وہ ملک جہاں 40 سال سے کم عمر آدھے مرد کنوارے ہیں، کبھی کسی لڑکی کو ہاتھ بھی نہیں لگایا کیونکہ۔۔۔

وہ ملک جہاں 40 سال سے کم عمر آدھے مرد کنوارے ہیں، کبھی کسی لڑکی کو ہاتھ بھی ...
وہ ملک جہاں 40 سال سے کم عمر آدھے مرد کنوارے ہیں، کبھی کسی لڑکی کو ہاتھ بھی نہیں لگایا کیونکہ۔۔۔

  

ٹوکیو(نیوز ڈیسک)جاپان کا نام جب بھی سُنا دیانتداری، محنت، ترقی اور کامیابی کے حوالے سے سُنا، مگر جاپانی نوجوان اس ترقی یافتہ طرز زندگی کی کیا قیمت ادا کر رہے ہیں، یہ جان کر آپ کا دل دکھی ہو جائے گا۔ جاپان وہ ملک ہے جہاں 40 سال سے کم عمر مردوں میں سے تقریباً آدھے ایسے ہیں جن کی زندگی میں کبھی کوئی عورت نہیں آئی۔ جاپانی نوجوانوں کی اس غیر معمولی تنہائی کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ کیرئیر بنانے اور مستحکم مالی مقام حاصل کرنے کے لئے انہیں شب و روز محنت مشقت کرتے گزارنا پڑتے ہیں اور ایسے میں ان کے پاس رومانوی تعلقات کیلئے فرصت ہی نہیں ہے۔ یہ نوجوان جیتی جاگتی خواتین کے ساتھ رشتہ استوار کرنے کی بجائے انٹرنیٹ اور روبوٹس کی دنیا سے تفریح حاصل کر کے گزارا کر رہے ہیں۔

جاپان کے 2015 قومی فرٹیلیٹی سروے میں پہلی بار یہ بات سامنے آئی کہ غیر شادی شدہ خواتین میں سے 44 فیصد اور غیر شادی شدہ مردوں میں سے تقریباً 42 فیصد کنوارے تھے۔ اس تحقیق میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ 18سے 34سال کی عمر کی تقریباً 60 فیصد خواتین تنہائی کی زندگی گزار رہیں تھی جبکہ تقریباً 70فیصد مرد بھی تنہا تھے۔ جاپان میں شرح پیدائش بھی غیر معمولی حد تک کم ہوچکی ہے اور اب حکومت ٹی وی اور اخبارات میں اشتہارات دے کر لوگوں کو بچے پیدا کرنے کی جانب مائل کر رہی ہے۔

ماہرین سماجیات کا کہنا ہے کہ جاپان کے جدید معاشرے میں نوجوانوں پر اچھے روز کے حصول اور اچھی آمدن کیلئے بے پناہ دباﺅ ہے۔ انہیں شب و روز کام کرنا پڑتا ہے اور ملازمت کا تحفظ بھی نہیں ہے، جس کی وجہ سے نوجوانوں کی بڑی تعداد ذہنی دباﺅ کا شکار ہے۔ ایسی صورتحال میں ان سے یہ توقع کرنا کہ وہ دوستی اور رومانوی تعلقات کیلئے وقت نکال سکیں گے ، ذرا مشکل بات ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس