’’ حکمران کشکول توڑنا چاہتے ہیں تو فوری طور پر ۔۔۔‘‘حافظ سعید نے وزیر اعظم عمران خان کو پھر بڑا مشورہ دے دیا

’’ حکمران کشکول توڑنا چاہتے ہیں تو فوری طور پر ۔۔۔‘‘حافظ سعید نے وزیر اعظم ...
’’ حکمران کشکول توڑنا چاہتے ہیں تو فوری طور پر ۔۔۔‘‘حافظ سعید نے وزیر اعظم عمران خان کو پھر بڑا مشورہ دے دیا

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ حکمران کشکول توڑنا چاہتے ہیں تو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے سودی قرضے لینا چھوڑ دیں،پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے والی بات محض سیاسی نعرہ نہیں ہونی چاہیے، تمام فوجداری اور دیوانی قوانین قرآن و سنت کے مطابق بنائے جائیں،عملی طور پر اسلامی شریعت نافذ کر کے مسلم معاشرہ تشکیل دیا جائے،ملک کو مضبوط و مستحکم بنانے کیلئے جرا تمندانہ پالیسیاں ترتیب دینا ہوں گی،اغیار کی غلامی سے ملک کا بہت نقصان ہوا، یہ سلسلہ بند کرنے کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق جامع مسجد القادسیہ میں ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں بھی قبائلی نظام موجود تھے لیکن جب نبی اکرم ﷺ مدینہ آئے تو انہوں نے پچھلے سب قوانین ختم کر کے اسلامی شریعت کی بنیاد پر سب کوجمع کیا، جب دین اسلام نافذ ہوتا ہے تو آسمانوں سے رحمتیں و برکتیں نازل ہو تی ہیں،سعودی عرب اس وقت پاکستان کی معیشت بہتر بنانے کیلئے مدد کر رہا ہے،حکمران اغیار کی غلامی چھوڑکر جرا ت و استقامت کا مظاہرہ کریں اور مضبوط پالیسیاں ترتیب دیں اللہ تعالیٰ مزید راستے کھولے گا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کر کے حاصل کیا گیا،ہمیں اس ملک میں کتاب و سنت سے الگ قوانین نہیں بنانے،حکمرانوں و سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے حلف کی پاسداری کریں،فوجداری اور دیوانی قوانین قرآن و سنت کے مطابق بنا دیے جائیں تو قانون دان طبقہ انگریزی قانون کی طرح قرآن و حدیث کابھی مطالعہ کرے گا اور اس سے بہت سے معاملات کی اصلاح ہو گی۔حافظ محمد سعید نے کہاکہ درخت کا پھیلاؤ خواہ کتنا ہی کیوں نہ ہو اگر جڑ مضبوط نہ ہو تو وہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا،لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ قوموں کیلئے آزادی کا کلمہ ہے، یہ کلمہ پڑھنے والے کسی مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ اللہ رب العزت کی بجائے اغیار کے احکامات تسلیم کرے۔ انہوں نے کہاکہ سیاستدانوں و حکمرانوں نے ماضی میں جس طرح بیرونی قوتوں کی خوشنودی کیلئے پالیسیاں مرتب کیں اس سے ملک کا بہت نقصان ہوا،اگر موجودہ حکمران بھی سابقہ پالیسیوں پر عمل پیرا رہے تواس کا نتیجہ مختلف نہیں ہو گا،ضرورت اس امر کی ہے کہ جس مقصد کیلئے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا اسے پورا کرنے کیلئے کردارادا کیا جائے۔

مزید : قومی