” اب ڈی آئی جی شہزاد اکبر میرے گھر کا پتہ ڈھونڈ رہا ہے کیونکہ میں نے وزیراعلیٰ سے۔۔۔“معروف صحافی فرخ شہباز کا ایسا انکشاف کہ ہرپاکستانی دنگ رہ گیا

” اب ڈی آئی جی شہزاد اکبر میرے گھر کا پتہ ڈھونڈ رہا ہے کیونکہ میں نے ...
” اب ڈی آئی جی شہزاد اکبر میرے گھر کا پتہ ڈھونڈ رہا ہے کیونکہ میں نے وزیراعلیٰ سے۔۔۔“معروف صحافی فرخ شہباز کا ایسا انکشاف کہ ہرپاکستانی دنگ رہ گیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے گزشتہ روز سول سیکریٹر میں فنانس ڈویژن سے میٹنگ کے بعد واپس آ رہے تھے کہ اس دوران صحافی نے ان سے انتہائی سخت سوالات کیے جس پر انہیں سیکیورٹی نے بازو سے پکڑ کر پیچھے کر دیا تاہم اب صحافی نے دھمکیاں ملنے کا دعویٰ کر دیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق صحافی فرخ شہباز وڑائچ نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ” میں نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے سوال کیا تھا جو کہ ان سے زیادہ کسی اور کو برا لگا اور اب مجھے دھمکیا ں دی جارہی ہیں ، میرے ٹی وی چینل کے بیورو چیف نے مجھے کہا ہے کہ ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد اکبر میرے گھر کا پتا مانگ رہاہے ۔ صحافی نے کہا کہ میری گزارش ہے کہ میں ان باتوں سے ڈرنے والا نہیں ہوں کیونکہ میرا کام ہے سوال پوچھنا اور وہ میں پوچھتا ہی رہوں گا ۔“

یاد رہے کہ میڈیا پرسن سے بدسلوکی کا ایک ایسا ہی واقعہ سول سکریٹریٹ لاہور میں اس وقت دیکھنے کو ملا جب نوجوان صحافی و اینکر فرخ شہباز وڑائچ نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی فنانس ڈویژن سے میٹنگ کے بعد واپسی پر ان سے پے درپے سوال کردیئے جس پر سیکیورٹی والوں نے فوری طور پر فرخ شہباز وڑائچ کے دونوں بازو پکڑ کر ان کو ویڈیو بنانے سے روکنے کی کوشش کی اور انہیں سوال کرنے سے بھی روکناچاہا جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب انکے سوالات حیرانی سے سنتے ہوئے آگے نکل گئے۔

فرخ شہباز وڑائچ نے سوال کیا کہ ” سر کہا جارہا ہے کہ آپ چار مہینے مزید رہیں گے اسکے بعد آپ کو ہٹا دیا جائے گا ،پارٹی کے سینئر وزرا کہہ رہے ہیں کہ آپ فائلیں نہیں پڑھ سکتے ،کیا کہیں گے اس پر ؟“ جواب میں وزیر اعلیٰ نے اچنبھے سے پوچھا ” فائلیں نہیں پڑھنی آتیں “ جواب دیکر وہ چلتے گئے جبکہ سکیورٹی والوں نے فرخ شہباز کو بازووں سے جکڑ لیا تو وہ اونچی آواز میں بولے” سرکچھ تو جواب دیں ،آپ کا مذاق اڑایا جارہا ہے ، سرآپ کے سیکیورٹی والے بات نہیں کرنے دے رہے ،سر میڈیا پر لوگ آپ کو دیکھ رہے ہیں لیکن وزیر اعلیٰ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔

ویڈیو دیکھیں:

مزید : قومی