شریف سیاست

شریف سیاست
شریف سیاست

  

چانکیائی سیاست کے بنیادی فلسفہ ’’منفی پراپیگنڈہ‘‘کا ابتدائی سبق ہے کہ اتنا جھوٹ بولو کہ سچ لگنے لگے، شریف سیاست اور طرز حکومت کی بنیاد بھی ہمیشہ اسی پراپیگنڈہ طرز پر استوار رہی۔جو کام انہوں نے نہیں کئے اس کا بھی کریڈٹ لینا کوئی ان سے سیکھے اور جو کارنامے انجام دئیے ان کی تو کوئی نظیر ان کے نزدیک ہے ہی نہیں۔ مخالفین کے خلاف بھی اس پارٹی کے لوگ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں تاہم اس کیلئے ان کا اپوزیشن میں ہونا ضروری ہے۔

نواز شریف اب نہ صرف فارغ ہیں بلکہ ان کے پاس ٹائم کی بھی بہتات ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے سزا کی معطلی کا تفصیلی فیصلہ آنا ابھی باقی ہے اور یہ کب تک آئیگا اس بارے کچھ کہنا ممکن نہیں۔ تفصیلی فیصلہ آنے تک نیب فیصلہ پر نظر ثانی کی اپیل کر سکتا ہے نہ فیصلہ کو قانونی طور پر چیلنج کیا جا سکتا ہے لہٰذا کم از کم نواز شریف کی حد تک راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ نواز شریف نے سیاست میں بھر پور کردار ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے،بیگم کلثوم نواز کے چالیسویں تک وہ جاتی امرا تک محدود رہیں گے، پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے مشورہ سے آئندہ کی سیاست بار ے لا ئحہ عمل طے کریں گے۔دیگر اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیں گے،بیگم کلثوم نواز کے چالیسویں کے بعد نواز شریف فُل فارم میں سیاست کرینگے،دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت کو بھی اعتماد میں لیا جائیگا اور یہ تمام مراحل شہباز شریف کے بغیر نواز شریف تن تنہا انجام دیں گے۔بظاہر پارٹی کی قیادت شہباز شریف کے ہاتھ میں رہے گی مگر عملاً نواز شریف قیادت کا فریضہ خود انجام دینگے۔اندرون خانہ حالات سے آگاہ لوگوں کا کہنا ہے کہ شہباز شریف ان دنوں پارٹی میں مرکزی حیثیت بنانے کیلئے کوشاں تھے۔ پارٹی میں موجود نواز شریف کے خیر خواہوں نے ان کو خبردار کیا اور پارٹی امور خود سنبھالنے کا مشورہ دیا،جس کے بعد نواز شریف نے پارٹی اور سیاسی امور اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

عمران خان کا وزیر اعظم بننا اور ن لیگ کا پنجاب بدر ہونا ن لیگی قیادت کو ہضم نہیں ہو رہا۔نواز شریف کی آئندہ سیاست کا مرکز و محور بھی پنجاب ہی ہو گا،وہ ایک بار پھر ’’جاگ پنجابی جاگ،تیری پگ نوں لگ گیا داغ‘‘ جیسے نعرے لیکر میدان میں آنے کی تیاری کر رہے ہیں۔اگر چہ مرکز میں بھی تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دینے کا منصوبہ ہے مگر یہ کام وہ شہباز شریف اور اتحادیوں کے سپرد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں،پنجاب میں پارٹی پوزیشن کو اپنے حق میں کرنا اگرچہ مشکل ہے مگر ناممکن نہیں۔البتہ مرکز میں صورتحال مختلف ہے،پیپلز پارٹی کسی بھی طرح دونوں بھائیوں پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں،فضل الر حمٰن کو پیپلز پارٹی کو منانے کا ٹاسک دیا گیا مگر انہیں اس میں ناکامی ہوئی اس لئے اب توجہ پنجاب پر مرکوز کر نے کی حکمت عملی طے کی جا رہی ہے۔

پنجاب میں تحریک انصاف اور ن لیگ کی عددی اکثریت میں ا رکان کا فرق بہت زیادہ نہیں،نواز شریف اگر زرداری والا فارمولا استعمال کریں تو اس فرق کو مٹانا مشکل کام نہیں، اس حوالے سے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔پارٹی کے مرکزی رہنماء سعد رفیق اور خواجہ آصف کی آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والوں سے رابطہ کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے،متعدد رابطوں کے باوجود اب تک ان کو کامیابی نہیں ملی،مستقبل قریب میں اس کا امکان بھی نہیں ہے لیکن اگر خود نواز شریف متحرک ہوتے ہیں اور ان ارکان سے زرداری فارمولا کے تحت ملاقات کر کے ان کے مطالبات فوری تسلیم کرتے ہیں توکوئی امید باندھی جا سکتی ہے۔

پنجاب پر اس مہربانی کی ایک وجہ وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار بھی ہیں،جو جوڑ توڑ کی سیاست سے ناواقف ،طبعاً ایک نفیس اور شریف انسان ہیں۔ان کی اس خوبی کو نواز شریف ان کی کمزوری جان کر حملہ آور ہونے کیلئے پر تول رہے ہیں،شائد یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے پنجا ب کے سیاسی معاملات کو اپنے ہاتھ میں رکھا ہواء ہے جس پر یار لوگ اعتراض بھی کرتے ہیں۔سیاسی مخالفین تو عثمان بزدار کے متعلق یہ کہنے سے بھی نہیں کتراتے کہ وہ عارضی وزیر اعلیٰ ہیں جو انکی غلط فہمی ہے۔ در حقیقت عمران خان کو شریف برادران کے سیاسی منصوبوں کی بھنک پڑ چکی ہے اسی لئے انہوں نے ایک غیر معروف شخص کا اس عہدہ کیلئے انتخاب کیا،ورنہ اس عہدہ پر مضبوط امیدواروں کی کمی نہیں ہے۔عثمان بزدار ایک صلح جو اور نیک خو سیاستدان ہیں اور ایسے لوگوں کو اہم ذمہ داری ملنا ہی تبدیلی کی نشانی ہے۔

نواز شریف کیلئے سیاست میں زندہ رہنا زندگی موت کا مسئلہ ہے،اگر ان کی سیاست پنجاب کی حد تک ختم ہو گئی تو ان کا سب کچھ ختم ہو جائے گا،اس خطرہ کے پیش نظرنواز شریف نے خود کو پنجاب تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ پنجاب میں کامیابی سے ہی ملکی سیاست پر غلبہ حاصل کیا جا سکتا ہے،گزشتہ دنوں ہونے والے پارٹی اور اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پیپلز پارٹی کو سندھ میں فری ہینڈ دیا جائے گا البتہ کراچی اور سکھر میں اتحادی جے یو آئی (ف) کو ایک ایک قومی دو دو صوبائی سیٹیں دلانے کی کوشش کی جائے گی،کراچی میں ایم کیو ایم کو کو دوبارہ ابھرنے کا موقع دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا،کے پی کے ،بلوچستان اسفند ولی،فضل الرحمٰن، محمود اچکزئی کے حوالے کر دیا جائے گا،اس حوالے سے اتحادیوں کو اعتماد میں لیا جا چکا ہے۔

تحریک انصاف کی قیادت جو ابھی تک حکومت سازی میں مصروف ہے اس کے پاس سازشوں سے نبرد آزما ہونے کا شائد ٹائم نہیں،اور اس حکومتی کمزوری سے اپوزیشن نے فائدہ اٹھانے کی پوری پوری منصوبہ بندی کر لی ہے،اس مقصد کیلئے شریف خاندان کی چہیتی اور لیگی دور میں مراعات یافتہ افسر شاہی کو بھی استعمال میں لانے کا منصوبہ ہے،شریف دسترخوان کی خوشہ چیں بیورو کریسی کو ہدائت کی گئی ہے کہ وہ تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت ،حکومتی اور جماعتی عہدیداروں کو اعتماد میں لیکر ان کی قربت حاصل کرے اور لیگی منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں معاون ثابت ہو،ان حالات میں پی ٹی آئی حکومت کو انتہائی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

۔

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ