پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی کا سینیٹ انتخاب کیلئے ووٹ خریدنے کا اعتراف,الیکشن کمیشن نے 4 اکتوبر کو طلب کر لیا

پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی کا سینیٹ انتخاب کیلئے ووٹ خریدنے کا ...
پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی کا سینیٹ انتخاب کیلئے ووٹ خریدنے کا اعتراف,الیکشن کمیشن نے 4 اکتوبر کو طلب کر لیا

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) رکن صوبائی اسمبلی تیمور تالپور نے سینیٹ الیکش میں پیپلزپارٹی کی طرف سے ووٹ خریدنے کا اعتراف کرلیا،اس معاملے پر الیکشن کمیشن بھی ایکشن میں آگئی اور تیمور تالپور کو 4اکتوبر کو طلب کر لیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سندھ اسمبلی میں ہونے والی بجٹ بحث میں پیپلزپارٹی کے تیمور تالپور نے جوش خطابت میں سینیٹ الیکشن میں پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے ووٹ خریدنے کا اعتراف کرلیا، بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے تیمور تالپور کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن میں جس ممبر نے پیپلزپارٹی کو ووٹ بیچا وہ آج بھی ایوان میں بیٹھا ہے جب کہ نصرت سحر عباسی کے شوہر کو بھی پیپلزپارٹی نے ہی سرکاری ملازمت دی تھی۔

تیمور تالپور کے اس جملے پر اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا تاہم وہ مسلسل بولتے رہے جی ڈی اے اور پی ٹی آئی کے ارکان اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی کی قیادت میں ایوان سے احتجاجا واک آوٹ کرگئے،دوسری جانب سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے ووٹ خریدنے سے متعلق تیمور تالپور کا اعترافی بیان بمعہ ویڈیو الیکشن کمیشن میں پیش کرنے کا اعلان کردیا۔

تیمور تالپور کے اس بیان پر الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی ایکشن میں آگئی اور تیمور تالپور کو 4 اکتوبر کو ذاتی حیثیت یا وکیل پیش ہونے کا حکم دے دیا ، الیکشن کمیشن نے تیمورتالپورکومتعلقہ دستاویزات کےساتھ پیش ہونےکی ہدایت کی ہے ،اگر تیمور تالپور پیش نہ ہوئے تو ان کے پیش نہ ہونے پرفیصلہ سنایاجائےگا۔

اس حوالے سے سندھ اسمبلی اجلاس سے واک آو¿ٹ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے تیمور تالپور نے ایوان کے فلور پر ووٹ خریدنے کا اعتراف کیا ہے ہم چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تیمور تالپور کے اعترافی بیان کا نوٹس لیں۔

مزید : قومی /علاقائی /سندھ /کراچی