عوامی خوشحالی کیلئے دہشتگردی کیخلاف ملکر جنگ لڑنا ہو گی : انڈونیشن سفیر

عوامی خوشحالی کیلئے دہشتگردی کیخلاف ملکر جنگ لڑنا ہو گی : انڈونیشن سفیر

ملتان (نیوز رپورٹر) پاکستان میں تعینات انڈونیشیا کے سفیر آئیون سویودھائی امری(Iwan Suyudhie Amri)نے کہا ہے کہ پاکستان کی ضرورت کا 60فیصد پام آئل(بقیہ نمبر48صفحہ7پر )

انڈونیشیا فراہم کرتاہ ے تاہم دنیا میں پاکستان کنو کے ہم دوسرے بڑے خریدار ہیں۔وہ گزشتہ روزایوان تجارت وصنعت ملتان میں ایک ظہرانہ کے دوران ممبران سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ قیام پاکستان سے ہی پاکستان اورانڈونیشیا دونوں برادراسلامی ممالک کے درمیان بہترین تعلقات ہیں لیکن ابھی بھی بہت سے شعبوں میں بہت زیادہ تعلقات بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی بڑا مسئلہ ہے ہم سب کو امن اور اپنے عوام کی خوشحالی کے لیے اس کے خلاف اکٹھے ہو کر لڑنا ہے۔ یہ ہم سب کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔پاکستان کے ساتھ تجارت میں تجارتی توازن انڈونیشیا کے حق میں ہے۔ تاہم پاکستانی آم، کنو،ٹیکسٹائل مصنوعات اور دیگر مصتوعات انڈونیشیا کی منڈیوں میں بھیج کر اس توازن کو بہتر کرسکتا ہے۔پاکستانی تاجر جب اپنی مصنوعات ہماری منڈیوں میں لائیں گے تو ہمارے عوام ان سے مانوس ہونگے۔ ہماری حکومت دوردراز علاقوں سے انفرسٹرکچر کی تعمیر پر بڑی توجہ دے رہی ہے تاہم اب بھی دوردراز علاقوں میں اشیائے ضروریہ بہت مہنگی ہوجاتی ہیں۔پاکستان ان منڈیوں کی ضرورت بھی پوری کرسکتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ کیپسٹی بلڈنگ کے لیے ایوان تجارت وصنعت کے پلیٹ فارم سے مل کربہترین کام کیا جاسکتا ہے۔ہمیں یو ایس اے اور چائنہ کے ساتھ تجارت میں بڑے چیلنج ہیں تاہم ہماری معاشی صورتحال مضبوط ہے ہمیں دونوں ممالک کے درمیان معاشی،معاشرتی اور دیگر شعبوں میں ایکس چینج پروگرامز تواتر سے چلانے چاہیں آئندہ ماہ انڈونیشیا میں ایک بڑی صنعتی و تجارتی نمائش منعقدہورہی ہے۔اس میں آپ لوگ زیادہ سے زیادہ شریک ہوں۔ انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان سیروسیاحت کو فروغ دینے کے لیے بے شمار مواقع ہیں اوراس سلسلے میں کام بھی ہورہا ہے۔دونوں ممالک کے میڈیا گروپس اورسرکاری نیوز ایجنسیوں کے درمیان پہلے ہی تعاون ہورہاہے۔وائس چانسلر نوازشریف زرعی یونیورسٹی ملتان ڈاکٹرآصف علی نے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ زراعت کے حوالے سے جنوبی پنجاب کاخطہ بہت اہمیت کاحامل ہے۔یہاں صرف آم ہی نہیں دیگر پھل،سبزیاں اورہرطرح کی فصلیں کاشت ہوتی ہیں۔ہمیں ان کو ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں ڈھال کر دنیا بھر میں بھیجنے کے لیے پوائنٹ وینچرز پر کام کرنا ہوگا۔یہاں کے تعلیمی اورریسرچ کے اداروں کے ساتھ مل کر ایکس چینج پروگرامز کوفروغ دینا خصوصاً طلبائاور فیکلٹی ایکس چینج پروگرامز شروع کرنھے چاہیں۔ ملتان کے بعد تاشقند میں مینگو فیسٹیول کامیابی سے کیا۔اگر ا نڈونیشیا تعاون کرے تووہاں بھی مینگو فیسٹیول منعقد کرنے کیلئے تیارہیں ایوان تجارت وصنعت ملتان کے صدر ملک اسرار احمد اعوان نے کہاکہ پاکستان اورانڈونیشیا کے درمیان تجارت بڑھانے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے خصوصاً ٹیکنیکل تعاون اور باہمی تجارت کے شعبوں جبکہ ملتان چیمبر اور کچھ بڑے انڈونیشین چیمبرز کو ’’سسٹرز چیمبرز‘‘ بنانے کا اعلان بھی کیا جائے۔اسی طرح انڈونیشیا میں کاروبار کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں آگاہی کے لیے ملتان میں سیمینارز منعقد کیے جائیں۔جنوبی پنجاب کی مصنوعات کو انڈونیشیا میں ڈیوٹی فری رسائی دی جائے۔ ایوان تجارت و صنعت ملتان کی سینئر نائب صدر رومانہ تنویر شیخ اور نائب صدر خواجہ فاروق نے کہاکہ جنوبی پنجاب کی خواتین کاروبار میں نام پیدا کررہی ہیں ان کو انڈونیشین وومن انٹر پرینورز سے متعارف کرانے اوران کے تجربات سے استفادہ کرنے کے مواقع فرہم کرنے کے لیے انڈونیشین سفارت خانہ مدد فراہم کرے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر