سونا بنانے کا وہ اصلی فارمولا جس کی تلاش میں اک دنیاہلکان ہوئے پھرتی ہے مگر لاہور کے ایک مردکامل نے چند منٹوں میں اسکا طریقہ سب کو سمجھا دیا ،آپ بھی یہ قیمتی ترین فارمولا جانئے 

سونا بنانے کا وہ اصلی فارمولا جس کی تلاش میں اک دنیاہلکان ہوئے پھرتی ہے مگر ...
سونا بنانے کا وہ اصلی فارمولا جس کی تلاش میں اک دنیاہلکان ہوئے پھرتی ہے مگر لاہور کے ایک مردکامل نے چند منٹوں میں اسکا طریقہ سب کو سمجھا دیا ،آپ بھی یہ قیمتی ترین فارمولا جانئے 

  

لاہور(ایس چودھری) سونا بنانے کی خواہش میں صدیوں سے اک دنیا ہلکان ہوئے پھرتی ہے لیکن کوئی بھی سونا بنانے کا حقیقی طریقہ نہیں سمجھ پاتا ،اگر کوئی اس راز کو پالیتا ہے تو کسی کو بیان نہیں کرتا ۔لیکن اللہ کے ایک بزرگ نے کیمیا گری کا فن سیکھنے میں عمر رائیگاں کرنے والے ایک ہندو کے مطالبے پر مریدین کے سامنے سونا بناکر دیکھادیا تھا ۔ یہ حضرت عبداللہ شاہ لاہوریؒ تھے جن کاشمار اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں میں ہوتاہے۔ آپ کامزارمبارک مزنگ لاہور میں واقع ہے۔ آپ بچوں کو درس قرآن دیا کرتے تھے۔

معروف ہے کہ آپؒ نے سونابنانے کا طریقہ بیان کرکے ایک ہندو کو مسلمان کردیا تھا ۔ کتاب مدینۃالاولیاء بزرگان لاہور میں آپؒ کے ایک شاگرد شیخ مراد بخش نے آپؒ کی اس کرامت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایاہے کہ ایک ہندو آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے علم کیمیا کی جستجو ہے اور میں نے کئی سال اس کام میں ضائع کردیئے ہیں لیکن ابھی تک مجھے ذرا بھر بھی کامیابی نہیں ہوئی۔ اب میرے دل میں یہ وہم پیدا ہوگیا ہے کہ پتہ نہیں حقیقت میں یہ علم ہے بھی یا نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپؒ اس معاملے میں میری مدد فرمائیں کہ کیا واقعی یہ علم ہے یا نہیں تاکہ میں اپنا باقی وقت ضائع نہ کروں۔ 

حضرت عبداللہ شاہؒ نے اس سے فرمایا کہ تم ایک پیسے کی گندھک اور سم الفار لے کر آؤ اور چند تانبے کے سکے بھی لے آنا۔ آپ کی یہ بات سن کر وہ ہندوبھاگا ہوا گیا اور یہ سب چیزیں لے کر فوراً ہی واپس آگیا۔ شیخ مراد بخش بیان کرتے ہیں کہ جب وہ ہندو چیزیں لے کر آگیا تو حضرت عبداللہ شاہؒ نے مجھ سے فرمایا’’ جس مٹی کے پیالے میں ہم کھانا کھاتے ہیں اسے لے آؤ اور تانبے کے سکّے اس میں ڈال کر اوپر گندھک اور سم الفار ڈال دو‘‘

آپؒ کے فرمانے کے مطابق میں نے عمل کیا۔ اس کے بعد آپؒ نے فرمایا کہ اب ان میں کوئلے بھر کر آگ جلادو۔ چنانچہ میں نے پیالے میں کوئلے بھر کر آگ لگادی۔ 

تھوڑی دیر کے بعد حضرت عبداللہ شاہؒ نے تانبے کے سکے ایک چمٹے سے پکڑ کر آگ سے باہر نکالے اور زمین پر رکھ دئیے ۔وہ سکے سرخ ہوچکے تھے۔ آپؒ نے اس ہندو سے فرمایا کہ ان پر ہتھوڑے سے ضرب لگاؤ۔ ہندو نے جب ان گرم سکّوں پر ضرب لگائی تو سکّوں کے اوپر سے سیاہ برادہ اتر گیا اور نیچے سے سرخی مائل چمکدار خالص سونا نکل آیا۔ یہ دیکھ کر ہندو کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے راہ ہدایت پر گامزن ہونے کی توفیق عطا فرمائی ۔وہ سلام کی عظمت اور سچائی کا دل سے قائل ہوگیا اور اسی وقت آپؒ کے روبرو کلمہ اسلام پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا اور اسلام قبول کر کے آپ کے حلقہ ارادت میں شامل ہوگیا۔ 

اس واقعہ کے حوالے سے حضرت عبداللہ شاہؒ کے ایک اور شاگرد شیخ عمر بخش فرماتے ہیں کہ جب ہندو نے اسلام قبول کیا تو اتفاق سے میں بھی اس وقت وہاں پر موجود تھا۔ اس وقت میری عمر تقریباً بارہ برس کی تھی ۔یہ دیکھ کر میرے دل میں یہ شوق پیدا ہوا کہ میں بھی سونا بناتا ہوں۔ یہ تو بالکل آسان سا کام ہے۔ چنانچہ جب میں شام کو اپنے گھر واپس گیا تو گھر والوں سے پیسے لے کر بازار سے وہی چیزیں یعنی گندھک ، سم الفار اور تانبے کے سکّے لے کر آیا اور جیسا کہ دیکھا تھا بالکل اسی طرح ایک پیالے میں یہی چیزیں ڈال کر آگ لگا دی۔ جب سکّے سرخ ہونے پر باہر نکالے تو دیکھا کہ سکّے بالکل سیاہ اور ضائع ہوچکے ہیں۔ مجھے بڑی شرمندگی ہوئی اور میں نے اس بات کا تذکرہ کسی سے بھی نہ کیا۔ 

اگلے روز صبح کے وقت جب میں حضرت عبداللہ شاہ ؒ کی خدمت میں حاضر ہوا تو سبق پڑھنے کے لئے آپؒ کے سامنے بیٹھا تو آپؒ میری طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ پھر مجھ سے فرمانے لگے ’’رات کو تم نے اپنے گھر میں کیمیا گری کرنا چاہی لیکن فکر نہ کرو۔ انشاء اللہ تعالیٰ چند برسوں میں میں تمہیں ایسی کیمیا گری سکھاؤں گا کہ تم اس کیمیا گری کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو گے‘‘ 

مزید : روشن کرنیں