور گجر اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔امیر بخش بھٹو نے کہا کہ میں پارٹی چیئرمین عمران خان کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے مجھ پر اعتماد کیا اور مجھے تحریک انصاف سندھ کے صدر کی حیثیت سے ذمے داریاں دیں ہیں میری پوری کوشش ہوگی کہ میں ان کے اور کارکنوں کے اعتماد پر پورا اتروں تحریک انصاف کی سندھ میں تنظیم نو آئندہ چند ہفتوں میں مکمل کرلی جائے گی ہمارا فوکس 2023 کے عام انتخابات ہیں جس میں ہم بغیر کسی اتحادی کے الیکشن میں کامیابی حاصل کرکے سندھ میں حکومت بنائیں گے سندھ تحریک انصاف کا قلعہ ہوگاسندھ کے عوام پیپلز پارٹی سے مایوس ہوچکے ہیںیہی وجہ ہے کہ 2018کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے سندھ خصوصا کراچی میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔امیر بخش بھٹو نے کہا کہ خبیر بختونخوا صوبہ تحریک انصاف کے حوالے سے بڑی مثال ہے جہاں پانچ سال تحریک انصاف کی حکومت رہی اس دوران وہاں بہت ترقی ہوئی اور عوام میں خوشحالی آئی ہے پولیس کا نظام ٹھیک کردیا گیا ،اور وہ صوبہ ایک پر امن صوبے کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پروٹوکول اور سیکیوریٹی میں فرق ہوتا ہے پروٹوکو ل فضول چیز کا نام ہے جبکہ سیکویریٹی صدر اور وزیر اعظم کے لئے ضروری ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ سندھ میں وڈیرا یا جاگیرداری نظام نہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر