”اگر میں آپ سے کہوں کہ یہ چیز چھوڑ دیں تو آپ کیا کریں گے؟“ چیف جسٹس نے وکیل سے یہ سوال کیا تو آگے سے حیران کن جواب مل گیا

”اگر میں آپ سے کہوں کہ یہ چیز چھوڑ دیں تو آپ کیا کریں گے؟“ چیف جسٹس نے وکیل سے ...
”اگر میں آپ سے کہوں کہ یہ چیز چھوڑ دیں تو آپ کیا کریں گے؟“ چیف جسٹس نے وکیل سے یہ سوال کیا تو آگے سے حیران کن جواب مل گیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ میں پٹرولیم مصنوعات پر ہو شربا ٹیکسز کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اور پی ایس او کے وکیل کے درمیان مکالمہ ہوا ۔

کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے پی ایس او کی جانب سے پرائیویٹ وکیل ہائر کرنے پر اظہاربرہمی کیا اور وکیل پی ایس اومحمود مرزا سے استفسار کیا کہ انہوں نے کیس کی کتنی فیس لی ہے جس پر وکیل نے بتایا کہ انہوں نے کیس کیلئے 15 لاکھ روپے فیس لی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے اداروں کی حالت پہلے ہی پتلی ہے اوپر سے پرائیویٹ وکیل لے لیتے ہیں، پی ایس او کی نمائندگی اٹارنی جنرل آفس کو کرنی چاہیے، پی ایس اوانتظامیہ نے ادارے کا بیڑہ غرق کردیا، آپ گِدھ کا دفاع کرنے آگئے ہیں۔

چیف جسٹس نے وکیل پی ایس او محمود مرزا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا میں کہوں روسٹرم چھوڑ دیں تو کیا کریں گے؟ وکیل نے جواب دیا جناب کے حکم پر روسٹرم چھوڑ دوں گا، عدالت کے حکم پر روسٹرم کیا شہر چھوڑ دوں گا جس پر چیف جسٹس نے وکیل سے کہا بس پھر روسٹرم چھوڑ دیں ہم معاملہ نیب کو بھجوارہے ہیں۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد