ٹھگ آف پاکستان 

ٹھگ آف پاکستان 
ٹھگ آف پاکستان 

  

آج کل بولی وڈ انڈیا میں ریلیز ہونے والی ہندی فلم ٹھگ آف ہندوستان کا بڑا چرچا ہے اور اسکا پہلا ٹریلر ریلیز ہو چکا ہے جسے بہت پذیرائی مل رہی ہے۔ہندوستان کی تاریخ ٹھگوں سے بھری پڑی ہے ۔انگریز دور میں امیر علی نامی مشہور ٹھگ گزرا ھے جس پر کتاب لکھی گئی ہے جو کہ بیسٹ سیلر رہی ہے۔

وطن عزیز میں بھی ٹھگوں کی کمی نہیں ہے ،ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ھیں۔ یہ اور بات کہ ٹھگوں کی اکثریت منتخب لوگوں میں نظر آنے لگتی ہے ،باقی ٹھگ بیوروکریسی اور دیگر اداروں سے تعلق رکھتے ہیں۔

استاد راحت علی خان کا گانا۔ نیناں ٹھگ لینگے بہت پاپولر ہوا تھا۔مگر پاکستان میں سالہاسال عوام کو ٹھگنے کی جو رفتار جاری ہے اسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے باکس آفس پر ابھی راحت علی خان بہت پیچھے ھیں۔

قائداعظم کی وفات کے بعد اس ملک کو ڈکٹیٹر ٹھگتے رہے اور عوام انکی ہر بات پر یس سر کرتی رہی، کیونکہ وہ نا نہیں سنتے۔ پھر جمہور کا دور آیا حکمرانی،جاگیرداروں کے پاس آگئی فیوڈل ازم کی ایک ہی سوچ ہوتی ہے بس کچل دو، ہاری بنا لو ،مزارع بنا لو، پھر ٹھگنے کے لئے سرمایہ دار آگئے ۔انکے پاس عوام کو ٹھگنے کے جو طریقے تھے انکی مثال نہیں ملتی۔ 1983 میں آمریت کی نرسری میں اگنے والے جمہوری پودے آج عوام کو بتا رہے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو۔ 

ووٹر بیچارے کو کبھی نالیوں کے نام پر ٹھگا گیا، کبھی سڑکوں کے نام پر، کبھی بجلی کے نام پر تو کبھی پا نی کے نام پر۔

پہلے زمانے کے ٹھگوں کا مطمع نظر مال دولت ہوتا تھا اور وہ جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔دور جدید کے ٹھگ کبھی ووٹ ٹھگ لیتے ہیں تو کبھی نوٹ ٹھگ لیتے ہیں ۔بجٹ نام کی مشین ہر سال عوام کو ٹھگتی ہے۔تبدیلی سرکار بھی میدان میں ہیں اور میرے ذہن میں ایک کروڑ نوکریاں۔ پچاس لاکھ گھر۔ بلین ٹری منصوبے گھوم رہے ہیں مگر پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے مجھے لگتا ھے میں ٹھگا گیا ہوں آپکو کیا لگتا ہے؟؟؟

موبائل میسج کے ذریعے بے نظیر انکم سپورٹ کے اتنے میسج آ چکے ہیں کہ ہم کب کے لکھ پتی بن چکے ہیں اور یہی رفتار جاری رہی تو بمطابق میسجز ہم بہت جلد کروڑ پتی کے منصب پر فائز ہونگے مگر جب تفصیلات معلوم کی گئیں تو پتہ چلا ٹھگے گئے ہیں۔ٹھگ کا بہروپ ہی اتنا زبردست ہوتا ھے کہ عوام دل و جان سے لٹنے کے لیئے تیار ہوجاتے ہیں۔کہتے ہیں ووٹ تو اسی کو دینگے کیا ہو جو کھا تا ہے لگا تا بھی تو ہے۔

کہیں اسکولوں میں فیسوں کے نام پر۔ اورنج ڈے۔ پرپل ڈے کے نام پر۔ تو کہیں ہاسپٹل میں ڈلیوری اور سیزر کے نام پر تو کہیں لوڈ شیڈنگ کے نام پر تو کہیں ٹرانسپورٹ مافیا کے ہاتھوں چار سو ٹھگنے کا سلسلہ جاری ہے۔

مگر کیا کریں عام آدمی کے اندر بھی ٹھگ چھپا بیٹھا ہے کہیں دودھ میں پانی ملانا کہیں دو نمبر دوائی کا دھندا کہیں تول میں ڈنڈی تو کہیں لال مرچوں میں برا دہ، بس جس کو جتنا موقع مل جائے وہ ٹھگ لیتا ھے۔

رشتے منافقت کے نام پر ٹھگ لیتے ہیں اور دوست اعتبار اور بھروسے کے نام پر۔نجانے کیوں لگتا ہے کہ اگر ٹھگس آف پاکستان کی فلم بناؤں تو سیکوئل بنتے جائیں گے اور ٹھگ ہِٹ ہوتے جائیں گے ،رہی عوام کی بات وہ عادی ہو چکے ہیں ۔ بس ٹھگ کا جال نیا ہونا چاہیے ۔وہ پھنسنے کے لئیے ہر گھڑی تیار ھیں۔

۔

 نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ