’سردیوں میں بچے کو جنم دینے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ۔۔۔‘ سائنسدانوں نے سردیوں میں ماں بننے والی خواتین کو وارننگ دے دی

’سردیوں میں بچے کو جنم دینے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ۔۔۔‘ سائنسدانوں نے ...
’سردیوں میں بچے کو جنم دینے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ۔۔۔‘ سائنسدانوں نے سردیوں میں ماں بننے والی خواتین کو وارننگ دے دی

  

سان ہوزے(نیوز ڈیسک)بچے کی پیدائش موسم سرما یا گرما میں ہونے کا اثر اُس کی صحت اور نشوونما پر مرتب ہونے کے متعلق تو اس سے پہلے بھی تحقیقات سامنے آ چکی ہیں مگر پہلی بار سائنسدانوں نے یہ حیرت انگیز انکشاف بھی کر دیا ہے کہ سردیوں میں بچے کو جنم دینے والی خواتین کو بعداز پیدائش ڈپریشن کا خدشہ زیادہ ہوتاہے۔ جن خواتین کے حمل کے آخری تین ماہ سردی کے موسم میں آجاتے ہیں ان میں بچے کو جنم دینے کے بعد ذہنی دباﺅ اور ڈپریشن کا خطرہ 29 فیصد زیادہ بتایا گیا ہے۔

میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سورج کی روشنی ہمارے جسم میں سیروٹونن ہارمون پیدا کرتی ہے جو ہمارے ذہن میں سکون، اطمینان اور خوشی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ سردی کے موسم میں سورج کی روشنی کی نسبتاً کم دستیابی کی وجہ سے اس ہارمون کی افزائش میں کمی ہوجاتی ہے۔ حاملہ خواتین کے لئے سورج کی روشنی سے محرومی سیروٹونن ہارمون کی اور بھی زیادہ کمی کا سبب بنتی ہے جس کے باعث انہیں بچے کی پیدائش کے بعد ڈپریشن کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یونیورسٹی آف سان ہوزے کی اس تحقیق میں 293 خواتین کے ہاں بچے کی پیدائش کے بعد ڈپریشن کی کیفیت کا مطالعہ کیا گیا اور یہ تحقیق سائنسی جریدے ’جرنل آف بہیویرل میڈیسن‘ میں شائع کی گئی ہے۔

مزید : تعلیم و صحت