جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لئے تحریک انصاف حکومت کو کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں ،اپنا انتخابی وعدہ پورا کرے :سینیٹر سراج الحق

جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لئے تحریک انصاف حکومت کو کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں ...
جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لئے تحریک انصاف حکومت کو کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں ،اپنا انتخابی وعدہ پورا کرے :سینیٹر سراج الحق

  

ملتان(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ پی ٹی آئی کو وفاق اور پنجاب میں واضح اکثریت حاصل ہے اور دونوں جگہ پی ٹی آئی کی حکومت ہے اب اسے جنوبی پنجاب کے عوام کے دیرینہ مطالبہ کو پورا کرنے میں کسی رکاوٹ کا بھی سامنا نہیں ، اس لیے حکومت کو فوری طور پر جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنادینا چاہیے یا بہاولپور صوبہ کا سٹیٹس بحال کردینا چاہیے ، پیپلزپارٹی اور نون لیگ نے بھی جنوبی پنجاب کو ایک صوبہ بنانے کے باربار وعدے کیے ہیں،پی ٹی آئی دونوں جماعتوں کو اعتماد میں لے اور جنوبی پنجاب صوبہ کے لیے آئینی ضروریات پوری کی جائیں ،پی ٹی آئی کو صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کو اپنے ابتدائی سو دنوں میں رکھنا چاہیے ، جماعت اسلامی نے پنجاب کو تین صوبوں میں تقسیم کرکے جنوبی پنجاب کو الگ صوبے کا سٹیٹس دے دیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق ملتان میں اجتماع ارکان سے خطاب اورمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت کے اپنے سروے کے مطابق پنجاب کے دس غریب اضلاع جنوبی پنجاب کے ہیں ، فاروق لغاری اور یوسف رضا گیلانی  اس علاقے سے سپیکر اور عبوری وزیراعلیٰ بھی رہے جبکہ موجودہ وزیراعلیٰ کا تعلق بھی اسی پسماندہ علاقے سے ہے مگر کسی نے بھی جنوبی پنجاب کے عوام کے مسائل کی طرف توجہ نہیں دی بلکہ وڈیروں اور جاگیرداروں نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا،آج بھی جنوبی پنجاب میں انسان اور جانور ایک ہی جگہ سے پانی پینے پر مجبور ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کے سابق صوبائی امیر ڈاکٹر سید وسیم اختر نے پنجاب اسمبلی میں اس علاقے کے عوام کی بھر پور نمائندگی کی، انہوں نے بہاولپور صوبہ کی بحالی کے لیے بڑی جرا ت سے آواز بلند کی ۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت دونوں بڑی اپوزیشن جماعتیں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی بھی صوبہ جنوبی پنجاب کی حامی ہیں اب پی ٹی آئی کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی اب جنوبی پنجاب صوبہ کے خواب کی تعبیر کا وقت آن پہنچا ہے لہٰذا پی ٹی آئی حکومت کو ان دونوں جماعتوں سے مل کر جنوبی پنجاب کے عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے اور صوبہ جنوبی پنجاب یا صوبہ بہاولپور کی بحالی کے لیے آئینی و قانونی ضروریات کو پورا کرناچاہیے ۔سینیٹر سراج الحق نے حکومت اور سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ پانامہ لیکس کے 436 ملزموں ، بنکوں سے اربوں کھربوں کے قرضے لے کر معاف کرانے والوں اور قومی خزانہ لوٹ کر بیرونی بنکوں میں منتقل کرنے والوں کے خلاف فوری کاروائی کرے ،ابھی تک پانامہ کے کیس میں صرف ایک فرد کو سزا ملی ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ دنیا امن کی پیاسی ہے لیکن مغرب اور یورپ کے کچھ انتہا پسند آزادی رائے کے نام پر عالمی امن کو تہ و بالا کرنے پر تلے ہوئے ہیں،مقدس ہستیوں کے کارٹون اور خاکے بنانا اور قرآن کی ہتک کے لیے کارٹون بنانے کے مقابلے کروانا،دنیا بھر کے ایک ارب پچھتر کروڑ مسلمانوں کی دل آزاری کرناہے،ہمارا مطالبہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے چارٹر اور معاہدے پر عمل کیا جائے ہم عالمی سطح پر ختم نبوتﷺ اور ناموس رسالتﷺ کے تحفظ کے لیے قانون سازی چاہتے ہیں،دنیا کو امن کی طرف لے جانے او ر عالمی امن کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام مذاہب اور ان مذاہب کی مقدس ہستیوں کی عزت و تکریم کے لیے اقوام متحدہ کے ذریعے قانون سازی ہو ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ روز اسلام آباد میں جیورسٹ کانفرنس کی جس میں دو سابق چیف جسٹس صاحبان ، معروف ماہرین قانون اور وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی،اب ہم بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کو اٹھانے کے لیے لندن اور جنیوا میں انٹر نیشنل جیورسٹ کانفرنسز کریں گے جس میں نامور عالمی قانون دان شرکت کریں گے اور تحفظ ناموس انبیاؑ کے لیے عالمی سطح پر قانون سازی کا مطالبہ کیا جائے گا۔

مزید : قومی /علاقائی /پنجاب /ملتان