ملا رسول کیساتھ فحش فلم بنانے والی لڑکی کو گرفتار کر لیا گیا

ملا رسول کیساتھ فحش فلم بنانے والی لڑکی کو گرفتار کر لیا گیا
ملا رسول کیساتھ فحش فلم بنانے والی لڑکی کو گرفتار کر لیا گیا

  

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر افغانستان کے نام نہاد حکیم ملا رسول اور ایک خاتون کی فحش ویڈیو گردش کرتی رہی تھی۔ اب اس خاتون کی شناخت کر لی گئی ہے اور اسے گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق یہ خاتون کوئی اور نہیں بلکہ افغان صوبے فریاب کی ایک پولیس آفیسر ہے۔ ویڈیو کے ذریعے اس کے ساتھی اہلکاروں نے اسے پہچانا جس کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا۔ ملا رسول ایک روایتی حکیم ہے جو علاج کے لیے آنے والی خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا اور ان کی ویڈیوز بنا لیتا تھا اور پھر ان ویڈیوز کے ذریعے انہیں بلیک میل کرکے دیگر مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کرتا تھا۔ مبینہ طور پر ملارسول کو اس گھناﺅنے دھندے میں زیرحراست خاتون پولیس آفیسر کی مدد حاصل تھی۔ اس خاتون کی نشاندہی پرایک اور خاتون پولیس آفیسر کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اس خاتون آفیسر نے تفتیش میں بتایا ہے کہ ”جب میرے ساتھ جنسی تعلق کی ویڈیو بنائی گئی تو میں ہوش میں نہیں تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ مجھے کوئی نشہ آور چیز دی گئی تھی۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ میری ویڈیو بنائی جا رہی ہے۔“ بتایا گیا ہے کہ مبینہ طور پر یہ دونوں عورتیں دیگر خواتین کو علاج کے لیے ملا رسول کے پاس جانے کی ترغیب دیتی تھیں۔ خاص طور پر بانجھ پن کی مریض خواتین ان کا نشانہ بنتی رہیں۔ یہ خود عورتوں کو وہاں لے کر جاتیں اور ویڈیو بنانے میں ملا رسول کی مدد کرتی تھیں۔ملا رسول ان ویڈیوز کے منظرعام پر آنے کے بعد سے مفرور ہے۔ قبائلی عمائدین کے جرگے نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا ہے اور صوبے کے گورنر نے اس کی مخبری کرنے والے شخص کو اپنی کار انعام میں دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر ان دونوں خواتین کے خلاف جرم ثابت ہو گیا تو انہیں جیل کی سزا ہو سکتی ہے۔

مزید : بین الاقوامی