یہ پاکستانی خاتون صرف 3 روپے میں ایک وقت کا کھانا بیچتی ہے، لیکن کیوں اور کیسے؟ جان کر ہر پاکستانی کا دل کرے گا کھڑے ہوکر انہیں سلیوٹ کرے

یہ پاکستانی خاتون صرف 3 روپے میں ایک وقت کا کھانا بیچتی ہے، لیکن کیوں اور ...
یہ پاکستانی خاتون صرف 3 روپے میں ایک وقت کا کھانا بیچتی ہے، لیکن کیوں اور کیسے؟ جان کر ہر پاکستانی کا دل کرے گا کھڑے ہوکر انہیں سلیوٹ کرے

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان ایک غریب ملک ہے جہاں کروڑوں کی تعداد میں لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہاں ایک جانب وہ سفاک حکمران ہیں جنہوں نے عوام سے جینے کا حق بھی چھین لیا، مگر دوسری جانب اسی پاکستان میں ایسے فرشتہ صفت لوگ بھی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی ان غریبوں کے وقف کر دی ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی اس نیک سیرت خاتون سے ملئے جو صرف 3 روپے میں ایک وقت کا کھانا فروخت کرتی ہے۔ جی ہاں، صرف 3 روپے میں، اور ہر روز ہزاروں کی تعداد میں غریب لوگ اس سے کھانا لے کر جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں یہ خاتون اپنا تعارف اور اپنی حیرتناک کاوش کا پس منظر بیان کرتے ہوئے بتاتی ہیں:

”میرا نام پروین سعید ہے۔ میری پیدائش کراچی میں ہوئی۔ میں نے کراچی یونیورسٹی سے جرنلزم میں ماسٹرز کیا ہوا ہے۔ سوچا تو یہ تھا کہ جرنلزم کی فیلڈ میں ہی آگے جاﺅں گی لیکن اللہ نے میرے لئے کوئی اور کام سوچا ہوا تھا۔ ”کھانا گھر“ کی شروعات 2002ءمیں اس وقت ہوئی تھی جب ایک ماں نے اپنے دو بچوں کو جو کہ دو دن سے بھوکے تھے ماردیا تھا۔ میرے ضمیر نے یہ گوارہ نہیں کیا کہ میں اس بات کو نظر انداز کردوں۔ پھر میں نے کھانا گھر قائم کیا اور آج تک اسی کام میں ہوں۔

کھانا گھر کا جس دن آغازکیا، اس دن دو افرا نے کھانا گھر سے کھانا کھایا تھا اور آج تعداد ہزاروں میں پہنچ گئی ہے۔ اس کا اندازہ اس لئے نہیں کرسکتے کہ کبھی دو ہزار، تین ہزار ، چار ہزار بھی ہوجاتے ہیں اور گوشت والے دن زیادہ بھی ہوجاتے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ الحمدللہ روزانہ کھانا کھارہے ہیں کھانا گھر سے۔

میں نے اپنی زندگی کے 30 سال ان غریب بستیوں میں گزارے ہیں ، خواہشیں تو بہت تھیں سب کو ایک طرف کیا۔ جب اس کام میں آگئے تو اندازہ ہوا کہ زندگی کا اگر کوئی مزہ ہے تو وہ دوسروں سے محبت کرنے میں ہے، دوسروں کی خدمت کرنے میں ہے، ان کے لئے کام کرنے میں ہے۔ تین روپے رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ خرید کر کھائیں ، ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ میری دعا ہے کہ میرا ملک بہت ترقی کرے، جتنے مسائل ہیں، جتنی پریشانیاں ہیں وہ سب دور ہوجائیں اور دنیا بھر میں پاکستان کا نام ہو۔ ہماری شناخت پاکستان ہے، پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو ہم بھی نہیں۔“

بلا شبہ یہی وہ فرشتہ سیرت لوگ ہیں جن کے دم قدم سے یہ ملک قائم و دائم ہے۔ اس ملک کے حکمرانوں نے تو اسے برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، بھلا ہو ایسے بے لوث لوگوں کا جنہوں نے اپنی آسائشیں اور خوشیاں قربان کر دیں، محض اس لئے کہ تڑپتے سسکتے انسانوں کی زندگی میں کچھ آسانی اور مسرت لا سکیں۔ یہ ہمارا فخر ہیں اور ہمارے خراج عقیدت کے اصل حقدار بھی!

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /سندھ /کراچی