فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر525

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر525
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر525

  

اگر کسی لکھنے والے کی تحریروں کو پڑھے لکھے لوگ پڑھیں تو اس میں خود لکھنے والے کا بھی فائدہ ہے اور خلق خدا بھی اس سے فیض حاصل کرتی ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ یہ مضمون اہل علم اور صاحب ذوق حضرات بھی مطالعہ کرتے ہیں اور اس قدر باریک بینی سے مطالعہ کرتے ہیں کہ معمولی سے معمولی غلطی بھی ان کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوتی لہٰذا وہ فوراً تصحیح کر دیتے ہیں۔ آپ نے ’’شیر آیا، شیر آیا دوڑنا‘‘ کا قصہ تو سنا ہو گا۔ وہ یوں ہے کہ کسی گاؤں میں ایک شریر لڑکا رہا کرتا تھا۔ لوگوں کو حیران و پریشان کرنے میں اس کو لطف آتا تھا۔ وہ ہر دوسرے تیسرے دن قریبی ٹیلے پر چڑھ کر بھاگم بھاگ گاؤں میں آ کر شور مچاتا تھا کہ وہاں جنگل میں ایک شیر آ گیا ہے۔ جان بچا کر بھاگو۔ گاؤں والے پریشان ہو کر بھاگ کھڑے ہوتے تھے۔ بعد میں انہیں پتا چلتا تھا کہ شیر نہیں آیا، یہ محض صاحبزادے کا ’’مذاق‘‘ ہے لیکن پھر بھی احتیاطاً وہ یہ شور سن کر گھروں سے بھاگ جاتے تھے کہ مبادا شیر سچ مچ ہی آ جائے۔ رفتہ رفتہ ان پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ شیر ویر کا دور دور تک نام و نشان نہیں ہے بلکہ اس علاقے میں شیر کی نسل ہی معدوم ہے۔

ایک روز لڑکے نے بہت زور شور سے واویلا مچایا کہ ’’شیر آ گیا۔ شیر آ گیا۔‘‘

گاؤں والوں نے اس کی فریاد پر کان تک نہیں دھرے۔ انہیں بعد معلوم ہوا کہ اس روز واقعی سچ مچ شیر آ گیا تھا اور کوئی مدد نہ ملنے کی وجہ سے وہ لڑکے کو چیڑ پھاڑ کر کھا گیا۔ اس حکایت سے داناؤں نے یہ سبق سکھایا کہ دیکھو بلاجوہ بار بار لوگوں کو ایک ہی بات نہ بتاؤ ورنہ وہ یقین کرنا چھوڑ دیں گے اور آپ کا پھر وہی حشر ہو گا جو کہ اس لڑکے کا ہوا تھا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر524پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اب محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارا معاملہ بھی اب ’’شیر آیا۔ دوڑنا‘‘ جیسا ہوتا جا رہا ہے۔ ہم اشعار میں غلطیا ں کر جاتے ہیں۔ مشہور اشعار کسی دوسرے شاعر سے منسوب کر دیتے ہیں۔ توجہ دلائی جائے تو یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ دراصل صحیح شعر اور شاعر کا نام ہمیں معلوم تھا مگر بہت عجلت میں مضمون لکھتیہیں۔ جس پر نظر ثانی کرنے کی مہلت تک نہیں ملتی۔ اس لئے بے خیالی میں (یا بد حواسی میں) کسی اور شاعر سے شعر منسوب کر دیتے ہیں۔ شروع شروع میں تو معقول اصحاب نے ہمارے اس عذر کو تسلیم کر کے غلطی کو درگزر کر دیا۔ البتہ تصحیح کا اعادہ نہ ہوا مگر کہاں تک کوئی یہ عذر تسلیم کرے۔ آخر تنگ آ کر لوگوں نے ہمیں سچ مچ ٹوکنا شروع کر دیا۔ غلطیاں بھی درست کرتے ہیں اور شک و شبے کا اظہار بھی کر دیتے ہیں کہ آخر شک کا فائدہ دے کر کب تک بری کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر حضرت ناصر زیدی کا تازہ ترین تصحیح نامہ اور تنبیہ نامہ ملاحظہ فرمائیے۔ نفسِ مضمون کا خود ہی اندازہ ہو جائے گا۔ لکھتے ہیں۔

’’آپ کہیں گے عجب فارغ شخص ہے۔ اسے اور کوئی کام نہیں؟ کیا کروں آپ کو پڑھے بغیر بھی رہا نہیں جاتا اور پڑھتا ہوں تو آپ کی ’’عجلت میں لکھی ہوئی تحریر‘‘ میں سے اس خیال سے غلطیوں کی نشاندہی کرنا فرض سمجھتا ہوں کہ جب یہ سلسلہ کتابی صورت میں چھپے تو اس وقت تو صحیح ہو جائے۔ عجلت کا عذر یا جواز قاری کے لئے بیکار ہوتا ہے اور وہ بھی ادب کے سنجیدہ قاری کے لئے۔ غلطی تو غلطی ہے۔ عجب میں ہو یا تساہل میں۔ خیر۔ آمدم برسرِ مطلب۔ آپ نے ایک مشہور زمانہ شعر یوں درج کیا ہے۔

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماریِ دل نے آخر کام تمام کیا

اور پھر یوں تمہید باندھی ہے کہ ’’متذکرہ بالا شعر فانی بد ایونی کا خوبصورت کلام ہے جو زندگی بھر حزن و ملال اور مایوسی کا شکار رہے اور مجسم اس کی تصویر بن کر رہ گئے تھے۔‘‘

اس طویل اقتباس نے جو ظاہر ہے کہ فانی ہی کے کوائف پر مبنی ہے یہ امکان بھی نہیں چھوڑا کہ آپ کہہ سکیں۔ کمپوزر نے میر کو فانی بنا دیا ہو گا وغیرہ۔ شعر مذکورہ بالا فانی بد ایونی کا ہرگز نہیں ’’خدائے سخن‘‘ میر تقی میر کا ہے۔ میر کی اسی غزل کا یہ مقطع بھی مشہور ہے۔

میر کے دن و مذہب کو کیا پوچھو ہو تم ان نے تو قشقہ کھینچا، دیر میں بیٹھا، کب کا ترک اسلام کیا

اسی خطہ میں اس شمارے میں ایک جگہ آپ نے لکھا ہے کہ میر انیس کے بقول۔

وہ حبس تھا کہ لو کی دعا مانگتے تھے لوگ

یہ میر انیس نے ہرگز نہیں کہا، یہ ارشاد ہے حضرت جوش ملیح آبادی کا۔ صحیح شعر ملاحظہ ہو۔

اب بوئے گل نہ بادِ صبا مانگتے ہیں لوگ

وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ

ناصر زیدی صاحب کا فرمانا بالکل بجا ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ میر انیس، جوش ملیح آبادی اور فانی بد ایونی کی یہ غزلیں ہمیں بچپن ہی سے یاد ہیں۔ اب حافظہ لاکھ جواب دے جائے یہ اشعار تو جیسے ذہن پر نقش ہو کر رہ گئے ہیں۔ اب اسے آپ عجلت کی جگہ غلط فہمی سمجھ لیجئے یا پھر اسے کچھ اور نام دے دیجئے۔ انسان غلطی کا پُتلا ہے۔ ہم بھی ان ہی پتلوں میں سے ایک ہیں۔ لوگ غلطیاں نکالتے رہیں مگر بقول فیض۔

ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے۔

شاید آپ کہیں گے کہ بھائی یہ کس قسم کی پرورش کی جا رہی ہے تو حضرت پرورش کرنے والے بھی غلطیاں کرتے ہیں پھر وہی غالب کہ۔۔۔

غلطی ہائے مضامیں مت پوچھ

ناصر زیدی صاحب نے اس کوتاہی کی جانب بھی متوکہ کیا ہے کہ حضرت کیفی اعظمی کا اصل نام سید اختر حسین رضوی لکھا ہے۔ ان کا نام اطہر تھا۔ اس ضمن میں بھی اعترافِ جرم کر لیتے ہیں مگر ہم نے پچھلے دنوں میں اختر حسین ہی سنا اور پڑھا مگر یہ بھی عذر گناہ بد تر از گناہ سمجھ لیجئے۔ ہم یہ لکھنا بھی بھول گئے تھے کہ بھارتی حکومت نے کیفی اعظمی کو سب سے بڑا اعزاز ’’پدم شری‘‘ دیا تھا جو انہوں نے اردو کی حمایت میں احتجاجاً بھارتی حکومت کے اردو دشمن رویے کی وجہ سے واپس کر دیا تھا۔ یہ واقعی بہت بڑی بات ہے۔ وہ بھی آج کے دور میں جبکہ لوگ چھوٹے موٹے سرکاری اعزازات حاصل کرنے کے لئے بھی ہزار پاپڑ بیلتے ہیں۔ مگر دیکھئے صاحب۔ ہم حضرت کیفی اعظمی کی مکمل سوانح تو لکھ نہیں رہے تھے۔ ان کے تذکرے میں اور بھی بہت سی باتیں لکھنے سے رہ گئی ہیں مگر کہاں تک لکھیں۔

ایک تازہ خط میں ناصر صاحب نے۔۔۔

گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھئے

جو لفظ کہ غالب میرے اشعار میں آوے

کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ شعر بالکل صحیح اسی طرح ہے اور وزن میں ہے۔ طلسم میں الف متصل ہے۔ یہ وزن میں تقطیع میں ’’طلس مس‘‘ آتا ہے جو جائز ہے۔ ہم اپنی ’’بے وزنی‘‘ کا پہلے ہی اعتراف کر چکے ہیں۔ تمام دیگر حضرات سے بھی یہی عرض کر سکتے ہیں کہ۔۔۔

بجا کہتے ہو سچ کہتے ہو، پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو

جن دنوں ہم میرٹھ میں میٹرک کا امتحان دے رہے تھے تو اپنے شوق میں اردو کے شعراء کے دیوان کھنگال بیٹھے تھے اور بے شمار اشعار زبانی یاد تھے۔ اردو کے پرچے میں جب لکھنے بیٹھے تو قلم تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لیتا تھا پھر وہی عجلت یعنی ’’وقت کم اور مقابلہ سخت‘‘ والا معاملہ تھا اس لئے بے شمار اشعار لکھ ڈالے اور غلطی کے احتمال کے پیشِ نظر شاعر کا نام لکھنے سے گریز کرتے ہوئے صرف یہی لکھ دیا کہ ’’بقول شاعر۔۔۔‘‘

ممتحن پر ہماری قابلیت کا ایسا رعب پڑا کہ اس پرچے میں سو میں سے 90 نمبر بخش دیئے۔

اب ہم سوچتے ہیں کہ روز روز کی غلطیوں سے بچنے کے لئے ہم بھی ہر بار شاعر کا نام لکھنے کی بجائے ’’بقول شاعر‘‘ لکھ کر گزارہ کریں گے اور پڑھنے والوں سے پورے نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

رہا سوال کیفی اعظمی کا تو مرحوم ہر اعتبار سے بہت بڑے تھے۔ وہ دور ہی بڑے قد آور لوگوں کا تھا۔ جس کو دیکھئے باون گز کا۔ اب تو ہر طرف بالشیے ہی نظر آتے ہیں۔ جگر صاحب نے نئی نسلوں کے بارے میں ہی کہا ہے۔

جہل خرد نے دن یہ دکھائے

گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے

جب کہ بیان کر چکے ہیں کہ فلمی الف لیلہ پڑھنے والوں میں سے کئی حضرات و خواتین خطوط یا ٹیلی فون کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا اور حسبِ ذیل گفتگو ہوئی۔

’’ہیلو‘‘

’’جی ہیلو‘‘

’’آپ آفاقی صاحب تو نہیں بول رہے؟‘‘

’’خوب پہچانا۔ میں ہی بول رہا ہوں۔‘‘

’’سنئے۔ آپ کی فلمی الف لیلہ میں بڑے شوق سے پڑھتا ہوں مگر یہ بتائیے کہ آپ نئی پرانی فلمی پریوں کے واقعات اتنی تفصیل سے کیوں لکھتے ہیں؟‘‘

’’ہم تو فلمی دیووں کے واقعات بھی تفصیل سے لکھتے ہیں۔‘‘

’’مگر عورتوں پر آپ زیادہ مہربان نظر آتے ہیں۔ طرح طرح سے ان کی داستانیں بیان کرتے ہیں۔ بہت سے غیر ضروری واقعات اور خواہ مخواہ کی تفصیلات بھی لکھ ڈالتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ پڑھنے والوں کا وقت ضائع ہو گا۔‘‘

’’سنئے صاحب! اگر آپ کو پسند نہیں ہے تو پڑھتے کیوں ہیں؟‘‘

’’جی وقت گزاری کے لئے۔ ستر بہتر سال کا ریٹائرڈ آدمی ہوں۔ یہ نہ پڑھوں تو کیا پڑھوں؟‘‘

’’یہ تو آپ کے اللہ اللہ کرنے کے دن ہیں۔ قرآن پاک کی تلاوت کیجئے۔ صحیح بخاری پڑھئے۔‘‘

’’وہ تو عبادت کے خیال سے پڑھتا ہوں۔ تفریح طبع کے لئے بھی تو کچھ پڑھنا چاہیے۔‘‘

’’آپ کے اللہ اللہ کرنے کے دن ہیں۔ اللہ اللہ کیا کیجئے۔ اللہ سے لو لگایئے۔‘‘

’’وہ بھی کرتا ہوں مگر فارغ وقت میں کیا کروں؟‘‘

’’آپ بھی صحیح فرماتے ہیں۔ عمر کا یہی تقاضا ہے۔۔۔‘‘

وہ بات کاٹ کر بولے ’’عمر کی بات نہ کیجئے۔ جو یہ کہتے ہیں کہ عمر بڑھنے سے جوش و جذبات گھٹ جاتے ہیں وہ جھوٹے بولتے ہیں۔ موقع ملے تو آج بھی عشق کرنے سے باز نہ آؤں۔ جوش ملیح آبادی کی طرح۔‘‘

’’انہوں نے تو جوانی میں بھی عشق کیے تھے بلکہ بچپن ہی سے عشق و عاشقی کا آغاز کر دیا تھا اور ہمیشہ کامیاب رہے۔‘‘

’’وہ خوش بخش انسان تھے۔ افسوس کہ ہمیں تو ایک عشق بھی راس نہ آیا۔ مجبوراً شادی کر لی۔‘‘

آپ کو عشق کرنے پر افسوس ہے یا اس کے ناکام ہونے پر؟‘‘

’’دونوں پر۔ اچھا خدا حافظ۔‘‘

انہوں نے فون بند کر دیا۔ ہم انہیں حضرت حفیظ جالندھری کا شعر سنانا چاہ رہے تھے مگر وہ بھی غالباً عجلت میں تھے۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ