وہ پاکستانی شہری جن کی بیویوں کو چینی حکومت نے اغوا کرلیا کیونکہ۔۔۔

وہ پاکستانی شہری جن کی بیویوں کو چینی حکومت نے اغوا کرلیا کیونکہ۔۔۔
وہ پاکستانی شہری جن کی بیویوں کو چینی حکومت نے اغوا کرلیا کیونکہ۔۔۔

  

بیجنگ (نیوز ڈیسک) اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ چین ہمارا بہت اچھا دوست ہے مگر کچھ ایسے مسائل بھی ہیں جن کے بارے میں شاید اسی دوستانہ تعلق کی وجہ سے کھل کر بات نہیں کی جا رہی۔ ایک ایسا ہی مسئلہ اُن پاکستانی شہریوں کا ہے جنہوں نے چین میں شادیاں کیں لیکن اب اُن کے بیوی بچے چین میں پھنس کر رہ گئے ہیں، اُن کی پاکستان آمد کسی طور ممکن نہیں ہو رہی۔

یہ بدقسمت شہری وہ پاکستانی بزنس مین ہیں جنہوں نے گزشتہ سالوں کے دوران چین میں شادیاں کیں اور ان کی بیویوں میں سے بڑی تعداد کا تعلق سنکیانگ کے علاقے سے ہے۔اب ان پاکستانی شہریوں کی ایک قابل ذکر تعداد بیجنگ پہنچی ہے اور پاکستانی سفارتخانے اور چینی حکام سے مدد کی درخواست کی جا رہی ہے تا کہ یہ اپنے اہلخانہ کو پاکستان لاسکیں۔

چین میں صورتحال کچھ ایسی ہے کہ صوبہ سنکیانگ کے یغور مسلمانوں کی بڑی تعداد کو اصلاحی تربیت اور تعلیم نو کے پروگراموں کے تحت مخصوص مراکز میں رکھا گیا ہے۔ بہت سے ایسے ہیں جنہیں اُن کے گھرو ںتک محدود کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی شہریوں کے چینی اہلخانہ بھی زیادہ تر حکومت کے انہی اصلاحی تربیتی و تعلیم نو کے پراجیکٹس کے تحت ہیں اور ان کے لئے آزادانہ طور پر سفر کرنا ممکن نہیں رہا۔

اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق مرزا عمران بیگ، جو کہ لاہور اور چینی شہر ارومکی کے درمیان تجارت کرتے ہیں،نے بتایا کہ اُن کے چینی اہلخانہ مئی تا جون 2017ءکے عرصے میں ایک تعلیم نو کیمپ میں مقیم رہے اور اگرچہ اب وہ تعلیم نو کیمپ میں نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود باچو کاﺅنٹی میں واقع اپنے گھر تک محدود ہیں اور علاقہ چھوڑنے کی انہیں اجازت نہیں ہے۔ مرزا عمران کا کہنا تھا کہ ان کی 33 سالہ اہلیہ اور چار سالہ بیٹا دونوں چینی شہریت رکھتے ہیں، لیکن پاسپورٹ نہیں مل رہا اور اسی وجہ سے ان کے لئے پاکستان آنا ممکن نہیں ہورہا۔ تاحال ان کے مسائل کا کوئی حل سامنے نہیں آسکا۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے بزنس مین میاں شاہد الیاس نے بتایا کہ وہ اب تک 38 ایسے کیسز کی معلومات حاصل کرچکے ہیں کہ جن میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے چینی بیوی بچے اس وقت چین میں پھنسے ہوئے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے کل کیس 300 سے بھی زیادہ ہوسکتے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی